ملکی سلامتی و دفاع اولین ترجیح
ملکی سلامتی اور دشمن قوتوں کی بھیانک سازشوں کے خلاف حکومت کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔
ملکی سلامتی اور دشمن قوتوں کی بھیانک سازشوں کے خلاف حکومت کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ فوٹو: فائل
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال سمیت علاقائی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
کنٹرول لائن کے ساتھ بھارتی افواج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور مسلسل اشتعال انگیز اقدامات اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر بھی گفتگو کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پوری قوم کی حمایت کے ساتھ مادروطن کا ہرقیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
یہ ملاقات اس حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان کی سلامتی کوجو مشکلات درپیش ہیں،ان کے تناظر میں ایک لائحہ عمل طے کیا جائے،دوسری جانب شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک اہلکار شہید اور سات زخمی ہوگئے۔
سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے حملے پر فوری جوابی کارروائی کی، فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مار گئے جب کہ دس زخمی ہوئے ۔دفاع وطن کے لیے اپنی جان نچھاورکرنیوالوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے،اگرچہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن اور ملک کے دیگر حصوں میں کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کے لیے گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن اب بھی دہشت گرد گروہ کسی نہ کسی صورت میں سرگرم عمل ہیں۔عسکریت پسندی اور پرتشدد انتہا پسندی کا سدباب کرنا ملک کا اولین سیکیورٹی ہدف ہے۔
شمالی وزیرستان میں موجودہ فوجی آپریشن سے پہلے جنوبی وزیرستان اور سوات میں دو موثر آپریشن ہوچکے ہیں، تاہم بے چہرہ دشمن ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ عسکری تنظیموں کے سینڈیکیٹ بالخصوص فرقہ ورانہ گروپوں سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے ابھی کافی کوششیں درکار ہیں۔
قبائلی علاقہ جات میں ہونے والی پیش رفت کو سیاسی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کے ذریعے تعمیر و منتقلی کے مراحل سے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران افغانستان میں جنگ و جدل کے اثرات پاکستان نے سہے ہیں۔ آج بھی ہمارے ملک میں 20لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں جو ہنوز دنیا کے کسی بھی ملک میں پناہ گزینوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، لہٰذا پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور متحد افغانستان کو اپنے بہترین مفاد میں دیکھتا ہے۔
موجودہ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے جڑواں چیلنج اس کے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات ہیں۔ دونوں محاذ پائیدار سیکیورٹی مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کئی سال سے دو محاذوں پر الجھنے سے بچنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس سیکیورٹی مخمصے کا تازہ ترین مظہر لائن آف کنٹرول پرکشیدگی اور پوری ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والی فائرنگ ہے، جو ایسے وقت ہورہی ہے جب پاکستانی فوج اپنی شمالی سرحدوں میں عسکریت پسندی سے جنگ میں مصروف ہے۔
ہمارے ازلی مکار دشمن بھارت نے ویسے تو قیام پاکستان کے وقت سے ہی پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی مذموم منصوبہ بندی کر لی تھی جس کے تحت وہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر ہی ہماری سلامتی چیلنج نہیں کرتا رہا بلکہ پاکستان کو اندرونی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں بھی مگن رہا ہے۔ ملک کی سرحدوں پراس نے دو بار جارحیت کے ارتکاب کے ذریعے ہماری سلامتی پر اوچھے وار کیے، پاکستان کو اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے بھارت نے کشمیر پر تسلط جما کر پاکستان پر آبی دہشت گردی کے راستے نکالے۔
اسی طرح پاکستان کے اندر لسانی اور فرقہ ورانہ کشیدگی پیدا کر کے ملک کو دہشت گردی کی جانب دھکیلنے کی سازش بھی بھارت ہی کی خانہ سازی ہے جس کے لیے وہ پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں اور پروردہ عناصر کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے خلاف ان تمام ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے میں بھارت نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی جب کہ اب وہ ہائبرڈ جنگ کے نئے ہتھیار کے ذریعے پاکستان کی نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرکے انھیں بانیان پاکستان اقبال و قائد کی متعین کردہ پاکستان کی منزل سے ہٹانے کی مذموم کوششوں میں سرگرم عمل ہو چکا ہے اور اس تناظر میں اس کا پہلا ہدف پاکستان کے ریاستی اداروں کو کسی نہ کسی حوالے سے متنازعہ بنا کر کمزور کرنے کا ہے ۔
چنانچہ ہمیں دشمن کے اس نئے وار کو بھی ناکام بنانا اور اسے پہلے کی طرح ہزیمت سے دوچار کرنے کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ تمام قومی اداروں اور پوری قوم کے متحد ہونے کا تاثر بھی مضبوط بنانا اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کرنا ہے۔دہشت گردی کے ناسور سے نجات کے لیے انتہا پسندوں ان کے سہولت کاروں اور سیاسی سرپرستوں کا محاسبہ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
