پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی
دونوں ٹیسٹ میں پاکستانی بلے باز اور باولر چاروں شانے چت رہے۔
دونوں ٹیسٹ میں پاکستانی بلے باز اور باولر چاروں شانے چت رہے۔ فوٹو: فائل
دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مختصر اور طویل فارمیٹ کی کرکٹ میں کارکردگی انتہائی ناقص رہی۔
ٹی 20 سیریز کے ابتدائی دو میچز ہارے جب کہ تیسرے میچ میں جیت حاصل ہوئی اور یوں سیریز 1-2 سے نیوزی لینڈ کے نام رہی۔ بعد ازاں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کووائٹ واش کردیا۔
دونوں ٹیسٹ میں پاکستانی بلے باز اور باولر چاروں شانے چت رہے۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو101 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تو دوسرے ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز اور 176 رنز کی شرمناک شکست کھائی۔
ماضی پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزلینڈرز کو ان کے ہوم گراونڈ پر شکست دیتا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تنقیددرست ہے۔ ہم نے صلاحیتیوں سے کم تر کھیل پیش کیا ہے۔
اس لیے تنقید بنتی ہے۔ سابق کپتان نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اسٹیفن فلیمنگ کا کہنا ہے کہ سیریز کے لیے کنڈیشنز مشکل تھیں،پاکستانی کھلاڑیوں کو قرنطینہ میں ٹریننگ نہیں ملی،کم پریکٹس سے بھی کھلاڑیوں کا کھیل متاثر ہوا۔غیر جانبداری سے دورہ نیوزی لینڈ کا جائزہ لیا جائے تو ٹیم اسکواڈ کی سلیکشن میں خامیاں نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔
پاکستانی ٹیم کا فاسٹ بالر اسکواڈ بری طرح ناکام ہوا جب کہ اسپینزز کا بھی برا حال رہا۔ نئے ٹیلنٹ کو آزمانے کے نام پر جو تجربات کیے گئے ، ان کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی میں نمبر ون ٹیم پاکستان پانچویں نمبر پہنچ گئی۔ شعیب ملک، محمد حفیظ ، محمد عامر اور کامران اکمل کو ٹیم سے باہر بٹھانے پر زور لگایا گیا۔
پاکستانی ٹیم بیٹنگ، فیلڈنگ اور باؤلنگ کمبیشن بھی درست نہیں رہا۔ بلاشبہ پاکستان ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن کرکٹ بورڈز کے کرتا دھرتا جو کچھ کررہے ہیں، اس کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم زمبابوے کی ٹیم کی یاد دلا رہی ہے۔اقربا پروری اور دوست نوازی نے کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ٹیم کو زوال کی آخری سیٹرھی تک پہنچا دیا ہے۔
ٹی 20 سیریز کے ابتدائی دو میچز ہارے جب کہ تیسرے میچ میں جیت حاصل ہوئی اور یوں سیریز 1-2 سے نیوزی لینڈ کے نام رہی۔ بعد ازاں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کووائٹ واش کردیا۔
دونوں ٹیسٹ میں پاکستانی بلے باز اور باولر چاروں شانے چت رہے۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو101 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تو دوسرے ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز اور 176 رنز کی شرمناک شکست کھائی۔
ماضی پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزلینڈرز کو ان کے ہوم گراونڈ پر شکست دیتا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تنقیددرست ہے۔ ہم نے صلاحیتیوں سے کم تر کھیل پیش کیا ہے۔
اس لیے تنقید بنتی ہے۔ سابق کپتان نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اسٹیفن فلیمنگ کا کہنا ہے کہ سیریز کے لیے کنڈیشنز مشکل تھیں،پاکستانی کھلاڑیوں کو قرنطینہ میں ٹریننگ نہیں ملی،کم پریکٹس سے بھی کھلاڑیوں کا کھیل متاثر ہوا۔غیر جانبداری سے دورہ نیوزی لینڈ کا جائزہ لیا جائے تو ٹیم اسکواڈ کی سلیکشن میں خامیاں نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔
پاکستانی ٹیم کا فاسٹ بالر اسکواڈ بری طرح ناکام ہوا جب کہ اسپینزز کا بھی برا حال رہا۔ نئے ٹیلنٹ کو آزمانے کے نام پر جو تجربات کیے گئے ، ان کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی میں نمبر ون ٹیم پاکستان پانچویں نمبر پہنچ گئی۔ شعیب ملک، محمد حفیظ ، محمد عامر اور کامران اکمل کو ٹیم سے باہر بٹھانے پر زور لگایا گیا۔
پاکستانی ٹیم بیٹنگ، فیلڈنگ اور باؤلنگ کمبیشن بھی درست نہیں رہا۔ بلاشبہ پاکستان ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن کرکٹ بورڈز کے کرتا دھرتا جو کچھ کررہے ہیں، اس کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم زمبابوے کی ٹیم کی یاد دلا رہی ہے۔اقربا پروری اور دوست نوازی نے کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ٹیم کو زوال کی آخری سیٹرھی تک پہنچا دیا ہے۔