ملک بھر میں جرائم کی شرح میں اضافہ تشویشناک پہلو
پولیس میں چند کالی بھیڑیں اس محکمے کو بدنام کر رہی ہیں جن کی پشت پر بعض بااثر سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے
KARACHI ':
رواں سال اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے جب کہ نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے، ملک بھر میںہونیوالے جرائم کی شرح کے جو اعدادوشمار سامنے آئے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں ،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رواں سال میں چوری، ڈکیتی، قتل، اقدام قتل سرقہ بالجبر ، زنا اور گاڑی چوری کے 2500 کے قریب واقعات رپورٹ ہوئے۔
130 افراد قتل جب کہ اقدام قتل کے 190 واقعات رپورٹ ہوئے۔پاکستان کے دو بڑے شہروں لاہور اور کراچی میں ڈکیتی پر مزاحمت کے دوران قتل ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً برابر رہی ۔ شہر قائد میں اسٹریٹ کرمنلز کے لیے جنت بنا رہا ، رواں سال موبائل فونز ، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں چھیننے و چوری کرنے کی 59ہزار738 وارداتیں رپورٹ ہوئی،رواں سال شہریوں سے 21ہزار354 موبائل فونز اور 2ہزار 363 موٹر سائیکلیں اور 190 گاڑیاں اسلحے کے زور پرچھین لی گئیں۔
ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں پشاور، کوئٹہ ، فیصل آباد، حیدرآباد، ملتان، سکھرمیں جرائم پیشہ افراد نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے، ملک میں روزانہ آٹھ سے زائد بچے جنسی استحصال کا نشانہ بن رہے ہیں ۔
دوسری جانب آئی ایم ایف سال 2020کے لیے اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں اس خدشہ کا اظہار کرچکی ہے کہ رواںسال پاکستان میں معاشی شرح نمو منفی اعشاریہ چار فی صد رہے گی، جب کہ مالی سال 2021 میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح 8.8 فی صد ہوسکتی ہے، اگلے برس پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5.10 فی صد ہونے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔قانون کسی بھی معاشرے کے اجتماعی شعور کا عکاس ہوتا ہے ، ریاست کی اتھارٹی، معاشرے کی اقدار اور قانون کی عملداری سے ریاست کی رٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنا پولیس کے بنیادی فرائض میں شامل ہے لیکن یہاں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پولیس افسران اپنی ذمے داری سے غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں یہی لاپروائی جرائم میں اضافے کا سبب ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آجکل پولیسنگ نظام تو چوکی کی صورت میں گلی محلوں اور دیہات تک رسائی حاصل کر چکا ہے لیکن جرائم کی شرح میں ہوشربا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ پولیس نظام میں موثر بہتری کی نوید کئی بار سنائی دی گئی مگر پولیس کی تمام تر خرابیوں کے ساتھ پرنالہ اپنی جگہ موجود ہے اور کارکردگی روزبروز گھمبیر صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔
آئے روز پوش اور گنجان آباد محلوں، اہم تجارتی مراکز میں ڈاکا زنی، دن دیہاڑے گن پوائنٹ پر لوٹ مار کی دلیرانہ وارداتوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔ پولیس بے بس ولاچارگی کے عالم میں پولیس ملازمین کی کمی اورعدم وسائل کا روناروکر عوام کو صبر کرنے کی تلقین کردیتی ہے ۔
چند پولیس ملازمین وتفتیشی افسران اور چندایس ایچ او پورے شہر کو کس حد تک کنٹرول کرسکتے ہیں، افسران اور سیاسی شخصیات کے پروٹوکول کی ڈیوٹی الگ وبال جان بنی ہوئی ہے، ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر نماز کے اوقات میں پولیس اہلکار الگ سے ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں اور زنگ آلود اسلحے کے ہمراہ علاقوں کا گشت بھی پوری طرح ممکن نہیں۔پولیس کی عمدہ کارکردگی پر سوالیہ نشان ضرور ہے اکثر وارداتوں میں ملزمان کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہیں، اس کے باوجود ان کی گرفتاری کا نہ ہونا معنی خیز ہے تاحال لوٹ مار ڈکیتی کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔
پاکستان کے تمام دیہات ، قصبوں اور شہروں میں چوروںاور لٹیروں کا بسیرا ہے ہر طرف خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ اوباش نوجوان اسلحہ لیے دن بھر بازاروں گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں جو موقع ملتے ہی واردات کر ڈالتے ہیں، اس قسم کی سیکڑوں وارداتیں ریکارڈ پر نہیں ہیں۔ ملک میں منشیات کھلے عام فروخت ہورہی ہے بلکہ متعدد علاقے پولیس کے لیے نوگوایریا کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو ایک کھلا چیلنج ہے پولیس روایتی طور پر منشیات کے ڈیلروں کے بجائے نشہ کے عادی افراد کو گرفتار کر کے جان چھڑا لیتی ہے۔
پولیس میں جہاں فرض شناس اور ایمان دار افراد کی کمی نہیں وہاں چند کالی بھیڑیں اس محکمے کو بدنام کر رہی ہیں ان کی پشت پر بعض بااثر سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے جن کے آگے شریف اور فرض شناس آفیسر بے بس ہی نظر آتا ہے۔ محکمہ پولیس میں اصلاحات لاکر ، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید طریقہ تفتیش اختیار کر کے جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔
رواں سال اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے جب کہ نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے، ملک بھر میںہونیوالے جرائم کی شرح کے جو اعدادوشمار سامنے آئے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں ،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رواں سال میں چوری، ڈکیتی، قتل، اقدام قتل سرقہ بالجبر ، زنا اور گاڑی چوری کے 2500 کے قریب واقعات رپورٹ ہوئے۔
130 افراد قتل جب کہ اقدام قتل کے 190 واقعات رپورٹ ہوئے۔پاکستان کے دو بڑے شہروں لاہور اور کراچی میں ڈکیتی پر مزاحمت کے دوران قتل ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً برابر رہی ۔ شہر قائد میں اسٹریٹ کرمنلز کے لیے جنت بنا رہا ، رواں سال موبائل فونز ، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں چھیننے و چوری کرنے کی 59ہزار738 وارداتیں رپورٹ ہوئی،رواں سال شہریوں سے 21ہزار354 موبائل فونز اور 2ہزار 363 موٹر سائیکلیں اور 190 گاڑیاں اسلحے کے زور پرچھین لی گئیں۔
ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں پشاور، کوئٹہ ، فیصل آباد، حیدرآباد، ملتان، سکھرمیں جرائم پیشہ افراد نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے، ملک میں روزانہ آٹھ سے زائد بچے جنسی استحصال کا نشانہ بن رہے ہیں ۔
دوسری جانب آئی ایم ایف سال 2020کے لیے اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں اس خدشہ کا اظہار کرچکی ہے کہ رواںسال پاکستان میں معاشی شرح نمو منفی اعشاریہ چار فی صد رہے گی، جب کہ مالی سال 2021 میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح 8.8 فی صد ہوسکتی ہے، اگلے برس پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5.10 فی صد ہونے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔قانون کسی بھی معاشرے کے اجتماعی شعور کا عکاس ہوتا ہے ، ریاست کی اتھارٹی، معاشرے کی اقدار اور قانون کی عملداری سے ریاست کی رٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنا پولیس کے بنیادی فرائض میں شامل ہے لیکن یہاں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پولیس افسران اپنی ذمے داری سے غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں یہی لاپروائی جرائم میں اضافے کا سبب ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آجکل پولیسنگ نظام تو چوکی کی صورت میں گلی محلوں اور دیہات تک رسائی حاصل کر چکا ہے لیکن جرائم کی شرح میں ہوشربا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ پولیس نظام میں موثر بہتری کی نوید کئی بار سنائی دی گئی مگر پولیس کی تمام تر خرابیوں کے ساتھ پرنالہ اپنی جگہ موجود ہے اور کارکردگی روزبروز گھمبیر صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔
آئے روز پوش اور گنجان آباد محلوں، اہم تجارتی مراکز میں ڈاکا زنی، دن دیہاڑے گن پوائنٹ پر لوٹ مار کی دلیرانہ وارداتوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔ پولیس بے بس ولاچارگی کے عالم میں پولیس ملازمین کی کمی اورعدم وسائل کا روناروکر عوام کو صبر کرنے کی تلقین کردیتی ہے ۔
چند پولیس ملازمین وتفتیشی افسران اور چندایس ایچ او پورے شہر کو کس حد تک کنٹرول کرسکتے ہیں، افسران اور سیاسی شخصیات کے پروٹوکول کی ڈیوٹی الگ وبال جان بنی ہوئی ہے، ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر نماز کے اوقات میں پولیس اہلکار الگ سے ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں اور زنگ آلود اسلحے کے ہمراہ علاقوں کا گشت بھی پوری طرح ممکن نہیں۔پولیس کی عمدہ کارکردگی پر سوالیہ نشان ضرور ہے اکثر وارداتوں میں ملزمان کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہیں، اس کے باوجود ان کی گرفتاری کا نہ ہونا معنی خیز ہے تاحال لوٹ مار ڈکیتی کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔
پاکستان کے تمام دیہات ، قصبوں اور شہروں میں چوروںاور لٹیروں کا بسیرا ہے ہر طرف خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ اوباش نوجوان اسلحہ لیے دن بھر بازاروں گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں جو موقع ملتے ہی واردات کر ڈالتے ہیں، اس قسم کی سیکڑوں وارداتیں ریکارڈ پر نہیں ہیں۔ ملک میں منشیات کھلے عام فروخت ہورہی ہے بلکہ متعدد علاقے پولیس کے لیے نوگوایریا کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو ایک کھلا چیلنج ہے پولیس روایتی طور پر منشیات کے ڈیلروں کے بجائے نشہ کے عادی افراد کو گرفتار کر کے جان چھڑا لیتی ہے۔
پولیس میں جہاں فرض شناس اور ایمان دار افراد کی کمی نہیں وہاں چند کالی بھیڑیں اس محکمے کو بدنام کر رہی ہیں ان کی پشت پر بعض بااثر سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے جن کے آگے شریف اور فرض شناس آفیسر بے بس ہی نظر آتا ہے۔ محکمہ پولیس میں اصلاحات لاکر ، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید طریقہ تفتیش اختیار کر کے جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