اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین پر بھارتی فائرنگ
کشمیر کی صورتحال کو بنیاد بناکر بھارت خطے میں جنگ چھیڑنے کے حیلے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔
کشمیر کی صورتحال کو بنیاد بناکر بھارت خطے میں جنگ چھیڑنے کے حیلے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD/KARACHI:
لائن آف کنٹرول عباس پور سیکٹر پر بھارتی فوج نے سول آبادی کے ساتھ ساتھ اب اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کی گاڑی پر بھی شیلنگ اور فائرنگ کر دی۔
ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق عباس پور میں سیز فائر لائن سے متصل علاقے پولس تروٹی میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کی ٹیم دورے پر تھی، اسی اثنا میں پولس کے مقام پر بھارتی مورچوں سے شیلنگ اور فائرنگ شروع کر دی گئی، جس کے نتیجے میں فوجی مبصرین کی گاڑی کو متعدد گولیاں لگی، تاہم فوجی مبصرین نے بھارتی فائرنگ و گولہ باری سے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے قریبی محفوظ مقام کی طرف رخ کیا، مقامی ذرایع کے مطابق پاک فوج نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کی ٹیم کو مزید گولہ باری سے بچاتے ہوئے تحفظ فراہم کیا۔
اس حقیقت کو بھارت تسلیم نہ بھی کرے لیکن عالمی برادری کو اب یقین ہوچلا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کو بنیاد بناکر بھارت خطے میں جنگ چھیڑنے کے حیلے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، اور کنٹرول لائن پر خلاف ورزیوں کا مقصد ہی پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنا ہے لیکن اس کی عیاری کا منظرنامہ دہشتگردی کے مسئلہ کو خطے کے وسیع تر تناظر کا تزویراتی پس منظر بنانا ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جاسکے۔ اس جعلسازی میں وہ کافی عرصہ سے مصروف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کو 72 برسوں سے پنگ پانگ کھیل میں مصروف رکھا، اس کی مخاصمانہ اور عیارانہ سفارت کاری کے سب جعلی رنگ عالمی برادری دیکھ چکی ہے، سلامتی کونسل کو اب کس کا انتظار ہے اور وہ کون سے گھڑی ہوگی جب بھارت کشمیریوں کو ان کا حق دے کر بھارتی جمہوریت کی لاج رکھے گا، اور وہ دن کب آئیگا جب کشمیری عوام اپنے وطن کو آزاد دیکھیں گے، انھیں بھارت کی غلامی سے کب نجات ملے گی؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین چری کوٹ میں اشتعال انگیزیوں کے متاثرین سے ملنے جا رہے تھے، یو این مبصرین کی گاڑیاں دور سے پہچانی جا سکتی تھیں، گاڑیوں پر یو این لکھا دور سے دیکھا جا سکتا تھا، گاڑیوں میں دو فوجی مبصرین بھی موجود تھے، مبصرین بھارتی فائرنگ سے خوش قسمتی سے محفوظ رہے، پاک فوج نے فوجی مبصرین کو ریسکیو کرکے راولاکوٹ پہنچایا۔
بھارتی فوج کی حرکت غیر قانونی، غیر اخلاقی، آرمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے، بھارتی فوج ایل او سی پر بیگناہ شہریوں کے بعد یو این امن اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے، بھارتی فوج کی یہ انتہائی نیچی حرکت ہے، پاک فوج نے ہمیشہ فوجی مبصرین کو مکمل احترام دیا ہے، پاک فوج نے فوجی مبصرین کو دی گئی ذمے داریوں میں کبھی خلل نہیں ڈالا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کی تیاری کر رہا ہے، بھارت کی سازشوں سے آگاہ ہیں، پاکستان پرامن ملک ہے لیکن جواب دینے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے، بھارت نے اگر کوئی حرکت کی تو اس سے افغان امن عمل بھی متاثر ہوگا۔ جمعہ کو ابوظہبی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں انٹیلیجنس ذرایع سے خبر ملی ہے کہ بھارت پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کا مذموم ارادہ رکھتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ میرے پاس بھی اس حوالے سے کافی معلومات ہیں، بھارت اپنے داخلی خراب حالات اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی مخدوش صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ناٹک رچانا چاہتا ہے، کورونا کے خلاف بھارتی اقدامات سے بھارتی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف پورا بھارت سراپا احتجاج ہے، اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور امتیازی قوانین کے خلاف بھارت میں مظاہرے ہو رہے ہیں، وزیر خارجہ نے بتایا کہ 24 نومبر کو ہم نے عالمی برادری کو ڈوزیئر کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ کس طرح بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ڈس انفولیب کی رپورٹ آپ کے سامنے ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا میں بھارت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو پاکستان اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے اہم دارالحکومتوں کو اس خدشے سے باخبر کر دیا ہے۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارت، پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی تیاری کر رہا ہے، بھارت فوجی مہم جوئی کے لیے بیرونی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان کے پاس بھارتی منصوبے کی قابل اعتماد معلومات موجود ہیں، پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ گاڑی پر فائرنگ کرکے فائر بندی انتظام، عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، پاکستان مسلسل اقوام متحدہ فوجی مبصرین کو کام کرنے کی اجازت دینے پر زور دیتا رہا، بھارت مسلسل اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے، پاکستان، بھارت کے اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن پر حملے کا معاملہ اٹھائے گا، اقوام متحدہ کو ازخود بھی اس حملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی2 ہزار992 خلاف ورزیاں کیں، جس کے نتیجے میں27 افراد شہید،249 زخمی ہو چکے ہیں، بھارت نے کوئی بھی مہم کی تو پاکستان اس کا بھرپور مہلک جواب دے گا، بھارت کو 2019 کا جواب یاد ہو تو ایسی کوئی مہم جوئی نہیں کرے گا۔
پاکستان نے بھارتی ریاستی دہشتگردی کے شواہد پر مبنی ڈوزیئر اقوام متحدہ کو پیش کیا، پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط بھی لکھا، جس میں عالمی برادری کو بھارتی ریاستی دہشتگردی اور پاکستان کے خلاف گمراہی پھیلانے پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یورپی یونین، ڈس انفو لیب کی رپورٹ پر بھارت کا موثر محاسبہ کرے۔
ادھر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہے کہ بھارت کے پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کے منصوبے کے بارے میں قابل اعتماد معلومات موجود ہیں، بھارت اس وقت ناخوش ہے، کیونکہ اس کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا بے نقاب ہو چکا ہے، بھارت کی مایوسی مضحکہ خیز سطح پر پہنچ چکی ہے، ہم نے دنیا کو آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان بھارتی عزائم کو جانتا ہے۔
وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر راجا فاروق حیدر خان نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن پر بھارتی فوج کی فائرنگ کو اشتعال انگیز کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے تمام بین الاقوامی ضابطوں کو روند ڈالا ہے، اقوام متحدہ کو بھارتی فوج کی کارروائی کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔
گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پھر پرانا بھارتی راگ چھیڑا کہ بھارت کو پاکستان کی طرف سے دہشتگردی کے خاتمہ کا انتظار ہے، انھوں نے ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں کہا کہ اگر پاکستان مذاکرات چاہتا ہے تو دہشتگردی ختم کرے کیونکہ دہشتگردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اور نہ ہی ایسے ماحول میں کہ ''نہ جنگ اور نہ امن کی صورتحال ہو'' میں بات چیت ہوسکتی ہے، ویسے لچھے دار باتیں کرنا کوئی بھارتی سفارت کاروں سے سیکھے۔
وزیر خارجہ شنکر کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے گزشتہ دورہ پاکستان میں جو 25 دسمبر 2015 کو انھوں نے کیا تھا یہ بات کہی تھی کہ دہشتگردی بھی ہو اور پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش بھی ہو ایسا ممکن نہیں، ایس جے شنکر نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ متحدہ عرب امارات کے دورہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت سرجیکل اسٹرائیک کی تیاری کر رہا ہے۔