دوسری جانب برٹش ورجن آئی لینڈ ہائیکورٹ کیس میں ٹی تھیان کاپر کمپنی کی درخواست پر پاکستانی اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے،قبل ازیں انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسمنٹ ڈسپیوٹ نے بارہ جولائی 2019 کو پاکستان کو 5.6 ارب ڈالرجرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا ۔بلاشبہ اس ضمن میں حکومت پاکستان ہرممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے مفادات کا دفاع کرے گی ۔بہرحال پاکستان اس وقت ایک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے، اس طرح کے فیصلوں کے نتیجے میں ملکی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ، لہٰذا ایسا میکنزم بنانے کی ضرورت ہے جس سے ہم اس خطرناک صورتحال سے نکل آئیں ۔
ایک جانب وطن عزیز کو سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا بھی پروان چڑھ رہی ہے، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی تناؤ اور کشیدگی بڑھتی جارہی ہے، اپوزیشن جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنا چاہتی ہیں جب کہ حکومت بھی اپوزیشن سے کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نظر نہیں آرہی ، یہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے ۔ اندرونی سیاسی عدم استحکام پاکستان کی ترقی وخوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اس صورتحال کے تدارک کے لیے حکومت اور اپوزیشن اتحاد کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑے گا تاکہ مسئلہ کا بہتر حل نکل سکے اور جو ملکی اندرونی استحکام دینے میں معاون ومددگار ثابت ہو۔
ملکی سلامتی اور دشمن قوتوں کی بھیانک سازشوں کے خلاف حکومت کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا، عوام نے حکومت پر اعتماد کیا ہے اور آپ کی ذمے داری ہے کہ پاکستان کے محب وطن اور غیور عوام کی امنگوں کی بھر پور ترجمانی کریں،ملک سے کرپشن،لاقانونیت،اقرباپروری کے خاتمے کے لیے جدوجہد کریں اور روایتی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں،ملک کو درپیش مشکلات خصوصاً پانی،صحت،تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے،جب کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانا حکومت کی لازمی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
آزاد خارجہ و داخلہ پالیسی پاکستان کی سلامتی و بقا کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے،امید ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس حوالے سے ایک مثال قائم کرے گی اور پاکستان کو ایشیا کے عظیم ممالک کے صفوں میں کھڑا کرنے میں کردار ادا کرے گی۔
کنٹرول لائن کے ساتھ بھارتی افواج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور مسلسل اشتعال انگیز اقدامات اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر بھی گفتگو کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پوری قوم کی حمایت کے ساتھ مادروطن کا ہرقیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
یہ ملاقات اس حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان کی سلامتی کوجو مشکلات درپیش ہیں،ان کے تناظر میں ایک لائحہ عمل طے کیا جائے،دوسری جانب شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک اہلکار شہید اور سات زخمی ہوگئے۔
سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے حملے پر فوری جوابی کارروائی کی، فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مار گئے جب کہ دس زخمی ہوئے ۔دفاع وطن کے لیے اپنی جان نچھاورکرنیوالوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے،اگرچہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن اور ملک کے دیگر حصوں میں کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کے لیے گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن اب بھی دہشت گرد گروہ کسی نہ کسی صورت میں سرگرم عمل ہیں۔عسکریت پسندی اور پرتشدد انتہا پسندی کا سدباب کرنا ملک کا اولین سیکیورٹی ہدف ہے۔
شمالی وزیرستان میں موجودہ فوجی آپریشن سے پہلے جنوبی وزیرستان اور سوات میں دو موثر آپریشن ہوچکے ہیں، تاہم بے چہرہ دشمن ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ عسکری تنظیموں کے سینڈیکیٹ بالخصوص فرقہ ورانہ گروپوں سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے ابھی کافی کوششیں درکار ہیں۔
قبائلی علاقہ جات میں ہونے والی پیش رفت کو سیاسی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کے ذریعے تعمیر و منتقلی کے مراحل سے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران افغانستان میں جنگ و جدل کے اثرات پاکستان نے سہے ہیں۔ آج بھی ہمارے ملک میں 20لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں جو ہنوز دنیا کے کسی بھی ملک میں پناہ گزینوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، لہٰذا پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور متحد افغانستان کو اپنے بہترین مفاد میں دیکھتا ہے۔
