سندھ کابینہ کا کیپٹنر صفدر کی گرفتاری وزرا کمیٹی کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس،ایس پی ایس سی کی نئی منتخب نرسوں کی تقرری اور پوسٹنگ کی فوری منظوری

سندھ میڈیکل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ،مردم شماری مسترد، معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائیگا فوٹو:فائل

سندھ کی صوبائی کابینہ نے پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے نجی میڈیکل اداروں کو ریگیولیٹ کرنے اور صوبے میں انکی فی اسٹرکچر کیلیے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کی مناسبت سے سندھ میڈیکل کمیشن (ایس ایم سی) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبے کے میڈیکل اداروں میں صوبے کے 95 فیصد طلبا کو داخلہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلی ہاؤس میں منعقد ہوا۔ محکمہ صحت نے کابینہ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ستمبر 2020 میں میڈیکل پروفیشنلز کے قواعد و ضوابط کی فراہمی اور میڈیسن اور دندان سازی میں قابلیت کی بنیادی اور اعلیٰ طبی تربیت کیلئے یکساں کم سے کم معیار کو قائم کرنے کے لیے پی ایم سی تشکیل دی تھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ پی ایم سی متعارف کرانے سے ٹیسٹوں کے انعقاد کے عمل کے دوران شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل بل (ایس ایم ڈی سی) تیار کیا گیا تھا اور اسے پہلے منظوری کیلئے پیش کیا گیا تھا، اس کے بعد پی ایم سی ایکٹ 2020 کو قومی اسمبلی نے منظور کیا لہذا ایس ایم ڈی سی بل کو نفاذ کیلیے صوبائی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا۔

کابینہ نے مکمل بحث و مباحثے کے بعد پی ایم سی کے ساتھ مل کر ایس ایم سی بنانے کا فیصلہ کیا، صوبائی کابینہ کو بتایا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں پہلے ہی پیش کیے گئے سنگین تحفظات کے باوجود وفاقی کابینہ نے مردم شماری 2017 کی منظوری دے دی ہے۔

صوبائی کابینہ نے مشاہدہ کیا کہ مردم شماری کا سبجیکٹ سی سی آئی کاہے اور وفاقی کابینہ اس کی منظوری کی اہل نہیں، سندھ کابینہ نے مردم شماری مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ وہ اس معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھائے گی، مسلم لیگ (ن) کے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے حوالے سے تشکیل دی گئی صوبائی وزرا کمیٹی کی رپورٹ کابینہ میں پیش کی گئی۔


اس رپورٹ میں کچھ وفاقی وزرا اور پی ٹی آئی کے مقامی ایم پی ایز نے مزار قائد کے احاطے میں نعرے بازی کرنے پر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلیے پولیس پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزار کے اندر نعرے بازی یا جو بھی ہو وہ مجسٹریٹ کا معاملہ تھا اور اس کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن وفاقی حکومت کے کچھ وزرا اور ایم پی ایز نے ایک ملزم شخص کی جھوٹی شکایت پر جوکہ مزار کے اندر موجود بھی نہیں تھا ایف آئی آر درج کرانے کیلیے پولیس پر دباؤ ڈالا، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس پر آرمی چیف پہلے ہی کارروائی کرچکے ہیں۔

کابینہ نے وزارتی کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم وفاقی حکومت سے اپیل کی جائے گی کہ وہ اس میں شامل اراکین کے خلاف کارروائی کرے، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے فور ٹائر فارمولے پر اپنی رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی اور ایس پی ایل اے کے نمائندوں نے ٹائم اسکیل فارمولہ کی حوصلہ شکنی کی اور فور ٹائر فارمولہ پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ گریڈ 19 اورگریڈ 20 میں براہ راست بھرتی کے قواعد پر نظرثانی کی جائے تاکہ ترقیوں اور براہ راست بھرتیوں کے 80:20 تناسب کے قواعد کو تبدیل کرتے ہوئے حقائق کی روشنی میں 90:10 کا تناسب مقرر کیا جائے کیوں کہ گزشتہ 10 سالوں میں گریڈ 19 اور گریڈ 20 میں ناکافی براہ راست بھرتیاں ہوئی ہیں۔

محکمہ صحت نے کابینہ کو بتایا کہ اس میں 300000 پی سی آر کٹس کی ضرورت تھی جس کیلیے کابینہ نے فوری خریداری کیلیے 30 ملین روپے جاری کرنیکی منظوری دی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ محکمہ صحت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 958 اسٹاف نرسز (مرد اور خواتین) گریڈ 16 کے عملہ کا انتخاب کیا لیکن انکی تقرری کیلیے ان کے آفر آرڈرز جاری کرنے میں مزید3 ماہ کا عرصہ لگے گا مگر جاری COVID-19 ایمرجنسی کے دوران نرسوں پر مشتمل عملے کی شدید ضرورت ہے کابینہ نے ایس پی ایس سی کی نئی منتخب نرسوں کی تقرری اور پوسٹنگ کی فوری طور پر منظوری دے دی۔
Load Next Story