جے شنکر نے خلاف حقیقت یہ بات کہی کہ اصل میں پاکستان بھارت کو دنیا کے سامنے جارحیت پسند اور امن دشمن ملک ثابت کرنا چاہتا ہے جب کہ ایسی بات نہیں، مگر منہ میں رام رام بغل میں چھری کی داستان بھارتی سفارتکاری میں کوئی نئی روایت نہیں، بھارت نے کب نیک نیتی سے پاک بھارت تعلقات کی راہ میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو مانا ہے، وہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی کتنی ہی بار نظرانداز کرچکا ہے، اب تو اس کے جارحانہ عزائم اظہر من الشمس ہیں، پوری دنیا مودی کی مسلم دشمنی اور خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی سازشوں سے واقف ہوچکی ہے۔
جموں وکشمیر کو زبردستی غصب کرنے اور کشمیریوں کو کرفیو اور غیر انسانی لاک ڈاؤن میں قید کرنے کی شرمناک وارداتیں کیا انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو نظر نہیں آتی، وہ انسانی حقوق اور حق خودارادیت کے عالم گیر اصول کی پامالی کی اس تحقیر کا علی الاعلان نوٹس کیوں نہیں لیتیں؟
دریں اثنا امریکی جریدے کرسچن سائنس مانیٹر نے بھارت سے منسلک پاکستان کے ڈوزیئر پر امریکا میں متعین پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے انٹرویو پرمبنی رپورٹ شایع کر دی جس میں انھوں نے عالمی برادری خصوصاً امریکا کی توجہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کی طرف مبذول کرائی ہے۔
گزشتہ دو برسوں سے دہشتگردی کی کارروائیوں میں اس کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، وہ خطہ کو نہ صرف عدم استحکام کی جانب دھکیل رہا ہے بلکہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابل ستائش کامیابیاں حاصل کیں۔
یہ وہ مسلمہ حقائق ہیں جنھیں کوئی طاقت جھٹلا نہیں سکتی، لہٰذا عالمی برادری کی اخلاقی ذمے داری ہے کہ وہ جمہوریت اور سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والی مودی حکومت کو آئینہ دکھائے اور اس کے جھوٹ کو بے نقاب کرکے دنیا کو بتائے کہ بھارت خطے کے امن کے لیے حقیقی خطرہ ہے جب کہ پاکستان تو اس کی ننگی جارحیت کا شکار victim ہے۔
لائن آف کنٹرول عباس پور سیکٹر پر بھارتی فوج نے سول آبادی کے ساتھ ساتھ اب اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کی گاڑی پر بھی شیلنگ اور فائرنگ کر دی۔
ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق عباس پور میں سیز فائر لائن سے متصل علاقے پولس تروٹی میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کی ٹیم دورے پر تھی، اسی اثنا میں پولس کے مقام پر بھارتی مورچوں سے شیلنگ اور فائرنگ شروع کر دی گئی، جس کے نتیجے میں فوجی مبصرین کی گاڑی کو متعدد گولیاں لگی، تاہم فوجی مبصرین نے بھارتی فائرنگ و گولہ باری سے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے قریبی محفوظ مقام کی طرف رخ کیا، مقامی ذرایع کے مطابق پاک فوج نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کی ٹیم کو مزید گولہ باری سے بچاتے ہوئے تحفظ فراہم کیا۔
اس حقیقت کو بھارت تسلیم نہ بھی کرے لیکن عالمی برادری کو اب یقین ہوچلا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کو بنیاد بناکر بھارت خطے میں جنگ چھیڑنے کے حیلے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، اور کنٹرول لائن پر خلاف ورزیوں کا مقصد ہی پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنا ہے لیکن اس کی عیاری کا منظرنامہ دہشتگردی کے مسئلہ کو خطے کے وسیع تر تناظر کا تزویراتی پس منظر بنانا ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جاسکے۔ اس جعلسازی میں وہ کافی عرصہ سے مصروف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کو 72 برسوں سے پنگ پانگ کھیل میں مصروف رکھا، اس کی مخاصمانہ اور عیارانہ سفارت کاری کے سب جعلی رنگ عالمی برادری دیکھ چکی ہے، سلامتی کونسل کو اب کس کا انتظار ہے اور وہ کون سے گھڑی ہوگی جب بھارت کشمیریوں کو ان کا حق دے کر بھارتی جمہوریت کی لاج رکھے گا، اور وہ دن کب آئیگا جب کشمیری عوام اپنے وطن کو آزاد دیکھیں گے، انھیں بھارت کی غلامی سے کب نجات ملے گی؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین چری کوٹ میں اشتعال انگیزیوں کے متاثرین سے ملنے جا رہے تھے، یو این مبصرین کی گاڑیاں دور سے پہچانی جا سکتی تھیں، گاڑیوں پر یو این لکھا دور سے دیکھا جا سکتا تھا، گاڑیوں میں دو فوجی مبصرین بھی موجود تھے، مبصرین بھارتی فائرنگ سے خوش قسمتی سے محفوظ رہے، پاک فوج نے فوجی مبصرین کو ریسکیو کرکے راولاکوٹ پہنچایا۔
