سری لنکن لیگ نے بھی کرکٹرز کو معاوضوں کیلیے ترسا دیا
ایونٹ ختم ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی فرنچائزز نے باقی50 فیصد سے زائدرقم ادا نہیں کی
ایونٹ ختم ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی فرنچائزز نے باقی50 فیصد سے زائدرقم ادا نہیں کی. (فوٹو : فائل)
بنگلہ دیش کے بعد سری لنکن پریمیئر لیگ کی فرنچائزز نے بھی غیرملکی کرکٹرز کو معاوضوں کیلیے ترسا دیا۔
فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو ٹم مے نے دھمکی دی کہ اگر آئندہ برس منتظمین نے پلیئرز کو بینک گارنٹی نہیں دی تو وہ اگلے برس ایونٹ میں حصہ نہ لینے کا مشورہ دیں گے، دوسری جانب منتظم سنگاپورین کمپنی سمرسٹ انٹرٹینمنٹ وینچرز کا کہنا ہے کہ ہم نے تمام کھلاڑیوں کو پوری رقم ادا کردی۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے بعد سری لنکن پریمیئر لیگ میں بھی شرکت کرنے والے غیرملکی پلیئرز کے معاوضوں پر تنازع کھڑا ہوگیا۔
ابتدائی اقساط دینے کے بعد کھلاڑیوں کو باقی رقم کیلیے ترسا دیا گیا ہے، اس حوالے سے کرکٹرز کی نمائندہ تنظیم فیکا کے چیف ٹم مے نے کہاکہ ایونٹ کی تکمیل کے ایک ہفتے بعد بھی فرنچائز نے باقی50 فیصد سے زائد رقم پلیئرزکو ادا نہیں کی،کئی غیرملکی کرکٹرز اب بھی اپنے معاوضوں کا انتظار کررہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ انھیں یہ رقم آئندہ ہفتے مل جائے گی، انھوں نے مزید کہا کہ اگر منتظمین آئندہ برس ایونٹ سے قبل کھلاڑیوں کے معاوضے کی بینک گارنٹی پیش کرنے میں ناکام رہے تو ہم بائیکاٹ کا مشورہ دیں گے، انھوں نے مزید کہا کہ اس برس بھی منتظمین نے ہمارے اصرار کے باوجود بینک گارنٹی نہیں دی جو معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب سمرسٹ کمپنی کے چیئرمین سندیپ بھامیر کا کہنا ہے کہ ہم نے نہایت شاندار ایونٹ منعقد کرایا اور تمام پلیئرز کو رقم ادا کردی گئی، فیکا کے عدم اطمینان اور تحفظات پر انھوں نے کہا کہ طوالت اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کیلیے ہم نے بینک گارنٹی کی بجائے ' پے آرڈر' دیا تھا ، ٹم مے نے بھامیر کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں ، ہمارے کئی بار درخواست کرنے کے باوجود کسی بھی مرحلے پر پے آرڈر نہیں دکھایا گیا، فیکا کے منظور شدہ اداروں سے حاصل کی جانے والی بینک گارنٹی اگلے ایونٹ کے آغاز سے 6ماہ قبل ہمیں دینا ہوگی، بصورت دیگر ہم کھلاڑیوں کو سری لنکن لیگ کے بائیکاٹ کا مشورہ دیں گے۔
فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو ٹم مے نے دھمکی دی کہ اگر آئندہ برس منتظمین نے پلیئرز کو بینک گارنٹی نہیں دی تو وہ اگلے برس ایونٹ میں حصہ نہ لینے کا مشورہ دیں گے، دوسری جانب منتظم سنگاپورین کمپنی سمرسٹ انٹرٹینمنٹ وینچرز کا کہنا ہے کہ ہم نے تمام کھلاڑیوں کو پوری رقم ادا کردی۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے بعد سری لنکن پریمیئر لیگ میں بھی شرکت کرنے والے غیرملکی پلیئرز کے معاوضوں پر تنازع کھڑا ہوگیا۔
ابتدائی اقساط دینے کے بعد کھلاڑیوں کو باقی رقم کیلیے ترسا دیا گیا ہے، اس حوالے سے کرکٹرز کی نمائندہ تنظیم فیکا کے چیف ٹم مے نے کہاکہ ایونٹ کی تکمیل کے ایک ہفتے بعد بھی فرنچائز نے باقی50 فیصد سے زائد رقم پلیئرزکو ادا نہیں کی،کئی غیرملکی کرکٹرز اب بھی اپنے معاوضوں کا انتظار کررہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ انھیں یہ رقم آئندہ ہفتے مل جائے گی، انھوں نے مزید کہا کہ اگر منتظمین آئندہ برس ایونٹ سے قبل کھلاڑیوں کے معاوضے کی بینک گارنٹی پیش کرنے میں ناکام رہے تو ہم بائیکاٹ کا مشورہ دیں گے، انھوں نے مزید کہا کہ اس برس بھی منتظمین نے ہمارے اصرار کے باوجود بینک گارنٹی نہیں دی جو معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب سمرسٹ کمپنی کے چیئرمین سندیپ بھامیر کا کہنا ہے کہ ہم نے نہایت شاندار ایونٹ منعقد کرایا اور تمام پلیئرز کو رقم ادا کردی گئی، فیکا کے عدم اطمینان اور تحفظات پر انھوں نے کہا کہ طوالت اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کیلیے ہم نے بینک گارنٹی کی بجائے ' پے آرڈر' دیا تھا ، ٹم مے نے بھامیر کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں ، ہمارے کئی بار درخواست کرنے کے باوجود کسی بھی مرحلے پر پے آرڈر نہیں دکھایا گیا، فیکا کے منظور شدہ اداروں سے حاصل کی جانے والی بینک گارنٹی اگلے ایونٹ کے آغاز سے 6ماہ قبل ہمیں دینا ہوگی، بصورت دیگر ہم کھلاڑیوں کو سری لنکن لیگ کے بائیکاٹ کا مشورہ دیں گے۔