بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم جاری
بھارت کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا، یہ بات طے شدہ ہے
گزشتہ روز بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ،مقبوضہ وادی میں ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے بعد 75 سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بھارت کے زیر کنٹرول مسلم اکثریتی علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد یہ پہلے انتخابات تھے ۔ نام نہاد انتخابات کے بعد یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کو کشمیریوں نے دل سے قبول نہیں کیا ہے۔
بھارت نے نام نہاد جمہوریت اور سیکولر ازم کی آڑ میں مقبوضہ علاقے میں ظلم وستم کا جو بازار گرم کر رکھا ہے، موجودہ وقت میں اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ مقبوضہ کشمیرایک ایسا خطہ ہے جس کے عوام اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں جہاں ان کی اکثریت ہے اور وہ سات دہائیوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، بھارت اپنی تمام تر کوششوں اور بد اعمالیوں کے باوجود ابھی تک اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے اور اس خطے میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو سکی اور نہ ہی کشمیری عوام نے بھارتی دباؤ کا کوئی اثر قبول کیا ہے۔
اسی تناظر میں صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت کی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیری نوجوانوں پر بدترین تشدد اور ان کی برین واشنگ کرکے انھیں آزادی کے مطالبے سے منحرف کرنے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کر کے ان نوجوانوں اور دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔
کشمیر ی مجاہدین کی تیسری نسل آزادی کی جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہے۔ کشمیر کا کوئی بھی گھر ایسا نہیں جس نے جدوجہد آزادی کے لیے قربانیاں نہ دی ہوں، بلکہ اب دوبارہ حریت پسندوں کی آزادی کی جدوجہد میں مزید تیزی آتی جا رہی ہے ۔ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کے جذبے سے سرشار ہے اور بھارت کے خلاف شدید نفرت کے جذبات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ کشمیر میںانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری عوام کا اعتماد متزلزل نہیں ہوا اور وہ آہنی دیوار کی طرح اپنی جگہ پر مضبوط کھڑے ہیں۔
بھارتی فوجیوں نے وادی میں کشت و خوں کا بازار گرم کر رکھا ہے، کاروبار حیات بند ہے، گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے، چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں اذیتیں دی جا رہی ہیں، حریت رہنماؤں کو نظر بند کرکے ان پر ظالمانہ تشدد کیا جا رہا ہے انھیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جا رہی ہیں، کشمیریوں کو مذہبی رسومات تک ادا کرنے کی آزادی نہیں۔ بھارت نے اس وقت مقبوضہ علاقے میں تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔
حریت رہنماؤں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے جہاں انھیں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، انھیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے اور ان کی غیر قانونی نظر بندی کو طول دینے کے لیے انھیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ضلع ترقیاتی انتخابات کے انعقاد کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ علاقے میں حالات بالکل ٹھیک ہیں۔ لاکھوں بھارتی فوجیوں کے پہرے میںکرائے جانے والے نام نہاد انتخابات سے کشمیریوں کا کوئی لینا دینا نہیںکیونکہ کشمیری ڈھونگ انتخابات کے لیے نہیں بلکہ غیر قانونی بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں۔
بھارت کے غیر قانونی اقدامات دنیا کی توجہ کے متقاضی ہیں اور بھارت کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا، یہ بات طے شدہ ہے ، لیکن بھارت سرکار طاقت کے نشے میں اندھی ہوچکی ہے۔
کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر روز اوّل سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سرفہرست رہا اور ہر پاکستانی حکومت مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔
مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے بعد دنیا کی سپر پاور بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات پر زور دے رہی ہے اور اس درپیش مسئلے کو جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ محسوس کرتی ہے۔اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں کشمیریوں سے اِس بات کا عہد کرتی ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔
سنگینوں کے سائے میں زندگی گزارنے والے آج بھی پر امید ہیں کہ ایک دن وہ ضرور آئے گا جب وہ بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔
بھارت کے زیر کنٹرول مسلم اکثریتی علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد یہ پہلے انتخابات تھے ۔ نام نہاد انتخابات کے بعد یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کو کشمیریوں نے دل سے قبول نہیں کیا ہے۔
بھارت نے نام نہاد جمہوریت اور سیکولر ازم کی آڑ میں مقبوضہ علاقے میں ظلم وستم کا جو بازار گرم کر رکھا ہے، موجودہ وقت میں اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ مقبوضہ کشمیرایک ایسا خطہ ہے جس کے عوام اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں جہاں ان کی اکثریت ہے اور وہ سات دہائیوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، بھارت اپنی تمام تر کوششوں اور بد اعمالیوں کے باوجود ابھی تک اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے اور اس خطے میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو سکی اور نہ ہی کشمیری عوام نے بھارتی دباؤ کا کوئی اثر قبول کیا ہے۔
اسی تناظر میں صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت کی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیری نوجوانوں پر بدترین تشدد اور ان کی برین واشنگ کرکے انھیں آزادی کے مطالبے سے منحرف کرنے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کر کے ان نوجوانوں اور دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔
کشمیر ی مجاہدین کی تیسری نسل آزادی کی جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہے۔ کشمیر کا کوئی بھی گھر ایسا نہیں جس نے جدوجہد آزادی کے لیے قربانیاں نہ دی ہوں، بلکہ اب دوبارہ حریت پسندوں کی آزادی کی جدوجہد میں مزید تیزی آتی جا رہی ہے ۔ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کے جذبے سے سرشار ہے اور بھارت کے خلاف شدید نفرت کے جذبات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ کشمیر میںانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری عوام کا اعتماد متزلزل نہیں ہوا اور وہ آہنی دیوار کی طرح اپنی جگہ پر مضبوط کھڑے ہیں۔
بھارتی فوجیوں نے وادی میں کشت و خوں کا بازار گرم کر رکھا ہے، کاروبار حیات بند ہے، گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے، چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں اذیتیں دی جا رہی ہیں، حریت رہنماؤں کو نظر بند کرکے ان پر ظالمانہ تشدد کیا جا رہا ہے انھیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جا رہی ہیں، کشمیریوں کو مذہبی رسومات تک ادا کرنے کی آزادی نہیں۔ بھارت نے اس وقت مقبوضہ علاقے میں تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔
حریت رہنماؤں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے جہاں انھیں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، انھیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے اور ان کی غیر قانونی نظر بندی کو طول دینے کے لیے انھیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ضلع ترقیاتی انتخابات کے انعقاد کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ علاقے میں حالات بالکل ٹھیک ہیں۔ لاکھوں بھارتی فوجیوں کے پہرے میںکرائے جانے والے نام نہاد انتخابات سے کشمیریوں کا کوئی لینا دینا نہیںکیونکہ کشمیری ڈھونگ انتخابات کے لیے نہیں بلکہ غیر قانونی بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں۔
بھارت کے غیر قانونی اقدامات دنیا کی توجہ کے متقاضی ہیں اور بھارت کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا، یہ بات طے شدہ ہے ، لیکن بھارت سرکار طاقت کے نشے میں اندھی ہوچکی ہے۔
کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر روز اوّل سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سرفہرست رہا اور ہر پاکستانی حکومت مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔
مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے بعد دنیا کی سپر پاور بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات پر زور دے رہی ہے اور اس درپیش مسئلے کو جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ محسوس کرتی ہے۔اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں کشمیریوں سے اِس بات کا عہد کرتی ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔
سنگینوں کے سائے میں زندگی گزارنے والے آج بھی پر امید ہیں کہ ایک دن وہ ضرور آئے گا جب وہ بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