پاک بھارت سرحدی محافظوں کا اجلاس
پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے چودہ سال بعد ہونے والے آئس بریکنگ اجلاس کے بعد دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کا۔۔۔
غلطی سے سرحد کراس کرنے والوں کے بارے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کو فوری طور پر آگاہ کریں گے، اعلامیے میں فیصلہ۔ فوٹو:این این آئی
KARACHI:
پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے چودہ سال بعد ہونے والے آئس بریکنگ اجلاس کے بعد دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کا پانچ روزہ اجلاس لاہور میں ہوا جس میں طے کیا گیا ہے کہ دونوں فریق ورکنگ بائونڈری اور انٹرنیشنل بارڈر کے تنازعات کے فوری حل کے لیے پرامن کوششوں کو جاری رکھیں گی۔ اجلاس میں موثر رابطوں پر اتفاق کے علاوہ فائر بندی کے معاہدے پر سختی سے عملدرآمد اور ان واقعات کے مستقل روک تھام کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان سے ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل طاہر جاوید خان جب کہ بھارت کے 13 رکنی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل بی ایس ایف لیفٹیننٹ جنرل سبھاش جوشی نے کی۔ اس سلسلے کا اگلا ششماہی اجلاس 2014 میں نئی دہلی میں ہو گا۔
جہاں تک اس اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کا تعلق ہے تو غلطی سے سرحد عبور کرنے والوں کی فوری واپسی کا فیصلہ بہت خوش آیند ہے اس کے علاوہ اسمگلنگ روکنے کے لیے مشترکہ فوجی گشت بھی یقیناً بہت موثر ثابت ہو گی۔ چند دن پہلے ایک خبر آئی تھی کہ دونوں ممالک کی بین الاقوامی سرحد پر جو لاکھوں ایکڑ اراضی نو مینز لینڈ کی صورت میں چھ سات عشروں سے بیکار پڑی ہے وہاں مشترکہ طور پر سبزیاں کاشت کی جائیں گی تاہم موجودہ اجلاس میں جن فیصلوں کا اعلان ہوا ہے ان میں اس مشترکہ کاشتکاری کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ دونوں ملکوں کے عوام کے لیے سب سے مفید یہی چیز ہے تاہم دیگر فیصلوں میں بارڈر پر غیرقانونی تعمیرات روکنے اور جنگلی سرکنڈوں کے خاتمے جیسے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کی فوری واپسی کو یقینی بنایا جائے گا، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے خفیہ معلومات کے فوری تبادلے پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک کی سرحدی فورسز مشترکہ گشت کریں گی۔ غیر قانونی بارڈر کراسنگ کو روکا جائے گا۔
ہمارے خیال میں اس سلسلے کے آیندہ ششماہی اجلاس میں جو دہلی میں منعقد ہو گا، اس میں مزید اچھے فیصلے ہونے چاہئیں۔خصوصاً سرحدکراس کرنے والے بے گناہ افراد کے حوالے سے مزید رعایتیں ہونی چاہئیں۔ پاک بھارت سرحد کے آر پار دیہات ہیں۔یہ دیہاتی بعض اوقات دانستہ یا نادانستہ سرحد پاکرلیتے ہیں۔ ایسی طرح بعض پاکستانی نوجوان بھارتی اداکارائوں کو دیکھنے کے شوق میں غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے ہوئے گرفتار ہو جاتے ہیں۔ کچھ ذہنی مریض بھی ایسا کر لیتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ کئی ایک پر جاسوس کا الزام لگ جاتا ہے اس طرح یہ لوگ برسوں جیلوں میں پڑے رہتے ہیںیہ ظلم ہے۔ اصولی طور پر پاک بھارت سرحدوں کو دونوں ملکوں کے عوام کے لیے کسی قدر نرم بنانے پر بھی غور کیا جانا چاہیے جس طرح یورپ کے تمام ملکوں نے نقل و حرکت کے لیے ویزے کی پابندی ختم کر رکھی ہے حالانکہ ان میں کئی ایسے ملک بھی ہیں جن میں سیکڑوں سال تک خونریز جنگیں ہوتی رہی ہیں۔
یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا جو باون ریاستوں پر مشتمل ہے اور جن میں کئی ریاستیں ہمارے پورے ملک سے بڑی ہیں وہاں بھی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے حالانکہ وہاں ان ریاستوں میں زبردست خانہ جنگی ہوتی رہی ہے۔ تو کیا ہمارے بے چارے عوام کو اس قدر آزادی کا حق حاصل نہیں ہو سکتا۔جہاں تک اسمگلنگ کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے بھی دونوں ملکوں کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ منشیات 'آتش گیر اور دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ کے سوا دیگر اشیاء کو قانونی کور دیا جائے۔ اس طریقے سے اسمگلنگ کے حجم میں بہت زیادہ کمی آ جائے گی۔ یہ فیصلے تو دونوں ملکوں کی اعلیٰ سطح کی قیادت کو کرنے ہیں لیکن پاکستان رینجرز اور بھارتی بی ایس ایف کے سربراہوں کی ملاقات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے' اس سے سرحدوں کا ماحول بہتر ہو گا جو اسی خطے میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔
پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے چودہ سال بعد ہونے والے آئس بریکنگ اجلاس کے بعد دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کا پانچ روزہ اجلاس لاہور میں ہوا جس میں طے کیا گیا ہے کہ دونوں فریق ورکنگ بائونڈری اور انٹرنیشنل بارڈر کے تنازعات کے فوری حل کے لیے پرامن کوششوں کو جاری رکھیں گی۔ اجلاس میں موثر رابطوں پر اتفاق کے علاوہ فائر بندی کے معاہدے پر سختی سے عملدرآمد اور ان واقعات کے مستقل روک تھام کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان سے ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل طاہر جاوید خان جب کہ بھارت کے 13 رکنی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل بی ایس ایف لیفٹیننٹ جنرل سبھاش جوشی نے کی۔ اس سلسلے کا اگلا ششماہی اجلاس 2014 میں نئی دہلی میں ہو گا۔
جہاں تک اس اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کا تعلق ہے تو غلطی سے سرحد عبور کرنے والوں کی فوری واپسی کا فیصلہ بہت خوش آیند ہے اس کے علاوہ اسمگلنگ روکنے کے لیے مشترکہ فوجی گشت بھی یقیناً بہت موثر ثابت ہو گی۔ چند دن پہلے ایک خبر آئی تھی کہ دونوں ممالک کی بین الاقوامی سرحد پر جو لاکھوں ایکڑ اراضی نو مینز لینڈ کی صورت میں چھ سات عشروں سے بیکار پڑی ہے وہاں مشترکہ طور پر سبزیاں کاشت کی جائیں گی تاہم موجودہ اجلاس میں جن فیصلوں کا اعلان ہوا ہے ان میں اس مشترکہ کاشتکاری کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ دونوں ملکوں کے عوام کے لیے سب سے مفید یہی چیز ہے تاہم دیگر فیصلوں میں بارڈر پر غیرقانونی تعمیرات روکنے اور جنگلی سرکنڈوں کے خاتمے جیسے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کی فوری واپسی کو یقینی بنایا جائے گا، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے خفیہ معلومات کے فوری تبادلے پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک کی سرحدی فورسز مشترکہ گشت کریں گی۔ غیر قانونی بارڈر کراسنگ کو روکا جائے گا۔
ہمارے خیال میں اس سلسلے کے آیندہ ششماہی اجلاس میں جو دہلی میں منعقد ہو گا، اس میں مزید اچھے فیصلے ہونے چاہئیں۔خصوصاً سرحدکراس کرنے والے بے گناہ افراد کے حوالے سے مزید رعایتیں ہونی چاہئیں۔ پاک بھارت سرحد کے آر پار دیہات ہیں۔یہ دیہاتی بعض اوقات دانستہ یا نادانستہ سرحد پاکرلیتے ہیں۔ ایسی طرح بعض پاکستانی نوجوان بھارتی اداکارائوں کو دیکھنے کے شوق میں غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے ہوئے گرفتار ہو جاتے ہیں۔ کچھ ذہنی مریض بھی ایسا کر لیتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ کئی ایک پر جاسوس کا الزام لگ جاتا ہے اس طرح یہ لوگ برسوں جیلوں میں پڑے رہتے ہیںیہ ظلم ہے۔ اصولی طور پر پاک بھارت سرحدوں کو دونوں ملکوں کے عوام کے لیے کسی قدر نرم بنانے پر بھی غور کیا جانا چاہیے جس طرح یورپ کے تمام ملکوں نے نقل و حرکت کے لیے ویزے کی پابندی ختم کر رکھی ہے حالانکہ ان میں کئی ایسے ملک بھی ہیں جن میں سیکڑوں سال تک خونریز جنگیں ہوتی رہی ہیں۔
یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا جو باون ریاستوں پر مشتمل ہے اور جن میں کئی ریاستیں ہمارے پورے ملک سے بڑی ہیں وہاں بھی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے حالانکہ وہاں ان ریاستوں میں زبردست خانہ جنگی ہوتی رہی ہے۔ تو کیا ہمارے بے چارے عوام کو اس قدر آزادی کا حق حاصل نہیں ہو سکتا۔جہاں تک اسمگلنگ کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے بھی دونوں ملکوں کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ منشیات 'آتش گیر اور دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ کے سوا دیگر اشیاء کو قانونی کور دیا جائے۔ اس طریقے سے اسمگلنگ کے حجم میں بہت زیادہ کمی آ جائے گی۔ یہ فیصلے تو دونوں ملکوں کی اعلیٰ سطح کی قیادت کو کرنے ہیں لیکن پاکستان رینجرز اور بھارتی بی ایس ایف کے سربراہوں کی ملاقات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے' اس سے سرحدوں کا ماحول بہتر ہو گا جو اسی خطے میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