بھارتی فوج کی حرکت غیر قانونی، غیر اخلاقی، آرمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے، بھارتی فوج ایل او سی پر بیگناہ شہریوں کے بعد یو این امن اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے، بھارتی فوج کی یہ انتہائی نیچی حرکت ہے، پاک فوج نے ہمیشہ فوجی مبصرین کو مکمل احترام دیا ہے، پاک فوج نے فوجی مبصرین کو دی گئی ذمے داریوں میں کبھی خلل نہیں ڈالا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کی تیاری کر رہا ہے، بھارت کی سازشوں سے آگاہ ہیں، پاکستان پرامن ملک ہے لیکن جواب دینے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے، بھارت نے اگر کوئی حرکت کی تو اس سے افغان امن عمل بھی متاثر ہوگا۔ جمعہ کو ابوظہبی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں انٹیلیجنس ذرایع سے خبر ملی ہے کہ بھارت پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کا مذموم ارادہ رکھتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ میرے پاس بھی اس حوالے سے کافی معلومات ہیں، بھارت اپنے داخلی خراب حالات اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی مخدوش صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ناٹک رچانا چاہتا ہے، کورونا کے خلاف بھارتی اقدامات سے بھارتی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف پورا بھارت سراپا احتجاج ہے، اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور امتیازی قوانین کے خلاف بھارت میں مظاہرے ہو رہے ہیں، وزیر خارجہ نے بتایا کہ 24 نومبر کو ہم نے عالمی برادری کو ڈوزیئر کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ کس طرح بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ڈس انفولیب کی رپورٹ آپ کے سامنے ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا میں بھارت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو پاکستان اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے اہم دارالحکومتوں کو اس خدشے سے باخبر کر دیا ہے۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارت، پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی تیاری کر رہا ہے، بھارت فوجی مہم جوئی کے لیے بیرونی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان کے پاس بھارتی منصوبے کی قابل اعتماد معلومات موجود ہیں، پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ گاڑی پر فائرنگ کرکے فائر بندی انتظام، عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، پاکستان مسلسل اقوام متحدہ فوجی مبصرین کو کام کرنے کی اجازت دینے پر زور دیتا رہا، بھارت مسلسل اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے، پاکستان، بھارت کے اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن پر حملے کا معاملہ اٹھائے گا، اقوام متحدہ کو ازخود بھی اس حملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی2 ہزار992 خلاف ورزیاں کیں، جس کے نتیجے میں27 افراد شہید،249 زخمی ہو چکے ہیں، بھارت نے کوئی بھی مہم کی تو پاکستان اس کا بھرپور مہلک جواب دے گا، بھارت کو 2019 کا جواب یاد ہو تو ایسی کوئی مہم جوئی نہیں کرے گا۔
پاکستان نے بھارتی ریاستی دہشتگردی کے شواہد پر مبنی ڈوزیئر اقوام متحدہ کو پیش کیا، پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط بھی لکھا، جس میں عالمی برادری کو بھارتی ریاستی دہشتگردی اور پاکستان کے خلاف گمراہی پھیلانے پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یورپی یونین، ڈس انفو لیب کی رپورٹ پر بھارت کا موثر محاسبہ کرے۔
