کورونا وبا میں شدت… قوم ہوش کے ناخن لے
ہم مسلسل ایس او پیز کو نظر انداز کرنے کی روش اختیار کرچکے ہیں، بازاروں میں تلے دھرنے کی جگہ نہیں ہے۔
ہم مسلسل ایس او پیز کو نظر انداز کرنے کی روش اختیار کرچکے ہیں، بازاروں میں تلے دھرنے کی جگہ نہیں ہے۔ فوٹو: فائل
ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہرنے شدت اختیار کرلی ہے، گزشتہ روز مزید 99 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ممتاز ادیب انور مقصود سمیت 1988 افراد بھی کورونا سے متاثر ہو ئے ہیں۔ اب تک اموات 9ہزار611 اور مصدقہ متاثرین کی تعداد 4 لاکھ 64 ہزار 081 ہو گئی ہے۔
اس وقت ملک میں کورونا کے فعال مریض 37 ہزار 807 ہیں۔یہ اعدادوشمار ظاہر کررہے ہیں کہ ہم نے بے احتیاطی اور لاپرواہی کی حدیں عبور کرلی ہیں، ہم مسلسل ایس او پیز کو نظر انداز کرنے کی روش اختیار کرچکے ہیں، بازاروں میں تلے دھرنے کی جگہ نہیں ہے، تمام عوامی مقامات پر رش ہے، اکثریت ماسک نہیں لگا رہی ، سماجی فاصلہ تو کہیں بھی نہیں رکھا جارہا ہے، ایس اوپیز کی خلاف ورزیاں بڑھنے کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا زیاں بڑھ گیا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اس خطرناک وائرس سے بچاؤ کی کوئی فکر لاحق نہیں ہے، یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔
یعنی بحیثیت قوم ہم غفلت اور لاپرواہی کی راہ پر چل پڑے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر اعدادوشمار صورتحال بگڑنے کی نشاندہی کررہے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلی لہر میں بچ جانے کے بعد قوم نے اپنا ایک مائنڈ سیٹ بنا لیا ہے کہ کچھ نہیں ہونے والا، سازشی تھیوریاں بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں ۔حکومتی سطح پر لاک ڈاؤن کا صرف اس لیے اعلان نہیں کیا جارہا کہ اس سے ملکی معیشت کو پہیہ رک جائے گا لیکن قوم نے کورونا وائرس کی دوسری لہر کو'' ایزی'' لے لیا ہے۔
جب کہ حقیقت بہت بھیانک ہیں ، ہم موت کے منہ میں جارہے ہیں اور ہمیں ذرا برابر بھی اپنی زندگی سے پیار نہیں ہے، نہ ہم اپنی جان بچانا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کے خیرخواہ ہے۔ اس نازک مرحلے پر خود احتسابی اور احتیاط کا دامن تھامنے کی ضرورت ہے۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق کووِڈ19کے دوران دنیا بھر کے صارفین نے آن لائن خریداری کرنا شروع کردی ہے،لیکن ہم جب تک بازار جا کر خود خریداری کا ایڈونچر نہ کریں ہمیں چین نہیں آتا ہے، ملک میں کروڑوں لوگ کے پاس اسمارٹ فونز موجود ہیں کیا اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں بچانے کے لیے ہم آن لائن شاپنگ کی روش اختیار نہیں کرسکتے ہیں، ذرا سی دیر سوچیں اور اپنے طرزعمل میں مثبت تبدیلی لائیں۔قوم کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ابھی ویکسین پاکستان میں آئی نہیں ہے لہٰذا احتیاط کریں۔
ایس او پیز کی خلاف ورزی کر کے خود کشی نہ کریں، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ کورونا کے مزید 40 مریض انتقال کر گئے ہیں، یوں ہلاکتیں 3419 تک پہنچ گئی ہیں۔ 918 نئے کیسز سامنے آئے۔ مجموعی متاثرین 2 لاکھ 7407 ہو چکے ہیں، جب کہ دوسری جانب کورونا وائرس کے بڑھتے کیسزکی وجہ سے ضلع انتظامیہ پشاور نے مزید چار علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کورونا کی موجودہ صورتحال دیکھ کر لگتا نہیں کہ جنوری میں اسکول کھلیں گے لیکن اس مرتبہ امتحان کے بغیر کسی کو پاس نہیں کریں گے۔
ادھر دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد17لاکھ 24 ہزار 562 ہوگئی ہے۔جرمنی میں کورونا کے سبب 962نئی اموات ہوئیں۔بھارت میں مہلک کورونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ99 ہزار308 اور اموات ایک لاکھ 46ہزار476تک پہنچ گئی ہے۔برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم ایشیا پہنچ گئی ہے۔ہانگ کانگ میں دو طالبعلموں میں اس کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ دونوں طالبعلم برطانیہ سے ہانگ کانگ آئے تھے۔
یہ اعداوشمار دنیا بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت اور اس کے نتیجے میں آنیوالی تباہی کی نشاندہی کررہے ہیں یہ حقائق ہماری قوم کی بند آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔البتہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ کورونا متاثرین کی بحالی کے لیے ملک بھر میں فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔
فلاحی تنظیموں اورمختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رضا کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک فنڈز قائم کرے، جس کے ذریعے مخیر حضرات کے تعاون سے عوام کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین مفت لگائی جا سکے۔یہ تجویز صائب ہے، اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے تاکہ متاثرہ مریضوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔ہمیں دنیا میں ایک باشعور قوم ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ایس اوپیز پرعمل کرنااپنے اوپرلازم کرنا ہے ، اسی میں ہماری بقا ہے۔
