سیاسی صورتحال اور قومی تقاضے
سیاست اگر امکانات کا کھیل ہے تو ہم امریکی جمہوری تجربے سے کچھ تو سیکھیں۔
سیاست اگر امکانات کا کھیل ہے تو ہم امریکی جمہوری تجربے سے کچھ تو سیکھیں۔ فوٹو:فائل
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت238 ویں کورکمانڈرزکانفرنس جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی،کانفرنس میں علاقائی اور ملکی سیکیورٹی کی صورتحال بالخصوص سرحدوں کی صورتحال، داخلی سیکیورٹی اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ امورکا جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس کے شرکاء نے یوم حق خود ارادیت پر کشمیریوں کی مکمل حمایت اور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ تنازع کشمیرکا حل سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں اورکشمیریوں کی خواہش کے مطابق ہوگا۔
کئی دہائیوں سے غاصبانہ قابض بھارتی فوج کا ظلم وستم بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں دبا سکا۔کانفرنس کے شرکاء نے افغانستان میں امن عمل میں حالیہ مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہارکیا اورکہا کہ قومی کوششوں سے خطرات کو مکمل شکست دی جا سکتی ہے، جس کے لیے معاشرے کے تمام فریقین کو اپنا بامقصد کردار ادا کرنا ہوگا۔
کورکمانڈرزکانفرنس میں لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری اور مشرقی سرحدوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، شرکاء نے کسی بھی مہم جوئی اورجارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر توجہ مرکوز رکھنے پر زور دیا اورکہا کہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع قومی کوششوں کی ضرورت ہے۔ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقوں کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
کورکمانڈرکانفرنس میں ملک کی عسکری قیادت نے خطے کی صورتحال کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے جوکلیدی معروضات پیش کی ہیں وہ اس اعتبار سے فکرانگیز، چشم کشا اور مشعل راہ ہیں کہ ان باتوں میں خطے کے جدلیاتی ڈائنامکس کا نچوڑ بھی موجود ہے جب کہ قومی سیاسی قیادت،اپوزیشن سمیت تمام فہمیدہ حلقوں اور قومی استحکام اور ملکی ترقی وتعمیر میں شامل تمام جمہوری ، فکری ، علمی اور اقتصادی اسٹیک ہولڈرزکو بڑے وسیع تناظر میں متوجہ کیا گیا ہے جب کہ اہم ایشوز سے نمٹنے میں اپنے جائز اور ناگزیر قومی کردارکی ادائیگی کی اپیل کی گئی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ وقت سیاسی سواد اعظم کے تاریخی ژرف نگاہی، سیاسی بصیرت، فیصلہ کن پیش رفت، دوراندیشی اور بالغ نظری کا ثبوت دینے کا ہے جس میں واضح ہو اور دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستانی قوم عالمی واقعات و حقائق، بدلتے نظریاتی، فکری اور سیاسی و اقتصادی چیلنجز کا گہرا شعوروادراک رکھتی ہے۔
وہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات و مضمرات اور نتائج و عواقب پر بھی نظریں مرکوزکیے ہوئے ہے، اسے اپنے دوست اور دشمنوں کی پہچان بھی ہے اورایشیا، مشرق وسطی سے لے کر آرمینیا، آذربائیجان اور امریکا، روس، اور یورپی یونین و عالمی تہذیبوں، اور سیاسی اتحادوں کے بننے اور تجارتی، سیاسی اور دفاعی معاہدوں اور ٹیکنالوجی اور اطلاعات و نئی سائنسی ایجادات، نئے سال کی خوشی میں تغیرات، ماحولیات و انسانی بقا کی مشترکہ کوششوں میں ہاتھ بٹانے