رواں سال بھی قومی صحت پالیسی کا اعلان نہ ہو سکا شہری طبی سہولتوں سے محروم

شہریوں کو پولیو، کالی کھانسی،گردن توڑبخار،نمونیا ،خسرہ کا سامنا رہا،کئی ممالک میں ان امراض کا مکمل خاتمہ کردیاگیا ہے

بچوں کی شرح اموات میں پاکستان دنیا میں آٹھویں نمبر پرآگیا،حفاظتی ویکسین لگواکر بچوں کی اموات کم کی جاسکتی ہیں فوٹو : ایکسپریس/فائل

ملک میں رواں سال بھی نیشنل ہیلتھ پالیسی کا اعلان نہیں کیا جاسکا ، گزشتہ 5سال سے عوام کی صحت اورتعلیم کے حوالے سے کوئی بھی پالیسی مرتب نہیں کی جا سکی،پاکستان میں سال برائے 2013 کے دوران 5سال عمر تک کے بچوں کوپولیو، خسرہ، تشنج، کالی کھانسی،گردن توڑ بخار سمیت دیگر امراض کا سامنا رہا اوران میں سے پولیو وائرس ، خسرہ وائرل نے بچوں کواپنی لپیٹ میں لیے رکھا ، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں 8ویں نمبر پرآگیا جہاں بچوں کی شرح اموات ہولناک صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔

بچوں کو ان امراض سے محفوظ رکھنے کیلیے حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس کرانا لازمی ہے، پاکستان کوقائم ہوئے 60 سال سے زائد ہوچکے ہیں لیکن ملک سے پولیو، تشنج ، کالی کھانسی، چیچک، گردن توڑ بخار، خسرہ، نمونیا سمیت دیگر بچوں کے امراض کی ایک بیماری پر قابونہیں پایا جا سکا ، ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کے ان امراض کا مکمل خاتمہ کردیاگیا ہے ، ہر سال 47 ہزاربچے مختلف امراض میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازہار جاتے ہیں،بچوں کی اموات حفاظتی ویکسین لگواکرکم کی جاسکتی ہیں، عالمی سطح پرایمونائیزیشن کے ذریعے کئی مہلک بیماریوںکی شرح میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے،ویکسین کی نتیجے میں 1980میں دنیا سے چیچک کا خاتمہ کیاگیا، اس طرح ترقی یافتہ ممالک میں پولیو اورکئی بیماریوں کا تقریبا خاتمہ کا گیا ہے، امریکہ میں ویکسینشن کی وجہ سے گردن توڑ بخار کی شرھ 95فیصد تک گرگئی ہے، امریکہ میں 90فیصد اورکینیڈا میں 85 فیصد بچے دوسال تک تمام مجوزہ ویکسینشن کاکورس مکمل کر چکے ہوتے ہیں، ویکسینشن کے ذریعے انسانی جسم میںکسی بیماری کے خلاف مدافعی نظام کو فعال بنایا جاسکتا ہے، اس طریقہ کار کے لیبارٹری میں کسی مخصوص بیماری کے مردہ یا کمزور کئے گئے وائرس یا بیکٹریا جسم میں داخل کیے جاتے ہیں،وطن عزیز کی 5ملین آبادی پانچ سال سے کم عمر کے بچوں پر مشتمل ہیں جن میں سے ہر سال 470000 مختلف وجوہات کی بنیاد میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ملک میں بچوں کی شرح اموات عالمی میعار سے بہت نیچے ہے،اس وجہ سے پاکستان بچوں کی شرح اموات کے حوالے سے دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

ایک سروے کے مطابق صرف 47فیصد بچوںکوحفاظتی ٹیکوں کو کورس مکمل کیاجاتا ہے، تشنج سے بچائوکے ٹیکے صرف 50فیصد بچوںکولگائے جاتے ہیں،پاکستان میں ہر سال 150,000 سے زائد بچے ان بیماریوںکی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں جن کا سدباب حفاظتی ٹیکوں سے ممکن ہے،پاکستان جیسے گنجان آبادی والے ملک میں 5 برس سے کم عمر ہر بچے کو حفاظتی ٹیکے لگانا ایک نہایت اہم ذمے داری ہے جس میں سرکاری ایجنسیوں، نجی شعبے اور باشعور شہریوں کی شمولیت ضروری ہے۔




پاکستان میں بچوں کے اموات کی شرح کی بڑی وجہ بچوں کی حفاظتی ٹیکوں کا کورس کروانے سے گریز ہے، اکثر والدین ویکسین کی اہمیت اورافادیت سے پوری طرح آگاہ نہیں اورحفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل نہیںکرواتے حالانکہ 9 قابل تدراک جس میں پولیو، کالی کھانسی، خسرہ، ٹی بی ، خناق ، گردن توڑ بخار وغیرہ شامل ہیںجس کہ خفاظتی ٹیکے لگاوا کر بچوںکے شرح اموات میںکمی کی جاسکتی ہے۔

عوام میں ویکسینشن کے بارے میں آگاہی عام کرنے اور حفاظتی سے محروم رہنے والے بچوں کے والدین کوویکسین کی فراہم کیلئے آمادہ کرنے کیلیے مختلف پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں، پیدائش کے فورا بعد بچے کو بی سی جی کا ٹیکہ اور پولیو کے قطرے، چھ ہفتے بعد بیٹاون اور پولیو کے قطرے، دس ہفتے کے بعد پینٹاٹو اور پولیو کے قطرے، چودہ ہفتے بعد پینٹا تھری اور پولیوکے قطرے، نو ماہ بعد خسرے کا پہلا ٹیکہ اور پولیو کے قطرے اور پندرہ ماہ بعد خسرے کا دوسرا ٹیکہ اورپولیوکے قطرے دیے جاتے ہیں، اس طرح حاملہ مائوں کی ٹی بی کے دو ٹیکے حمل کے دوران اور ایک ٹیکہ پیدائش کے بعد لگایا جاتا ہے،عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال 1.3ملین بچے مختلف بیماریوں سے ہلاک ہوجاتے ہیں جنہیں ویکسین کی ذریعے بڑی اسانی سے روکا جاسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صحت کے جدید تصور میں دوسری حفاظتی تدابیرکے ساتھ ساتھ ویکسینشن کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہی اورعالمی سطح پرایمونائیزشن کے ذریعے کئی مہلک بیماریوںکی شرح میں بڑی حد تک کمی کی گئی ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک تخمینے کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک بچے کی ہلاکت نمونیہ کے باعث ہوتی ہے۔
Load Next Story