اس وقت ملک میں کورونا کے فعال مریض 37 ہزار 807 ہیں۔یہ اعدادوشمار ظاہر کررہے ہیں کہ ہم نے بے احتیاطی اور لاپرواہی کی حدیں عبور کرلی ہیں، ہم مسلسل ایس او پیز کو نظر انداز کرنے کی روش اختیار کرچکے ہیں، بازاروں میں تلے دھرنے کی جگہ نہیں ہے، تمام عوامی مقامات پر رش ہے، اکثریت ماسک نہیں لگا رہی ، سماجی فاصلہ تو کہیں بھی نہیں رکھا جارہا ہے، ایس اوپیز کی خلاف ورزیاں بڑھنے کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا زیاں بڑھ گیا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اس خطرناک وائرس سے بچاؤ کی کوئی فکر لاحق نہیں ہے، یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔
یعنی بحیثیت قوم ہم غفلت اور لاپرواہی کی راہ پر چل پڑے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر اعدادوشمار صورتحال بگڑنے کی نشاندہی کررہے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلی لہر میں بچ جانے کے بعد قوم نے اپنا ایک مائنڈ سیٹ بنا لیا ہے کہ کچھ نہیں ہونے والا، سازشی تھیوریاں بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں ۔حکومتی سطح پر لاک ڈاؤن کا صرف اس لیے اعلان نہیں کیا جارہا کہ اس سے ملکی معیشت کو پہیہ رک جائے گا لیکن قوم نے کورونا وائرس کی دوسری لہر کو'' ایزی'' لے لیا ہے۔
جب کہ حقیقت بہت بھیانک ہیں ، ہم موت کے منہ میں جارہے ہیں اور ہمیں ذرا برابر بھی اپنی زندگی سے پیار نہیں ہے، نہ ہم اپنی جان بچانا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کے خیرخواہ ہے۔ اس نازک مرحلے پر خود احتسابی اور احتیاط کا دامن تھامنے کی ضرورت ہے۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق کووِڈ19کے دوران دنیا بھر کے صارفین نے آن لائن خریداری کرنا شروع کردی ہے،لیکن ہم جب تک بازار جا کر خود خریداری کا ایڈونچر نہ کریں ہمیں چین نہیں آتا ہے، ملک میں کروڑوں لوگ کے پاس اسمارٹ فونز موجود ہیں کیا اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں بچانے کے لیے ہم آن لائن شاپنگ کی روش اختیار نہیں کرسکتے ہیں، ذرا سی دیر سوچیں اور اپنے طرزعمل میں مثبت تبدیلی لائیں۔قوم کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ابھی ویکسین پاکستان میں آئی نہیں ہے لہٰذا احتیاط کریں۔
ایس او پیز کی خلاف ورزی کر کے خود کشی نہ کریں، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ کورونا کے مزید 40 مریض انتقال کر گئے ہیں، یوں ہلاکتیں 3419 تک پہنچ گئی ہیں۔ 918 نئے کیسز سامنے آئے۔ مجموعی متاثرین 2 لاکھ 7407 ہو چکے ہیں، جب کہ دوسری جانب کورونا وائرس کے بڑھتے کیسزکی وجہ سے ضلع انتظامیہ پشاور نے مزید چار علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کورونا کی موجودہ صورتحال دیکھ کر لگتا نہیں کہ جنوری میں اسکول کھلیں گے لیکن اس مرتبہ امتحان کے بغیر کسی کو پاس نہیں کریں گے۔
ادھر دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد17لاکھ 24 ہزار 562 ہوگئی ہے۔جرمنی میں کورونا کے سبب 962نئی اموات ہوئیں۔بھارت میں مہلک کورونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ99 ہزار308 اور اموات ایک لاکھ 46ہزار476تک پہنچ گئی ہے۔برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم ایشیا پہنچ گئی ہے۔ہانگ کانگ میں دو طالبعلموں میں اس کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ دونوں طالبعلم برطانیہ سے ہانگ کانگ آئے تھے۔
یہ اعداوشمار دنیا بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت اور اس کے نتیجے میں آنیوالی تباہی کی نشاندہی کررہے ہیں یہ حقائق ہماری قوم کی بند آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔البتہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ کورونا متاثرین کی بحالی کے لیے ملک بھر میں فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔
فلاحی تنظیموں اورمختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رضا کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک فنڈز قائم کرے، جس کے ذریعے مخیر حضرات کے تعاون سے عوام کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین مفت لگائی جا سکے۔یہ تجویز صائب ہے، اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے تاکہ متاثرہ مریضوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔ہمیں دنیا میں ایک باشعور قوم ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ایس اوپیز پرعمل کرنااپنے اوپرلازم کرنا ہے ، اسی میں ہماری بقا ہے۔