لاہورہائیکورٹالیکشن کمیشن سے بلدیاتی شیڈول کا ریکارڈ طلب

حلقہ بندیوں کے فیصلے کے بغیر الیکشن کمیشن کا شیڈول جاری کرنے کا اقدام درست نہیں،درخواست گزار

حلقہ بندیوں کے فیصلے کے بغیر الیکشن کمیشن کا شیڈول جاری کرنے کا اقدام درست نہیں،درخواست گزار۔ فوٹو: فائل

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف دائر درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لئے طلب کر لیا اور کیس کی مزید سماعت 30 دسمبرتک ملتوی کر دی۔


لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس فرخ عرفان خان اور جسٹس عاطر محمود پر مشتمل فل بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ انھوں نے اقرار حسین وغیرہ کی طرف سے سیکشن 10-A پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی آئینی و قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے، حلقہ بندیوں کے فیصلے کے بغیر الیکشن کمیشن کا شیڈول جاری کرنے کا اقدام درست نہیں۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 مورخہ 23 اگست کو وجود میں آیا اور 9 نومبر 2013 کو کہہ دیا گیا کہ حلقہ بندیوں کیخلاف درخواستیں الیکشن شیڈیول کے بعد نہیں سنی جائینگی۔ پانچ سال سے زائد عرصہ ہو گیا بلدیاتی الیکشن ہوئے نہیں۔ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں وقت سے پہلے کرتی حلقہ بندیوں کے معاملات بہت پہلے حل ہو جانے چاہئیں تھے مگر ایسا نہیں ہوا۔
Load Next Story