جامعہ کراچی شعبہ کمپویٹر سائنس اور ابلاغ عامہ سے 2انسٹیٹیوٹس علیحدہ کرنیکی سفارش

انسٹیٹیوٹس میںڈائریکٹرزاوربورڈ آف گورنرزتشکیل دیے جائیں،اراکین سینڈیکیٹ،’’سینڈیکیٹ‘‘کااجلاس 15ستمبرکوطلب.

انسٹیٹیوٹس میںڈائریکٹرزاوربورڈ آف گورنرزتشکیل دیے جائیں،اراکین سینڈیکیٹ،’’سینڈیکیٹ‘‘کااجلاس 15ستمبرکوطلب۔ فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کے اراکین سینڈیکیٹ پرمشتمل کمیٹی نے شعبہ کمپیوٹرسائنس کو ''عمیر باشاانسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی'' اورشعبہ ابلاغ عامہ کو''فیروز احمد انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن '' سے علیحدہ کرنے کی سفارش کردی ہے۔

جبکہ دونوں مذکورہ انسٹی ٹیوٹس کوعلیحدہ حیثیت دینے کیلیے ان میں ڈائریکٹرزکاتقرر اور فوری طورپربورڈآف گورنرزتشکیل دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے مزید براں گلستان جوہرمیں قائم یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف کلینکل سائیکولوجی پریونیورسٹی کے کمزورانتظامی کنٹرول پرتنقید کرتے ہوئے انسٹیٹیوٹ کے معاملات پرکارروائی کرنے کی تجویزدی گئی ہے ،شعبہ کمپیوٹرسائنس اورشعبہ ابلاغ عامہ کوانسٹی ٹیوٹس سے علیحدہ کرنے اورانسٹی ٹیوٹ آف کلینکل سائیکولوجی کے خلاف کارروائی کی اراکین سینڈیکیٹ کی سفارش پرفیصلے اور منظوری کیلیے جامعہ کراچی کے بااختیار ادارے ''سینڈیکیٹ'' کا اجلاس ہفتہ15ستمبرکوطلب کرلیا گیا ہے جس کی صدارت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کریں گے۔


جامعہ کراچی کے رکن سینڈیکیٹ اور سینیٹر عبدالحسیب خان کی سربراہی اور پروفیسر ماجد ممتاز، پروفیسر فیاض ویدمدنی، ڈاکٹر حارث شعیب اور غزل خواجہ ہمایوں پرمشتمل کمیٹی کی جانب سے وائس چانسلر کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ شعبہ کمپیوٹرسائنس اورشعبہ ابلاغ عامہ کویونیورسٹی قوانین کے مطابق چلایاجائے جبکہ عمیرپاشاانسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اورڈاکٹر فیروز احمد انسٹی ٹیوٹ ماس کمیونیکیشن کی فعالیت اورباقاعدگی کیلیے ان میں ہنگامی بنیادوں پر ڈائریکٹرز کا تقرر کرکے بورڈ آف گورنرزتشکیل دیاجائے۔

مزید براں مذکورہ دونوں شعبہ جات کویونیورسٹی انتظامیہ فوری طورپرعلیحدہ عمارتیں اور انفرااسٹریکچر فراہم کرے اورعمارتوں کی فراہمی تک انسٹی ٹیوٹ اورشعبے ایک ہی جگہ کام کریں جبکہ اس حوالے سے ڈائریکٹرزکی رپورٹ 2ماہ میں سینڈیکیٹ میں پیش کی جائے کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں انسٹی ٹیوٹ آف کلینکل سائیکولوجی کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے کئی باررابطہ کرنے کے باوجود انسٹی ٹیوٹ انتظامیہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا جبکہ اسی دوران اس امرکاانکشاف بھی ہواکہ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹرملک میں موجود ہی نہیں، رپورٹ میں یونیورسٹی انتظامیہ کو جامعہ کراچی کے قوانین کے تحت اس حوالے سے کارروائی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
Load Next Story