ادھر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہے کہ بھارت کے پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کے منصوبے کے بارے میں قابل اعتماد معلومات موجود ہیں، بھارت اس وقت ناخوش ہے، کیونکہ اس کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا بے نقاب ہو چکا ہے، بھارت کی مایوسی مضحکہ خیز سطح پر پہنچ چکی ہے، ہم نے دنیا کو آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان بھارتی عزائم کو جانتا ہے۔
وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر راجا فاروق حیدر خان نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن پر بھارتی فوج کی فائرنگ کو اشتعال انگیز کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے تمام بین الاقوامی ضابطوں کو روند ڈالا ہے، اقوام متحدہ کو بھارتی فوج کی کارروائی کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔
گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پھر پرانا بھارتی راگ چھیڑا کہ بھارت کو پاکستان کی طرف سے دہشتگردی کے خاتمہ کا انتظار ہے، انھوں نے ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں کہا کہ اگر پاکستان مذاکرات چاہتا ہے تو دہشتگردی ختم کرے کیونکہ دہشتگردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اور نہ ہی ایسے ماحول میں کہ ''نہ جنگ اور نہ امن کی صورتحال ہو'' میں بات چیت ہوسکتی ہے، ویسے لچھے دار باتیں کرنا کوئی بھارتی سفارت کاروں سے سیکھے۔
وزیر خارجہ شنکر کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے گزشتہ دورہ پاکستان میں جو 25 دسمبر 2015 کو انھوں نے کیا تھا یہ بات کہی تھی کہ دہشتگردی بھی ہو اور پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش بھی ہو ایسا ممکن نہیں، ایس جے شنکر نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ متحدہ عرب امارات کے دورہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت سرجیکل اسٹرائیک کی تیاری کر رہا ہے۔
جے شنکر نے خلاف حقیقت یہ بات کہی کہ اصل میں پاکستان بھارت کو دنیا کے سامنے جارحیت پسند اور امن دشمن ملک ثابت کرنا چاہتا ہے جب کہ ایسی بات نہیں، مگر منہ میں رام رام بغل میں چھری کی داستان بھارتی سفارتکاری میں کوئی نئی روایت نہیں، بھارت نے کب نیک نیتی سے پاک بھارت تعلقات کی راہ میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو مانا ہے، وہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی کتنی ہی بار نظرانداز کرچکا ہے، اب تو اس کے جارحانہ عزائم اظہر من الشمس ہیں، پوری دنیا مودی کی مسلم دشمنی اور خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی سازشوں سے واقف ہوچکی ہے۔
جموں وکشمیر کو زبردستی غصب کرنے اور کشمیریوں کو کرفیو اور غیر انسانی لاک ڈاؤن میں قید کرنے کی شرمناک وارداتیں کیا انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو نظر نہیں آتی، وہ انسانی حقوق اور حق خودارادیت کے عالم گیر اصول کی پامالی کی اس تحقیر کا علی الاعلان نوٹس کیوں نہیں لیتیں؟
دریں اثنا امریکی جریدے کرسچن سائنس مانیٹر نے بھارت سے منسلک پاکستان کے ڈوزیئر پر امریکا میں متعین پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے انٹرویو پرمبنی رپورٹ شایع کر دی جس میں انھوں نے عالمی برادری خصوصاً امریکا کی توجہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کی طرف مبذول کرائی ہے۔
گزشتہ دو برسوں سے دہشتگردی کی کارروائیوں میں اس کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، وہ خطہ کو نہ صرف عدم استحکام کی جانب دھکیل رہا ہے بلکہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابل ستائش کامیابیاں حاصل کیں۔
یہ وہ مسلمہ حقائق ہیں جنھیں کوئی طاقت جھٹلا نہیں سکتی، لہٰذا عالمی برادری کی اخلاقی ذمے داری ہے کہ وہ جمہوریت اور سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والی مودی حکومت کو آئینہ دکھائے اور اس کے جھوٹ کو بے نقاب کرکے دنیا کو بتائے کہ بھارت خطے کے امن کے لیے حقیقی خطرہ ہے جب کہ پاکستان تو اس کی ننگی جارحیت کا شکار victim ہے۔