نارتھ ناظم آباد میں ہلاک ہونیوالا عمیر 3 بہنوں کا اکلوتھا بھائی تھا
ظالموں نے بوڑھے باپ کا سہارا چھین لیا ، مقتول کے ماموں کی ایکسپریس سے گفتگو۔
ظالموں نے بوڑھے باپ کا سہارا چھین لیا ، مقتول کے ماموں کی ایکسپریس سے گفتگو, فوٹو: فائل
نارتھ ناظم آباد میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے عمیر کی بہن کی ایک ہفتہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔
واقعے کے وقت کراچی یونیورسٹی سے اپنی بہن کے لیے فارم لینے جارہا تھا ، تفصیلات کے مطابق جمعرات 6 ستمبر کو نارتھ ناظم آباد بلاک اے میں نامعلوم ملزمان نے موٹر سائیکل پر اپنے دوستوں کے ہمراہ جانے والے عمیر کو فائرنگ کرکے ہلاک جبکہ دیگر کو زخمی کردیا تھا ، مقتول عمیر کے ماموں نے جمعہ کو اپنی رہائش گاہ واقع ناگن چورنگی پر بتایا کہ عمیر 3 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ، مقتول کی ہلاکت سے ایک ہفتہ قبل اس کی بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی۔
جمعرات کی دوپہر انھیں بذریعہ ٹیلی فون مطلع کیا گیا کہ عمیر کو گولی لگ گئی ہے اور وہ عباسی شہید اسپتال میں ہے جس پر تمام اہل خانہ فوری طور پر وہاں پہنچے تو اس وقت تک عمیر دم توڑ چکا تھا ، انھوں نے بتایا کہ عمیر علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ کا طالبعلم تھا ، حال ہی میں یونیورسٹی میں منعقدہ ایک مقابلے میں اس نے اول پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ وہ حافظ قرآن بھی تھا ، انھوں نے مزید بتایا کہ مقتول کو اس کے دوستوں نے ہی فون کرکے میٹرک بورڈ آفس بلوایا تھا جس کے بعد وہ لوگ کراچی یونیورسٹی جارہے تھے ، عمیر کو اپنی بہن کے لیے فارم لینا تھا ظالموں نے بوڑھے باپ کا سہارا چھین لیا۔
واقعے کے وقت کراچی یونیورسٹی سے اپنی بہن کے لیے فارم لینے جارہا تھا ، تفصیلات کے مطابق جمعرات 6 ستمبر کو نارتھ ناظم آباد بلاک اے میں نامعلوم ملزمان نے موٹر سائیکل پر اپنے دوستوں کے ہمراہ جانے والے عمیر کو فائرنگ کرکے ہلاک جبکہ دیگر کو زخمی کردیا تھا ، مقتول عمیر کے ماموں نے جمعہ کو اپنی رہائش گاہ واقع ناگن چورنگی پر بتایا کہ عمیر 3 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ، مقتول کی ہلاکت سے ایک ہفتہ قبل اس کی بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی۔
جمعرات کی دوپہر انھیں بذریعہ ٹیلی فون مطلع کیا گیا کہ عمیر کو گولی لگ گئی ہے اور وہ عباسی شہید اسپتال میں ہے جس پر تمام اہل خانہ فوری طور پر وہاں پہنچے تو اس وقت تک عمیر دم توڑ چکا تھا ، انھوں نے بتایا کہ عمیر علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ کا طالبعلم تھا ، حال ہی میں یونیورسٹی میں منعقدہ ایک مقابلے میں اس نے اول پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ وہ حافظ قرآن بھی تھا ، انھوں نے مزید بتایا کہ مقتول کو اس کے دوستوں نے ہی فون کرکے میٹرک بورڈ آفس بلوایا تھا جس کے بعد وہ لوگ کراچی یونیورسٹی جارہے تھے ، عمیر کو اپنی بہن کے لیے فارم لینا تھا ظالموں نے بوڑھے باپ کا سہارا چھین لیا۔