کی گلوبل مہموں میں بھی شامل ہونے کی امنگوں سے لیس ہے، اور نئی دنیا کی تشکیل میں پاکستانی عوام کی کوششں کے امکانات پر اپنا بنیادی بیانیہ تشکیل دینے کی پوری کوشش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کانفرنس میں قوم سے جن حوصلہ افزا توقعات و امکانات اور عملی کوششوں میں معاونت اور قومی جذبہ کے اظہار کی آرزوؤں کی تجدید کا عندیہ دیا گیا ہے ان پر صدق دل سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ایک نشاۃ ثانیہ سے گزر رہا ہے، اس کی سیاست، معیشت، فنون و ادب، اقتصادیات میں سماجی وشیرازہ بندی ہورہی ہے۔
پاکستان سماجی داخلی خلفشار سے نمٹے گا تو ایک نئی سمت میں اپنی عالمی شناخت بنا پائے گا، سیاسی انتشار اور محاذ آرائیوں کے سلسلے خوش آیند نہیں اس سے قوم کی سائیکی تلملاہٹ، مایوسی، خود فریبی میں مبتلا رہتے ہوئے اخلاقی سمت سازی سے محروم رہے گی، قومی قیادت کی اولین ذمے داری ہے کہ وہ قوم کو خودفریبی کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رکھے، حکمراں اور اپوزیشن جماعتیں روایتی بل فائٹنگ کے کھیل جیسی سیاسی رزم آرائی سے گریزکریں اور مل بیٹھ کر قومی ایشوز کا تصفیہ مکالمہ کی جمہوری اسپرٹ کے ساتھ کریں، ملک کئی سوالوں، بحرانوں، تنازعات اور مسائل کے طوفانوں میں گھرا ہوا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہر سطح پر بہترین صلاحیت سے تمام چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے، قومی دھارے کے تمام عناصرکو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
کانفرنس میں کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات اور اس سلسلے میں جانوں کی پرواہ کیے بغیرکوششیں کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔کانفرنس کے شرکاء نے ملک میں فروغ امن کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء بالخصوص بلوچستان میں حالیہ واقعات کے شہداء کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا اور قرار دیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر شکست دیں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا، بھارتی فورسزکے مظالم کشمیریوں کی جدوجہد نہیں دبا سکتے۔
مسئلہ کشمیر بلاشبہ حکومت اور عسکری قیادت کے لیے ایک چومکھی جنگ کا اہم مورچہ ہے، بھارت کشمیریوں سے دغا بازی، فریب کاری، جھوٹی سفارت کاری اور مذاکرات کا ڈھونگ رچاتا رہا، اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظراندازکیا، جموں وکشمیر کو تقسیم کرکے اس پر ایک جابرانہ اور غیر انسانی استبدادیت مسلط کی ہے۔
اہل پاکستان نے کورونا وائرس کے پہلے وار سے نمٹنے میں استقامت، قومی سوچ اور ادارہ جاتی سطح پر وزارت صحت، طبی ٹیموں کی بیمثال فائٹنگ اسپرٹ اور فرنٹ لائن مسیحائی کا فریضہ ادا کیا تاہم عوام کو اس کام میں فراموش نہیں کرنا چاہیے، ان لاچار لوگوں اور مہنگائی اور بیروزگاری کے ستائے ہوئے عوام کو ریلیف مہیا کرنے کے لیے پناہ گاہوں، مسافر خانوں مرغی کے انڈوں یا کٹوں سے کام لینے کی معاشی کوششیں کافی نہیں ہیں، اس کے لیے ایک بڑے اقتصادی اور معاشی وسماجی سسٹم کی بنیاد ڈالنا ہوگی، انصاف اور میرٹ کو سیاسی نظام اور انتظامی شفافیت کی اساسی اقدار سے مربوط کرنا ہوگا۔
