پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی اثاثوں اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کی فہرست ایک دوسرے کو فراہم کرتے ہیں
معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کی فہرست ایک دوسرے کو فراہم کرتے ہیں۔ فوٹو:فائل
پاکستان اور بھارت نے ایٹمی تنصیبات اور قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کیا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ ہے، یہ معاہدہ 31 دسمبر 1988 کو طے پایا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کی فہرست ایک دوسرے کو فراہم کرتے ہیں، اس حوالے سے وزارت خارجہ نے پاکستان میں جوہری تنصیبات کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کر دی، جب کہ بھارت میں جوہری تنصیبات کی فہرست بھی بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کر دی ہے، دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلہ پر عمل درآمد یکم جنوری 1992 سے جاری ہے۔
ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ ہے، یہ معاہدہ 31 دسمبر 1988 کو طے پایا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کی فہرست ایک دوسرے کو فراہم کرتے ہیں، اس حوالے سے وزارت خارجہ نے پاکستان میں جوہری تنصیبات کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کر دی، جب کہ بھارت میں جوہری تنصیبات کی فہرست بھی بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کر دی ہے، دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلہ پر عمل درآمد یکم جنوری 1992 سے جاری ہے۔