گیس کی کٹوتی نے صنعتی شعبے کو تشویش سے دوچار کر دیا
ایس ایس جی سی نے صنعتی شعبے سے قدرتی گیس کے استعمال میں30 فیصد کی کمی لانے کی درخواست کی ہے،
قدرتی گیس کی پیداوار میں حصے کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ میں گیس کی قلت نہیں ہونی چاہیے فوٹو: فائل
صنعتی شعبے کے لیے قدرتی گیس کے استعمال میں30 فیصد کمی کا فیصلہ جی ایس پی پلس ثمرات سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایس ایس جی سی نے صنعتی شعبے سے درخواست کی ہے کہ وہ قدرتی گیس کے استعمال میں30 فیصد کی کمی لائے، بصورت دیگر گھریلو صارفین گیس بحران سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قدرتی گیس کی پیداوار میں سندھ کا حصہ72 فیصد ہے لہٰذا پیداوار میںحصے کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں نہ تو گیس کی قلت ہونی چاہیے اور نہ ہی لوڈشیڈنگ بلکہ صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے گیس استعمال کرنے کاکوٹہ بھی مختص نہیں کرنا چاہیے۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایس ایس جی سی میں گیس ضائع ہونے (ٰیوایف جی) کی شرح12 فیصد ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ شرح3 تا4 فیصد ہے اور پڑوسی ملک بھارت میں بھی یوایف جی کی شرح4 فیصد تک محدود ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گیس سپلائی کرنے والی کمپنیاں ضائع ہونیوالی قدرتی گیس کو بچانے کے لیے موثر اقدامات بروئے کار لائیں۔ اگر یو ایف جی کی شرح گھٹ کر4 فیصد لائی جائے توگیس لوڈمنیجمنٹ پروگرام کے علاوہ پریشر میں کمی جیسے اقدامات کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
ٹاولز مینوفیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افتخارملک نے بتایا کہ یورپین یونین سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد مقامی تولیہ ساز صنعتوں نے یورپین مارکیٹ کیلیے فوری طور پراپنی برآمدات 30 فیصد بڑھانے کی حکمت عملی وضح کی ہے لیکن قدرتی گیس کی سپلائی میں کمی جیسے اقدامات اس حکمت عملی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان یورپین یونین کے رکن ممالک کوسالانہ 1.2 ارب ڈالر کی ٹاولزوبیڈشیٹس کی برآمدی اعدادوشمار کے ساتھ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ یورپین مارکیٹ میں ٹاولز کی ایکسپورٹ میں سرفہرست ملک چین اور دوسرے نمبر پر ترکی ہے جبکہ بھارت کا شمار چوتھے ملک کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ جی ایس پی پلس کے حاصل کردہ درجے سے بھرپور استفادے کے لیے ٹاولز، ویلیو ایڈڈ سیکٹر کے علاوہ ٹیکسٹائل کے دیگر شعبوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اب یوٹیلٹیز کے معاملات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ مقامی برآمدی صنعتیں اپنی پیداواری استعداد کو100 پر لاکر ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کو دوگنا کرسکیں بصورت دیگر شعبہ ٹیکسٹائل کے مقامی برآمدکنندگان جی ایس پی پلس کی ترغیبات سے استفادہ نہیں کرپائیں گے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایس ایس جی سی نے صنعتی شعبے سے درخواست کی ہے کہ وہ قدرتی گیس کے استعمال میں30 فیصد کی کمی لائے، بصورت دیگر گھریلو صارفین گیس بحران سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قدرتی گیس کی پیداوار میں سندھ کا حصہ72 فیصد ہے لہٰذا پیداوار میںحصے کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں نہ تو گیس کی قلت ہونی چاہیے اور نہ ہی لوڈشیڈنگ بلکہ صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے گیس استعمال کرنے کاکوٹہ بھی مختص نہیں کرنا چاہیے۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایس ایس جی سی میں گیس ضائع ہونے (ٰیوایف جی) کی شرح12 فیصد ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ شرح3 تا4 فیصد ہے اور پڑوسی ملک بھارت میں بھی یوایف جی کی شرح4 فیصد تک محدود ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گیس سپلائی کرنے والی کمپنیاں ضائع ہونیوالی قدرتی گیس کو بچانے کے لیے موثر اقدامات بروئے کار لائیں۔ اگر یو ایف جی کی شرح گھٹ کر4 فیصد لائی جائے توگیس لوڈمنیجمنٹ پروگرام کے علاوہ پریشر میں کمی جیسے اقدامات کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
ٹاولز مینوفیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افتخارملک نے بتایا کہ یورپین یونین سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد مقامی تولیہ ساز صنعتوں نے یورپین مارکیٹ کیلیے فوری طور پراپنی برآمدات 30 فیصد بڑھانے کی حکمت عملی وضح کی ہے لیکن قدرتی گیس کی سپلائی میں کمی جیسے اقدامات اس حکمت عملی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان یورپین یونین کے رکن ممالک کوسالانہ 1.2 ارب ڈالر کی ٹاولزوبیڈشیٹس کی برآمدی اعدادوشمار کے ساتھ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ یورپین مارکیٹ میں ٹاولز کی ایکسپورٹ میں سرفہرست ملک چین اور دوسرے نمبر پر ترکی ہے جبکہ بھارت کا شمار چوتھے ملک کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ جی ایس پی پلس کے حاصل کردہ درجے سے بھرپور استفادے کے لیے ٹاولز، ویلیو ایڈڈ سیکٹر کے علاوہ ٹیکسٹائل کے دیگر شعبوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اب یوٹیلٹیز کے معاملات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ مقامی برآمدی صنعتیں اپنی پیداواری استعداد کو100 پر لاکر ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کو دوگنا کرسکیں بصورت دیگر شعبہ ٹیکسٹائل کے مقامی برآمدکنندگان جی ایس پی پلس کی ترغیبات سے استفادہ نہیں کرپائیں گے۔