عسکری قیادت کی اپیل صرف ایک رسمی کارروائی نہیں، اس میں قوم سے وہ کام لینے کی تمنا ظاہر کی گئی ہے جو کام در حقیقت حکمرانوں کا ہے مگر طرز حکمرانی خود بھی تو بندھنوں سے آزاد ہو، عوام کو ایک نئے پاکستان کی نوید دے جو اس کا قوم سے وعدہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانی عوام خوفزدہ، پژمردہ اور بے سمتی کی ماری ہوئی ہے، اسے قیادت کی تازگی درکار ہے، معاشرے میں قنوطیت اور یاسیت نے لوگوں کی زندگی نچوڑ لی ہے، غربت ختم نہیں ہوئی۔
مزدور اورکسان کل بھی ڈنڈے کھاتا تھا آج بھی اساتذہ، معلمات، بیروزگار اور تنخواہوں اور زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم طبقات سڑکوں پر نکلتے اور ذلیل و رسوا ہوتے ہیں، کل کی حکمرانی معتوب اور قابل گرفت تھی تو آج فرزند پاکستان کے فخر سے سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہونا شرط ہے، ارباب اختیار اور عسکری قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ حالات اور دنیا گلوبلائزیشن کے دور سے نکل کر مسابقت اور شناخت کے پوسٹ کورونا عہد میں آنکھ کھولے اپنے اردگرد کی تبدیلیوں کو دیکھ رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں قیامت سی سیاسی، استعماری، تجارتی اور ڈپلومیسی کی کشمکش جاری ہے، اسرائیل کے عزائم اور مستقبلیات پر اس کی عیارانہ جنبش نگاہ پر سب کو توجہ دینی چاہیے، فوجی قیادت کو خطے اور داخلی محاذوں پر چومکھی لڑائی کا سامنا ہے، ففتھ جنریشن وار اور ہائبرڈ جنگ کی پیچیدہ کشمکش میں سراغ رسانی، سرحدی تنازعات اور منشیات و اسلحے کی غیر قانونی تجارت سرگرم ہے، پی ٹی آئی کی دو صوبوں میں حکومت ہے۔
وفاقی کابینہ کے وزرا، معاونین و مشیران اپنا وقت اپوزیشن سے سینگ لڑانے میں ضایع نہ کریں، عقل و دانش اور سیاسی حکمت کا تقاضہ ہے کہ قوم کو درپیش بحران کے پیش نظر تمام سیاستدان اور ارباب حکومت موجودہ داخلی صورتحال پر یک زبان ہو کر اتحاد واتفاق رائے کا عہد کریں، ایک قومی میثاق پر متفق ہوں، بلیم گیم ترک کرکے ٹی وی ٹاک شوز میں مفاہمت اور سیاسی خیر سگالی کا مظاہرہ کریں، اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے دی اینڈ اور امریکی جمہوریت کی تاریخ کے بخیے ادھڑتے ہوئے دیکھیں، جس میں دنیا کے سپر پاور امریکا کے مستحکم جمہوری نظام کو صرف ایک سیاستدان ٹرمپ کی ہٹ دھرمی، ضد اور غیر جمہوری روش نے کتنا بے آبرو اور رسوا کیا ہے۔
کیا ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لیے یہ حوالہ نوشتہ دیوار نہیں، سیاست اگر امکانات کا کھیل ہے تو ہم امریکی جمہوری تجربے سے کچھ تو سیکھیں۔ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کے طرز عمل کو دیکھیں۔ملکی معیشت کے منظرنامہ پر بھی بے یقینی کے سائے ہیں۔
دعوے تو بہت ہیں مگر عوام کی زندگی میں تبدیلی آج بھی ایک سوال ہے، قانون کی حکمرانی کا جہاں تک تعلق ہے اس دردناک واقعے سے دل دہل گئے جس میں کوئٹہ میں مچھ کے غریب مزدوروں کے گلے بیدردی سے کاٹے گئے، انھیں رات کے اندھیرے میں اپنے بے خواب گھروں سے اغوا کرکے قتل گاہ میں لایا گیا، قاتل گرفتار نہیں ہوئے، کسی علاقے میں یہ واردات ہوئی اکیسویں صدی کی جدید دور میں وہ ''نو گو ایریا'' کہاں واقع ہے؟ ادھر زیر زمین معیشت، اقتصادی جھٹکوں اور دولت کے ارتکاز کے غیرانسانی زلزلوں کی گڑگڑاہٹ سے دوچار کردیا ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی سماج کی ہمہ جہت تبدیلی کے لیے تصادم اور تناؤ بڑھانے سے بالاتر رہتے ہوئے سیاسی سمت سازی کا عہد کیجیے، ایک مستحکم جمہوری نظام اور شفاف انتظامی ڈھانچہ بیانات سے کبھی نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے تمام جمہوری اور سیاسی قوتوں، اداروں، با اثر حلقوں کو عوام سے مل کر تعمیر وطن کا عہد کرنا ہوگا، کیونکہ قوم بیچاری تند وتیز ہواؤں کی زد میں ہے اور اسے صرف اقبال کے اسی شعر کا آسرا ہے کہ
