وکلا کے خون سے آزاد عدلیہ کا چراغ روشن ہے جسٹس مشیر عالم
جاں بحق اور مقتول 102وکلا اور ججز کی یاد میں فل کورٹ تعزیتی ریفرنس سے خطاب۔
جاں بحق اور مقتول 102وکلا اور ججز کی یاد میں فل کورٹ تعزیتی ریفرنس سے خطاب۔ فوٹو: شاہد علی/ایکسپریس
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم نے کہا ہے کہ غیروں کی مسلط کردہ جنگ کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔
اس مسلط کردہ جنگ نے کئی وکلا کو ہم سے چھین لیا ہے،شہداکے خون سے ہی آزاد عدلیہ کا چراغ روشن ہے ،ان قربانیوں کا ثمر قوم کو مل رہا ہے وہ جمعہ کو2007 سے2012کے دوران جاں بحق اور قتل ہونے والے 102وکلا اور ججز کی یاد میں منعقدہ فل کورٹ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے تھے ، چیف جسٹس مشیر عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی کیلیے جدو جہد کے دوران شہادت پانے والے وکلا کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،انھوں نے کہا کہ ہم سے بچھڑجانے وکلا کے لواحقین بالخصوص ناگہانی آفات کا شکار ہونے والے وکلا کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کیلیے سندھ ہائیکورٹ اپنے فنڈز سے انتظام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انھوںکہا کہ وکلا کی بہبود کیلیے ایکسزٹوجسٹس(انصاف تک رسائی) پروگرام سے ریلیف فراہم کرنے کیلیے بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے مشاورت کریں گے،انھوں نے کہاکہ ہمیں دنیا سے چلے جانے والے ساتھیوں اوران کے ورثا کو بھی یاد رکھنا چاہیے ،انھوں نے جسٹس صبیح الدین اور جسٹس کمال منصور کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس صبیح الدین سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے وہ ہمارے استاداور رہنما تھے،تعزیتی ریفرنس سے ججز وکلا و رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔
اس مسلط کردہ جنگ نے کئی وکلا کو ہم سے چھین لیا ہے،شہداکے خون سے ہی آزاد عدلیہ کا چراغ روشن ہے ،ان قربانیوں کا ثمر قوم کو مل رہا ہے وہ جمعہ کو2007 سے2012کے دوران جاں بحق اور قتل ہونے والے 102وکلا اور ججز کی یاد میں منعقدہ فل کورٹ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے تھے ، چیف جسٹس مشیر عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی کیلیے جدو جہد کے دوران شہادت پانے والے وکلا کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،انھوں نے کہا کہ ہم سے بچھڑجانے وکلا کے لواحقین بالخصوص ناگہانی آفات کا شکار ہونے والے وکلا کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کیلیے سندھ ہائیکورٹ اپنے فنڈز سے انتظام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انھوںکہا کہ وکلا کی بہبود کیلیے ایکسزٹوجسٹس(انصاف تک رسائی) پروگرام سے ریلیف فراہم کرنے کیلیے بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے مشاورت کریں گے،انھوں نے کہاکہ ہمیں دنیا سے چلے جانے والے ساتھیوں اوران کے ورثا کو بھی یاد رکھنا چاہیے ،انھوں نے جسٹس صبیح الدین اور جسٹس کمال منصور کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس صبیح الدین سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے وہ ہمارے استاداور رہنما تھے،تعزیتی ریفرنس سے ججز وکلا و رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