ریکوری میں بڑے پیمانے پر کمی گردشی قرضے پھر230 ارب سے تجاوز کرگئے
نجی صارفین کے ذمے300ارب واجب الادا،مجموعی طور پر 450ارب کی وصولیاں باقی.
نجی صارفین کے ذمے300ارب واجب الادا،مجموعی طور پر 450ارب کی وصولیاں باقی. فوٹو فائل
وفاقی حکومت کی جانب سے ساڑھے 4کھرب روپے سے زائد کی ادائیگی کے بعد سرکلر ڈیٹ دوبارہ 230 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے 480 ارب روپے کی کلیئرنس کے بعد 20 دسمبر تک گردشی قرضے پھر 230 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیںجس کی بنیادی وجوہ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کا نہ ہونا، ریکوری میں بڑے پیمانے پر کمی، بجلی کی پیداواری لاگت اور فروخت میں پایا جانے والا فرق اورلائن لاسز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے صارفین سے بہت کم وصولیاں ہوئی ہیں اور ان کے ذمے واجب الادا رقم 300 ارب روپے سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ اسی طرح وفاقی وصوبائی حکومتوں ، اداروں اور نجی صارفین سے مجموعی طور پر 450 ارب روپے سے زائد کی وصولیاں باقی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ دوبارہ پیدا ہونے کی ایک بڑی اور اہم وجہ بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیوز کی عدم تعیناتی بھی ہے کیونکہ قائم مقام سی ای اوز کسی کی ناراضی مول لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی ایسا اقدام اٹھانا چاہتے ہیں جن سے ان کے لیے کسی قسم کی مشکل پیدا ہونے کا خدشہ ہو ۔
ذرائع کے مطابق سرکلر ڈیبٹ کی دوسری بڑی وجہ واجبات کی رقم این ٹی ڈی سی کو جمع کرانے کا میکنزم وضع کرنا ہے۔ اس میکنزم کے تحت تقسیم کار کمپنیاں وصول شدہ رقم اگلے ہی دن این ٹی ڈی سی میں جمع کراتی ہیں۔ اس لیے ان کمپنیوں کے لیے ریکوری میں کوئی مراعات یا کشش نہیں رہی ، یہی وجہ ہے کہ کمپنیوں کی ریکوریاں 60 فیصد پر آگئی ہیں، پہلے وصول شدہ رقم کمپنیوں کے پاس ہوتی تھی اور سی ای اوز کو اختیار ہوتا تھا کہ وہ اس رقم سے کمپنی اور اسٹاف کے اخراجات پوری کرسکیں اور جو رقم بچ جاتی وہ خزانے میں جمع کرائی جاتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تقسیم کار کمپنیاں ریکوری میں کمی کی وجہ بجلی قیمتوں میں اضافہ قرار دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ لوگوں کی قوت خریدمتاثرہوئی ہے ، اس لیے نادہندگان کی تعداد بڑی ہے تاہم تقسیم کار کمپنیوں کے اس موقف کے برعکس یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو عام صارفین بجلی کا ایک ماہ کا بل ادا نہ کریں تو انھیں بجلی منقطع کرنے کا نوٹس دیا جاتا ہے ، ایسے میں کون سے طاقتور نجی صارفین ہیں جو بل بھی تاخیر سے جمع کرتے ہیں اور ان کے کنکشن بھی منقطع نہیں کیے جارہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دسمبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کا بھی سرکلرڈیٹ پراثر پڑاہے۔ اگر جنوری میں بھی پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جاتا تو اس سے حکومت کو مزید سبسڈی دینا پڑیگی اور صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کو سرکلر ڈیٹ کے جن کو بوتل میں بند کرنے کیلیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اور بجلی کی لاگت میںکمی کے ساتھ ساتھ واجبات کی ریکوری اور ترسیل کو بہتر بناکر لائن لاسز کو کم کرنا ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے 480 ارب روپے کی کلیئرنس کے بعد 20 دسمبر تک گردشی قرضے پھر 230 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیںجس کی بنیادی وجوہ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کا نہ ہونا، ریکوری میں بڑے پیمانے پر کمی، بجلی کی پیداواری لاگت اور فروخت میں پایا جانے والا فرق اورلائن لاسز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے صارفین سے بہت کم وصولیاں ہوئی ہیں اور ان کے ذمے واجب الادا رقم 300 ارب روپے سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ اسی طرح وفاقی وصوبائی حکومتوں ، اداروں اور نجی صارفین سے مجموعی طور پر 450 ارب روپے سے زائد کی وصولیاں باقی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ دوبارہ پیدا ہونے کی ایک بڑی اور اہم وجہ بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیوز کی عدم تعیناتی بھی ہے کیونکہ قائم مقام سی ای اوز کسی کی ناراضی مول لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی ایسا اقدام اٹھانا چاہتے ہیں جن سے ان کے لیے کسی قسم کی مشکل پیدا ہونے کا خدشہ ہو ۔
ذرائع کے مطابق سرکلر ڈیبٹ کی دوسری بڑی وجہ واجبات کی رقم این ٹی ڈی سی کو جمع کرانے کا میکنزم وضع کرنا ہے۔ اس میکنزم کے تحت تقسیم کار کمپنیاں وصول شدہ رقم اگلے ہی دن این ٹی ڈی سی میں جمع کراتی ہیں۔ اس لیے ان کمپنیوں کے لیے ریکوری میں کوئی مراعات یا کشش نہیں رہی ، یہی وجہ ہے کہ کمپنیوں کی ریکوریاں 60 فیصد پر آگئی ہیں، پہلے وصول شدہ رقم کمپنیوں کے پاس ہوتی تھی اور سی ای اوز کو اختیار ہوتا تھا کہ وہ اس رقم سے کمپنی اور اسٹاف کے اخراجات پوری کرسکیں اور جو رقم بچ جاتی وہ خزانے میں جمع کرائی جاتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تقسیم کار کمپنیاں ریکوری میں کمی کی وجہ بجلی قیمتوں میں اضافہ قرار دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ لوگوں کی قوت خریدمتاثرہوئی ہے ، اس لیے نادہندگان کی تعداد بڑی ہے تاہم تقسیم کار کمپنیوں کے اس موقف کے برعکس یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو عام صارفین بجلی کا ایک ماہ کا بل ادا نہ کریں تو انھیں بجلی منقطع کرنے کا نوٹس دیا جاتا ہے ، ایسے میں کون سے طاقتور نجی صارفین ہیں جو بل بھی تاخیر سے جمع کرتے ہیں اور ان کے کنکشن بھی منقطع نہیں کیے جارہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دسمبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کا بھی سرکلرڈیٹ پراثر پڑاہے۔ اگر جنوری میں بھی پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جاتا تو اس سے حکومت کو مزید سبسڈی دینا پڑیگی اور صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کو سرکلر ڈیٹ کے جن کو بوتل میں بند کرنے کیلیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اور بجلی کی لاگت میںکمی کے ساتھ ساتھ واجبات کی ریکوری اور ترسیل کو بہتر بناکر لائن لاسز کو کم کرنا ہوگا۔