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
کانفرنس کے شرکاء نے یوم حق خود ارادیت پر کشمیریوں کی مکمل حمایت اور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ تنازع کشمیرکا حل سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں اورکشمیریوں کی خواہش کے مطابق ہوگا۔
کئی دہائیوں سے غاصبانہ قابض بھارتی فوج کا ظلم وستم بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں دبا سکا۔کانفرنس کے شرکاء نے افغانستان میں امن عمل میں حالیہ مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہارکیا اورکہا کہ قومی کوششوں سے خطرات کو مکمل شکست دی جا سکتی ہے، جس کے لیے معاشرے کے تمام فریقین کو اپنا بامقصد کردار ادا کرنا ہوگا۔
کورکمانڈرزکانفرنس میں لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری اور مشرقی سرحدوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، شرکاء نے کسی بھی مہم جوئی اورجارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر توجہ مرکوز رکھنے پر زور دیا اورکہا کہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع قومی کوششوں کی ضرورت ہے۔ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقوں کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
کورکمانڈرکانفرنس میں ملک کی عسکری قیادت نے خطے کی صورتحال کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے جوکلیدی معروضات پیش کی ہیں وہ اس اعتبار سے فکرانگیز، چشم کشا اور مشعل راہ ہیں کہ ان باتوں میں خطے کے جدلیاتی ڈائنامکس کا نچوڑ بھی موجود ہے جب کہ قومی سیاسی قیادت،اپوزیشن سمیت تمام فہمیدہ حلقوں اور قومی استحکام اور ملکی ترقی وتعمیر میں شامل تمام جمہوری ، فکری ، علمی اور اقتصادی اسٹیک ہولڈرزکو بڑے وسیع تناظر میں متوجہ کیا گیا ہے جب کہ اہم ایشوز سے نمٹنے میں اپنے جائز اور ناگزیر قومی کردارکی ادائیگی کی اپیل کی گئی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ وقت سیاسی سواد اعظم کے تاریخی ژرف نگاہی، سیاسی بصیرت، فیصلہ کن پیش رفت، دوراندیشی اور بالغ نظری کا ثبوت دینے کا ہے جس میں واضح ہو اور دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستانی قوم عالمی واقعات و حقائق، بدلتے نظریاتی، فکری اور سیاسی و اقتصادی چیلنجز کا گہرا شعوروادراک رکھتی ہے۔
وہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات و مضمرات اور نتائج و عواقب پر بھی نظریں مرکوزکیے ہوئے ہے، اسے اپنے دوست اور دشمنوں کی پہچان بھی ہے اورایشیا، مشرق وسطی سے لے کر آرمینیا، آذربائیجان اور امریکا، روس، اور یورپی یونین و عالمی تہذیبوں، اور سیاسی اتحادوں کے بننے اور تجارتی، سیاسی اور دفاعی معاہدوں اور ٹیکنالوجی اور اطلاعات و نئی سائنسی ایجادات، نئے سال کی خوشی میں تغیرات، ماحولیات و انسانی بقا کی مشترکہ کوششوں میں ہاتھ بٹانے کی گلوبل مہموں میں بھی شامل ہونے کی امنگوں سے لیس ہے، اور نئی دنیا کی تشکیل میں پاکستانی عوام کی کوششں کے امکانات پر اپنا بنیادی بیانیہ تشکیل دینے کی پوری کوشش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کانفرنس میں قوم سے جن حوصلہ افزا توقعات و امکانات اور عملی کوششوں میں معاونت اور قومی جذبہ کے اظہار کی آرزوؤں کی تجدید کا عندیہ دیا گیا ہے ان پر صدق دل سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ایک نشاۃ ثانیہ سے گزر رہا ہے، اس کی سیاست، معیشت، فنون و ادب، اقتصادیات میں سماجی وشیرازہ بندی ہورہی ہے۔
