جعلی مقابلے میں ملزم کی ہلاکت پولیس اہلکاروں کو چھ ماہ قید کا حکم
پولیس 2018ء میں ملزم اویس کو قتل اور ارشد کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا
پولیس 2018ء میں ملزم اویس کو قتل اور ارشد کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ فوٹو:فائل
سندھ ہائی کورٹ نے جعلی پولیس مقابلہ ثابت ہونے پر ملوث پولیس اہل کاروں پر 6، 6 ماہ قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں جعلی پولیس مقابلے سے متعلق سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت کی جانب سے درخواست پر فیصلہ سنادیا گیا۔ عدالت نے جعلی پولیس مقابلے میں ملوث پولیس اہل کاروں کو سزا سنادی۔ عدالت نے پولیس اہلکاروں کو 6، 6 ماہ قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔
پولیس اہلکاروں میں نارتھ ناظم آباد تھانے کے ہیڈ کانسٹبل رانا طارق، اے ایس آئی نجف علی، باغ علی اور شیر گوپانگ شامل ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ پولیس اہلکاروں نے نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں 22 اگست 2018ء کو پولیس مقابلے کا دعویٰ کیا تھا، مقابلے میں ایک ملزم اویس جعفری کو قتل اور ارشد کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم ارشد کو عمر قید کی سزا سنائی جو بعد میں ہائی کورٹ سے اپیل میں بری ہوگیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ میں جعلی پولیس مقابلے سے متعلق سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت کی جانب سے درخواست پر فیصلہ سنادیا گیا۔ عدالت نے جعلی پولیس مقابلے میں ملوث پولیس اہل کاروں کو سزا سنادی۔ عدالت نے پولیس اہلکاروں کو 6، 6 ماہ قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔
پولیس اہلکاروں میں نارتھ ناظم آباد تھانے کے ہیڈ کانسٹبل رانا طارق، اے ایس آئی نجف علی، باغ علی اور شیر گوپانگ شامل ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ پولیس اہلکاروں نے نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں 22 اگست 2018ء کو پولیس مقابلے کا دعویٰ کیا تھا، مقابلے میں ایک ملزم اویس جعفری کو قتل اور ارشد کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم ارشد کو عمر قید کی سزا سنائی جو بعد میں ہائی کورٹ سے اپیل میں بری ہوگیا تھا۔