موجودہ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے جڑواں چیلنج اس کے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات ہیں۔ دونوں محاذ پائیدار سیکیورٹی مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کئی سال سے دو محاذوں پر الجھنے سے بچنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس سیکیورٹی مخمصے کا تازہ ترین مظہر لائن آف کنٹرول پرکشیدگی اور پوری ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والی فائرنگ ہے، جو ایسے وقت ہورہی ہے جب پاکستانی فوج اپنی شمالی سرحدوں میں عسکریت پسندی سے جنگ میں مصروف ہے۔
ہمارے ازلی مکار دشمن بھارت نے ویسے تو قیام پاکستان کے وقت سے ہی پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی مذموم منصوبہ بندی کر لی تھی جس کے تحت وہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر ہی ہماری سلامتی چیلنج نہیں کرتا رہا بلکہ پاکستان کو اندرونی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں بھی مگن رہا ہے۔ ملک کی سرحدوں پراس نے دو بار جارحیت کے ارتکاب کے ذریعے ہماری سلامتی پر اوچھے وار کیے، پاکستان کو اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے بھارت نے کشمیر پر تسلط جما کر پاکستان پر آبی دہشت گردی کے راستے نکالے۔
اسی طرح پاکستان کے اندر لسانی اور فرقہ ورانہ کشیدگی پیدا کر کے ملک کو دہشت گردی کی جانب دھکیلنے کی سازش بھی بھارت ہی کی خانہ سازی ہے جس کے لیے وہ پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں اور پروردہ عناصر کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے خلاف ان تمام ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے میں بھارت نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی جب کہ اب وہ ہائبرڈ جنگ کے نئے ہتھیار کے ذریعے پاکستان کی نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرکے انھیں بانیان پاکستان اقبال و قائد کی متعین کردہ پاکستان کی منزل سے ہٹانے کی مذموم کوششوں میں سرگرم عمل ہو چکا ہے اور اس تناظر میں اس کا پہلا ہدف پاکستان کے ریاستی اداروں کو کسی نہ کسی حوالے سے متنازعہ بنا کر کمزور کرنے کا ہے ۔
چنانچہ ہمیں دشمن کے اس نئے وار کو بھی ناکام بنانا اور اسے پہلے کی طرح ہزیمت سے دوچار کرنے کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ تمام قومی اداروں اور پوری قوم کے متحد ہونے کا تاثر بھی مضبوط بنانا اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کرنا ہے۔دہشت گردی کے ناسور سے نجات کے لیے انتہا پسندوں ان کے سہولت کاروں اور سیاسی سرپرستوں کا محاسبہ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
دوسری جانب برٹش ورجن آئی لینڈ ہائیکورٹ کیس میں ٹی تھیان کاپر کمپنی کی درخواست پر پاکستانی اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے،قبل ازیں انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسمنٹ ڈسپیوٹ نے بارہ جولائی 2019 کو پاکستان کو 5.6 ارب ڈالرجرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا ۔بلاشبہ اس ضمن میں حکومت پاکستان ہرممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے مفادات کا دفاع کرے گی ۔بہرحال پاکستان اس وقت ایک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے، اس طرح کے فیصلوں کے نتیجے میں ملکی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ، لہٰذا ایسا میکنزم بنانے کی ضرورت ہے جس سے ہم اس خطرناک صورتحال سے نکل آئیں ۔
ایک جانب وطن عزیز کو سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا بھی پروان چڑھ رہی ہے، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی تناؤ اور کشیدگی بڑھتی جارہی ہے، اپوزیشن جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنا چاہتی ہیں جب کہ حکومت بھی اپوزیشن سے کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نظر نہیں آرہی ، یہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے ۔ اندرونی سیاسی عدم استحکام پاکستان کی ترقی وخوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اس صورتحال کے تدارک کے لیے حکومت اور اپوزیشن اتحاد کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑے گا تاکہ مسئلہ کا بہتر حل نکل سکے اور جو ملکی اندرونی استحکام دینے میں معاون ومددگار ثابت ہو۔
ملکی سلامتی اور دشمن قوتوں کی بھیانک سازشوں کے خلاف حکومت کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا، عوام نے حکومت پر اعتماد کیا ہے اور آپ کی ذمے داری ہے کہ پاکستان کے محب وطن اور غیور عوام کی امنگوں کی بھر پور ترجمانی کریں،ملک سے کرپشن،لاقانونیت،اقرباپروری کے خاتمے کے لیے جدوجہد کریں اور روایتی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں،ملک کو درپیش مشکلات خصوصاً پانی،صحت،تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے،جب کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانا حکومت کی لازمی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
آزاد خارجہ و داخلہ پالیسی پاکستان کی سلامتی و بقا کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے،امید ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس حوالے سے ایک مثال قائم کرے گی اور پاکستان کو ایشیا کے عظیم ممالک کے صفوں میں کھڑا کرنے میں کردار ادا کرے گی۔