پاکستان سماجی داخلی خلفشار سے نمٹے گا تو ایک نئی سمت میں اپنی عالمی شناخت بنا پائے گا، سیاسی انتشار اور محاذ آرائیوں کے سلسلے خوش آیند نہیں اس سے قوم کی سائیکی تلملاہٹ، مایوسی، خود فریبی میں مبتلا رہتے ہوئے اخلاقی سمت سازی سے محروم رہے گی، قومی قیادت کی اولین ذمے داری ہے کہ وہ قوم کو خودفریبی کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رکھے، حکمراں اور اپوزیشن جماعتیں روایتی بل فائٹنگ کے کھیل جیسی سیاسی رزم آرائی سے گریزکریں اور مل بیٹھ کر قومی ایشوز کا تصفیہ مکالمہ کی جمہوری اسپرٹ کے ساتھ کریں، ملک کئی سوالوں، بحرانوں، تنازعات اور مسائل کے طوفانوں میں گھرا ہوا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہر سطح پر بہترین صلاحیت سے تمام چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے، قومی دھارے کے تمام عناصرکو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
کانفرنس میں کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات اور اس سلسلے میں جانوں کی پرواہ کیے بغیرکوششیں کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔کانفرنس کے شرکاء نے ملک میں فروغ امن کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء بالخصوص بلوچستان میں حالیہ واقعات کے شہداء کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا اور قرار دیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر شکست دیں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا، بھارتی فورسزکے مظالم کشمیریوں کی جدوجہد نہیں دبا سکتے۔
مسئلہ کشمیر بلاشبہ حکومت اور عسکری قیادت کے لیے ایک چومکھی جنگ کا اہم مورچہ ہے، بھارت کشمیریوں سے دغا بازی، فریب کاری، جھوٹی سفارت کاری اور مذاکرات کا ڈھونگ رچاتا رہا، اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظراندازکیا، جموں وکشمیر کو تقسیم کرکے اس پر ایک جابرانہ اور غیر انسانی استبدادیت مسلط کی ہے۔
اہل پاکستان نے کورونا وائرس کے پہلے وار سے نمٹنے میں استقامت، قومی سوچ اور ادارہ جاتی سطح پر وزارت صحت، طبی ٹیموں کی بیمثال فائٹنگ اسپرٹ اور فرنٹ لائن مسیحائی کا فریضہ ادا کیا تاہم عوام کو اس کام میں فراموش نہیں کرنا چاہیے، ان لاچار لوگوں اور مہنگائی اور بیروزگاری کے ستائے ہوئے عوام کو ریلیف مہیا کرنے کے لیے پناہ گاہوں، مسافر خانوں مرغی کے انڈوں یا کٹوں سے کام لینے کی معاشی کوششیں کافی نہیں ہیں، اس کے لیے ایک بڑے اقتصادی اور معاشی وسماجی سسٹم کی بنیاد ڈالنا ہوگی، انصاف اور میرٹ کو سیاسی نظام اور انتظامی شفافیت کی اساسی اقدار سے مربوط کرنا ہوگا۔
عسکری قیادت کی اپیل صرف ایک رسمی کارروائی نہیں، اس میں قوم سے وہ کام لینے کی تمنا ظاہر کی گئی ہے جو کام در حقیقت حکمرانوں کا ہے مگر طرز حکمرانی خود بھی تو بندھنوں سے آزاد ہو، عوام کو ایک نئے پاکستان کی نوید دے جو اس کا قوم سے وعدہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانی عوام خوفزدہ، پژمردہ اور بے سمتی کی ماری ہوئی ہے، اسے قیادت کی تازگی درکار ہے، معاشرے میں قنوطیت اور یاسیت نے لوگوں کی زندگی نچوڑ لی ہے، غربت ختم نہیں ہوئی۔
