وزیراعظم کی سربراہی میں یورپی یونین بزنس فورم کے قیام کی تجویز

گورنر پنجاب، اپٹما، پریگمیا، فیڈریشن، ایکسپورٹرز، ٹی ڈی اے پی نمائندگان شامل کیے جائیں

مراکش کے قونصل جنرل اشتیاق بیگ کی جانب سے دیے گئے عشائیے کے موقع پرگورنرپنجاب چوہدری سرور،ڈاکٹرمرزااختیاربیگ ،یاسین انورودیگرکا گروپ

پاکستان ڈینم مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرزایسوسی ایشن نے جی ایس پی پلس سے استفادے کے لیے وزیراعظم کی سربراہی میں پاک یورپی یونین بزنس فورم کے قیام کی باقاعدہ تجویز پیش کردی ہے۔

پی ڈی ایم ای اے کے چیئرمین ڈاکٹرمرزااختیاربیگ نے تجویز پیش کی ہے مجوزہ فورم میں گورنر پنجاب، اپٹما، پریگمیا، ایف پی سی سی آئی، ایکسپورٹرزایسوسی ایشنز، وزارت تجارت وٹیکسٹائل انڈسٹریزکے علاوہ ٹی ڈی اے پی کے نمائندے شامل کیے جائیں۔ فورم کے قیام کا مقصد برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ پاکستانی مصنوعات کی برآمدی افزائش کی مانیٹرنگ اوریورپی یونین میں ڈیوٹی فری رسائی کویقینی بنانے کیلیے کمرشل قونصلرز کو دیے گئے اہداف کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف ملکی برآمدات میں منصوبہ بندی کے ساتھ اضافے کیلیے باقاعدگی کے ساتھ مجوزہ فورم کا اجلاس طلب کریں۔ یہ تجویز انہوں نے پاکستان ڈینم مینوفیکچرنگ اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کے دوران دی۔ ڈاکٹر بیگ نے یورپی یونین سے پاکستان کو جی ایس پی پلس ڈیوٹی فری سہولت کے حصول کیلیے انتھک کوششوں اور خدمات پر چوہدری محمد سرور کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی کاوشوں کے نتیجے میں یکم جنوری 2014 سے یورپی یونین کے 27 ممالک کو ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کی سہولت حاصل ہوجائے گی۔




انہوں نے بتایا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستان کو6 ہزار سے زائد مصنوعات کی یورپین مارکیٹ میں ڈیوٹی فری رسائی کی سہولت حاصل ہوئی ہے جس میں سے 900 سے زائد ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہیں۔ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد شعبہ ٹیکسٹائل کے بڑے پلیرز نے یہ تخمینہ لگایا ہے کہ ابتدائی طور پر پاکستانی برآمدات میں ایک ارب ڈالرسالانہ کا اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جی ایس پی پلس کی سہولت حاصل کرنے کی مدت10سال ہے اورہر 3 سال بعد اس سہولت پرنظرثانی بھی کی جائے گی۔ ان حقائق کے تناظر میں ضروری ہے کہ پاکستان جن 27 کنونشنز کا دستخط کنندہ ہے پر عمل درآمد ضروری ہوگیا ہے جبکہ ایکسپورٹرز کوکو ویلیو ایڈیشن بڑھانے اور اپنی مصنوعات میں تنوع پیدا کرنا ہوگا۔

انہوں نے جی ایس پی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعتوں کو مطلوبہ انرجی کی فراہمی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنائے، گورنر پنجاب نے یقین دہانی کرائی کہ وہ یکم جنوری 2014 کو وزیراعظم کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں جی ایس پی پلس سے بھرپورثمرات حاصل کرنے کے لیے مذکورہ تجاویز پیش کریں گے۔ تقریب میں ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک، اپٹما کے چیئرمین یاسین صدیق، سابق چیئرمین اپٹما گوہر اعجاز،رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار،ای ایف یوکے چیئرمین سیف الدین زومکا والا، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا، سندھ بینک کے صدر بلال شیخ، مراکش کے اعزازی قونصل جنرل اشتیاق بیگ، میاں زاہد حسین، پاکستان میں تعینات برطانیہ کے ہیڈ آف مشن گل ایڈکنسن، برطانوی سفارتی قونصلر سوسان ہیلینڈ بھی موجود تھے۔
Load Next Story