مزدور اورکسان کل بھی ڈنڈے کھاتا تھا آج بھی اساتذہ، معلمات، بیروزگار اور تنخواہوں اور زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم طبقات سڑکوں پر نکلتے اور ذلیل و رسوا ہوتے ہیں، کل کی حکمرانی معتوب اور قابل گرفت تھی تو آج فرزند پاکستان کے فخر سے سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہونا شرط ہے، ارباب اختیار اور عسکری قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ حالات اور دنیا گلوبلائزیشن کے دور سے نکل کر مسابقت اور شناخت کے پوسٹ کورونا عہد میں آنکھ کھولے اپنے اردگرد کی تبدیلیوں کو دیکھ رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں قیامت سی سیاسی، استعماری، تجارتی اور ڈپلومیسی کی کشمکش جاری ہے، اسرائیل کے عزائم اور مستقبلیات پر اس کی عیارانہ جنبش نگاہ پر سب کو توجہ دینی چاہیے، فوجی قیادت کو خطے اور داخلی محاذوں پر چومکھی لڑائی کا سامنا ہے، ففتھ جنریشن وار اور ہائبرڈ جنگ کی پیچیدہ کشمکش میں سراغ رسانی، سرحدی تنازعات اور منشیات و اسلحے کی غیر قانونی تجارت سرگرم ہے، پی ٹی آئی کی دو صوبوں میں حکومت ہے۔
وفاقی کابینہ کے وزرا، معاونین و مشیران اپنا وقت اپوزیشن سے سینگ لڑانے میں ضایع نہ کریں، عقل و دانش اور سیاسی حکمت کا تقاضہ ہے کہ قوم کو درپیش بحران کے پیش نظر تمام سیاستدان اور ارباب حکومت موجودہ داخلی صورتحال پر یک زبان ہو کر اتحاد واتفاق رائے کا عہد کریں، ایک قومی میثاق پر متفق ہوں، بلیم گیم ترک کرکے ٹی وی ٹاک شوز میں مفاہمت اور سیاسی خیر سگالی کا مظاہرہ کریں، اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے دی اینڈ اور امریکی جمہوریت کی تاریخ کے بخیے ادھڑتے ہوئے دیکھیں، جس میں دنیا کے سپر پاور امریکا کے مستحکم جمہوری نظام کو صرف ایک سیاستدان ٹرمپ کی ہٹ دھرمی، ضد اور غیر جمہوری روش نے کتنا بے آبرو اور رسوا کیا ہے۔
کیا ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لیے یہ حوالہ نوشتہ دیوار نہیں، سیاست اگر امکانات کا کھیل ہے تو ہم امریکی جمہوری تجربے سے کچھ تو سیکھیں۔ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کے طرز عمل کو دیکھیں۔ملکی معیشت کے منظرنامہ پر بھی بے یقینی کے سائے ہیں۔
دعوے تو بہت ہیں مگر عوام کی زندگی میں تبدیلی آج بھی ایک سوال ہے، قانون کی حکمرانی کا جہاں تک تعلق ہے اس دردناک واقعے سے دل دہل گئے جس میں کوئٹہ میں مچھ کے غریب مزدوروں کے گلے بیدردی سے کاٹے گئے، انھیں رات کے اندھیرے میں اپنے بے خواب گھروں سے اغوا کرکے قتل گاہ میں لایا گیا، قاتل گرفتار نہیں ہوئے، کسی علاقے میں یہ واردات ہوئی اکیسویں صدی کی جدید دور میں وہ ''نو گو ایریا'' کہاں واقع ہے؟ ادھر زیر زمین معیشت، اقتصادی جھٹکوں اور دولت کے ارتکاز کے غیرانسانی زلزلوں کی گڑگڑاہٹ سے دوچار کردیا ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی سماج کی ہمہ جہت تبدیلی کے لیے تصادم اور تناؤ بڑھانے سے بالاتر رہتے ہوئے سیاسی سمت سازی کا عہد کیجیے، ایک مستحکم جمہوری نظام اور شفاف انتظامی ڈھانچہ بیانات سے کبھی نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے تمام جمہوری اور سیاسی قوتوں، اداروں، با اثر حلقوں کو عوام سے مل کر تعمیر وطن کا عہد کرنا ہوگا، کیونکہ قوم بیچاری تند وتیز ہواؤں کی زد میں ہے اور اسے صرف اقبال کے اسی شعر کا آسرا ہے کہ
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے