بجلی بحران حقائق اور قومی رویے
بجلی کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے حکومت کو کئی سوالوں کے جواب دینا ہونگے۔
بجلی کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے حکومت کو کئی سوالوں کے جواب دینا ہونگے۔ (فوٹو : فائل)
KARACHI:
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بجلی بحران یا گزشتہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پورے ملک میں جو پاور بریک ڈاؤن ہوا، اس کے حقائق سے قوم کو کوئی آگہی نصیب ہوئی اور نہ بجلی کے خالص ٹیکنیکل معاملات اور خرابیوں پر ماہرین کے پینل نے بریک ڈاؤن کے حوالے سے حقائق پر چشم کشا باتیں بتائیں اور نہ اس طویل دورانیے پر مبنی پاور بریک ڈاؤن پر اندھیرے میں ڈوبے مضطرب عوام اور پریشان صارفین کو اعتماد میں لیا، بس 7 اہلکاروں کو برطرفی اور غفلت کی سزا ملی۔
لیکن بجلی کی پیداوار، اس کی تقسیم کاری اور ترسیلی نظام سمیت بلنگ میکنزم کی شفافیت اور ملک کے 72 سالہ پاور جنریشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کے اندرکی خرابیوں اور تکنیکی کمزوریوں کی اصلاح اور بریکنگ پوائنٹ کو پہنچے ہوئے سسٹم کو مکمل سقوط سے بچانے کی کوئی تیر بہدف پالیسی کی بنیاد نہ رکھی جاسکی۔
اس ایڈہاک ازم کے مائنڈ سیٹ کو ایک دن گرنا تو تھا ہی، لہٰذا وہ گزشتہ دنوں ہولناک پاور بریک ڈاؤن کی شکل میں ظاہر ہوا جس نے بظاہر بجلی کے نظام میں مضمر سسٹم کی خرابی کو ٹالنے کے برسہا برس کے تیکنیکی، حکومتی اور محکمہ جاتی رویے کو بے نقاب کیا بلکہ اس درد انگیز حقیقت سے بھی پردہ ہٹا دیا جو زندگی کے ہر شعبے میں حقائق کی پردہ پوشی کے دائمی طرز عمل اور فکری بیگانگی کا مظہر ہے۔ اس بریک ڈاؤن سے عوام کو معلوم ہوا کہ مختلف ایشوز اور مسائل پر قومی رویہ تماشہ دیکھنے، موردالزام کسی دوسرے کو ٹھہرانے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے چشم پوشی سے کام لینے کا ہے۔
کوئی سچ بتانے پر تیار نہیں، ملک میں تخلیقی، توسیعی، علمی، تیکنیکی اور فیصلہ کن بریک تھروکی ماہرانہ کوششیں کرنے کی اہلیت رکھنے والے دانشوروں، فلسفیوں، باکمال ہنرمندوں اور منتظمین کا قحط پڑ گیا ہے۔ ایک پراسرار سی خاموشی ہے، لگتا ہے سب نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا ہے۔کسی بھی سماجی، قومی اور انسانی ایشوز پر اجتماعی اور مشترکہ کوششوں میں ہاتھ بٹانے کی خیر سگالی کی روایت شاید ہماری تہذیب وتمدن سے روٹھ گئی ہے۔ مزدور،کسان، وکلا برادری، اساتذہ، نرسنگ کمیونٹی، اسپورٹس کی دنیا اور فنون لطیفہ کا انسانی سماج سے کوئی حقیقی تعلق نہیں، لوگ اپنے ہم پیشہ گروپوں کی بات کرتے ہیں، صورتحال یہ ہے کہ
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
انسانی ، فنی ، تخلیقی اور نظریاتی یکجہتی غائب ہے، معاشرے اور ملک میں اہل ہنر اور اہل فکر ودانش، بے حسی، مغائرت اور بیگانگی کا شکار ہیں، کسی کوکسی کے دکھ میں شریک ہونے کی فرصت نہیں، قوم کا شیرازہ بکھرتا جائے، عظیم المیے جنم لیں،کورونا سے انسان کا کاروبار چھن جائے، وہ جاں بحق ہوجائے، غربت کی شرح بڑھ رہی ہو، مہنگائی اعصاب شکن ہو، دواؤں کی قیمتیں اور بجلی کی بلنگ ہوشربا ہو مگر انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، حادثات میں روز لوگ مرتے ہیں کوئی آنکھ پرنم نہیں ہے، ایک وحشیانہ کلچر فروغ پارہا ہے، سکھ کے سب ساتھی، دکھ میں نہ کوئی مشترکہ نعرہ ہے، افراتفری، ہوس زر اور کرپشن کی لہر انسانی اوصاف کو نگل رہی ہے، بے سمت غیر اخلاقی اور ثقافتی یلغار نے سماج کو جڑے رہنے کی امنگ سے بیگانہ کردیا ہے۔
ایک تجزیہ کارکا کہنا ہے کہ لوگ درحقیقت اپنے اندر کے خوف سے سہمے ہوئے ہیں، کسی امید، آرزو اور خوشخبری پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سال ہا سال کے حکومتی اور ریاستی نظام کے تجاہل عارفانہ اور سنگدلی نے سیاستدانوں کی طرح اہل فکرونظر کو بھی انسانی رشتوں سے بے نیاز کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ادب وتخلیق کے دیوہیکل لوگ انسانی مسائل اور رنج وآلام سے کیوں الگ ہوگئے ہیں، وہ درد مشترک کہاں کھوگیا؟ سماج آدھے دھڑکا ہوگیا ہے، قتل وغارت کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں، معاشرے میں غیرانسانی وارداتوں کے آگے بند باندھنے کی کوئی تدبیرکارگر ثابت نہیں ہوتی۔
یادش بخیر ایک پاور بریک ڈاؤن 2015 میں بھی ہوا تھا، ماہرین نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مسائل دائمی طور پر حل نہ ہوئے تو پھرکوئی بریک ڈاؤن اس سے بڑی تباہی لاسکتا ہے، لیکن کوئی کام اس کے منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچتا، حالیہ بریک ڈاؤن اور بجلی بحران بھی رفتہ رفتہ بحال ہورہا ہے، جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہرین برقیات کو بلا کر ارباب اختیار ان سے حقیقت پوچھیں۔ واپڈا کے بجلی کے ماہرین کو پابند کریں کہ سسٹم کی اس خرابی پر خاموشی کا بھید قوم سے ڈسکس کریں، کیوں اتنے طویل بریک ڈاؤن پرسناٹا چھایا رہا؟
ارباب اختیار کے لیے مسائل پر ''مٹی پاؤ'' کا مائنڈ سیٹ قوم کو بڑے بحرانوں کا شکار کرے گا، کوئی خیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب، سندھ اورکراچی میں کنڈے کی بجلی کے مستقل خاتمے کا حل نہیں دیتا، بجلی کے ضیاع کو کون روکے گا، ٹیکس کلیکشن کم ہوگئی ہے، زندگی لاقانونیت کے حصار میں ہے، پارلیمنٹیرینز خاموش ہیں، ''کراچی از اوپن فار آل'' کوئی بھی یہاں آکر شناختی کارڈ، پاسپورٹ بنوائے اور انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلائے، کوئی روکنے والا نہیں، جرائم کی انڈسٹری ہر دور میں پھلتی پھولتی رہی ہے، جعلی ڈگریوں کا کاروبار خوب چل رہا ہے، قوم دم بخود اس اجتماعی تخلیقی سقوط کا تماشہ دیکھ رہی ہے اور بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے دوران افواہ سازوں نے شہریوں کو پریشان کیے رکھا۔
معلومات کے مستند ذرایع تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی اور ملک پر دشمن کے حملے سمیت کئی خدشات جنم لیتے رہے۔ سوشل میڈیا بھی پر بھی افواہ ساز حاوی رہے اور شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کی بڑی تعداد فون پر دوسرے علاقوں میں اپنے پیاروں کی خیریت بھی دریافت کرتی رہی، گھروں میں الیکٹرانکس آلات بھی بند ہوگئے۔ تاہم یہ خبر بھی آئی ہے کہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے، جولائی تا نومبر2020 میں ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں 43 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ مالی سال سے کم ہے۔ پن بجلی منصوبوں میں 50.4 ملین ڈالر سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ برس 42.9ملین ڈالر تھی۔ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں175.8 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ برس 23.5 ملین ڈالر تھی۔
بجلی کے نظام کی تعمیروتوسیع میں ملکی ماہرین کا انداز نظر بھی وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا تب اسٹریٹ لائٹس سے لے کر انڈسٹری، مارکیٹوں، رہائشی علاقوں اورکچی آبادیوں میں شفاف بجلی میکنزم سے صورتحال بدل سکتی ہے، حکمراں توانائی بحران کے حل میں پیش رفت کے لیے ڈیموں کی تعمیر پر ثابت قدمی کا ثبوت دے، حقائق پر نظر رکھے کیونکہ منگلا اور تربیلا اپنی طبعی مدت پوری کرچکے، منگلا میں توسیعی کام کا آغاز ہوچکا، مگر توانائی کے وسائل میں بڑے فیصلوں کی ضرورت ہے، بلنگ پالیسی نے صارفین کو پریشان کر دیا ہے، بجلی نہیں ہے، لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے مگر بل ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتے، عوام چیخ رہے ہیں کہ کارپوریٹ ازم نے عوام کو مسرتوں سے محروم کر دیا ہے۔ آج بنیادی سوچ کے پیشہ ورانہ، بریک تھرو کے ساتھ ساتھ عوام دوست پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے۔
ادھر سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی ڈاکٹر فیاض چوہدری نے کہا ہے کہ بجلی کے نظام میں فالٹ آنا نارمل بات ہے، سسٹم میں فوگ یا اسموگ کی وجہ سے فالٹ آتے رہتے ہیں، حکومت بریک ڈاؤن پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کرے تاکہ آیندہ اس صورتحال سے بچا جاسکے۔ سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی ڈاکٹر فیاض چوہدری نے مزید کہا کہ بجلی کے نظام میں ایک دو element فالٹ کی وجہ سے نکل جائیں تب بھی نظام مستحکم رہنا چاہیے، تحقیقات کرنا ہوگی کہ ایک لائن نکلی تو دوسری کیوں نکلی، دوسری لائن نکلنے کے بعد بھی کیس کیڈنگ نہیں ہونی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسمیشن نظام میں بہتری لانا ایک دن کا کام نہیں بلکہ تسلسل سے ہونا چاہیے، 15ہزار میگاواٹ سسٹم میں شامل ہوتے ہیں تو اس کے لیے راتوں رات ٹرانسمیشن نہیں بن سکتی، بجلی کے نظام میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا ہوگا، بجلی کے نرخ اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ ہم ادا نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ ریسرچ کا کام نہ ہونا ہے۔ سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی نے بنیادی باتیں کی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ایسی دل خوش کن باتیں تو 72سالوں سے کی جاتی رہی ہیں، مگر بجلی کا نظام شفافیت اور فالٹ فری ہونے کی منزل سے دور رہا۔ انھوں نے بھی عوام کو تسلی دی کہ بجلی میں فالٹ آنا معمول کی بات ہے، یعنی موصوف اتنے ہولناک بریک ڈاؤن کو بھی بجلی کا فالٹ تصور کرتے ہیں، اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا۔
میر تقی میر کا شعر ہے
برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو
اک دل بے قرار رکھتے ہیں
بجلی کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے حکومت کو کئی سوالوں کے جواب دینا ہونگے، پہلی بات اہل فکر ونظر کی خاموشی اور قومی معاملات میں درد ناک بیگانگی اور بے نیازی کی ہے،دوسری بات سیاستدانوں کی ہے، ان پر تو یہ بلیم اب بہت پرانا ہوگیا کہ وہ سارے مسائل کی جڑ ہیں، حتیٰ کہ پاور بریک ڈاؤن کا الزام بھی سابق حکومتوں کے سر منڈھ دیا گیا لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک بنانا ری پبلک کی سمت ہولناک موڑ پر ہے۔ جب ملک کے سوچنے والے دانشور طبقات خود کو مین اسٹریم سیاسی اجتماعیت سے الگ تھلگ کرلیں اور بڑے سے بڑے المیوں پر بھی چپ کا روزہ رکھنے کے جرم میں شریک ہوں تو ارباب اختیار کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایسی صورتحال پر خوش نہ رہیں، یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بجلی بحران یا گزشتہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پورے ملک میں جو پاور بریک ڈاؤن ہوا، اس کے حقائق سے قوم کو کوئی آگہی نصیب ہوئی اور نہ بجلی کے خالص ٹیکنیکل معاملات اور خرابیوں پر ماہرین کے پینل نے بریک ڈاؤن کے حوالے سے حقائق پر چشم کشا باتیں بتائیں اور نہ اس طویل دورانیے پر مبنی پاور بریک ڈاؤن پر اندھیرے میں ڈوبے مضطرب عوام اور پریشان صارفین کو اعتماد میں لیا، بس 7 اہلکاروں کو برطرفی اور غفلت کی سزا ملی۔
لیکن بجلی کی پیداوار، اس کی تقسیم کاری اور ترسیلی نظام سمیت بلنگ میکنزم کی شفافیت اور ملک کے 72 سالہ پاور جنریشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کے اندرکی خرابیوں اور تکنیکی کمزوریوں کی اصلاح اور بریکنگ پوائنٹ کو پہنچے ہوئے سسٹم کو مکمل سقوط سے بچانے کی کوئی تیر بہدف پالیسی کی بنیاد نہ رکھی جاسکی۔
اس ایڈہاک ازم کے مائنڈ سیٹ کو ایک دن گرنا تو تھا ہی، لہٰذا وہ گزشتہ دنوں ہولناک پاور بریک ڈاؤن کی شکل میں ظاہر ہوا جس نے بظاہر بجلی کے نظام میں مضمر سسٹم کی خرابی کو ٹالنے کے برسہا برس کے تیکنیکی، حکومتی اور محکمہ جاتی رویے کو بے نقاب کیا بلکہ اس درد انگیز حقیقت سے بھی پردہ ہٹا دیا جو زندگی کے ہر شعبے میں حقائق کی پردہ پوشی کے دائمی طرز عمل اور فکری بیگانگی کا مظہر ہے۔ اس بریک ڈاؤن سے عوام کو معلوم ہوا کہ مختلف ایشوز اور مسائل پر قومی رویہ تماشہ دیکھنے، موردالزام کسی دوسرے کو ٹھہرانے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے چشم پوشی سے کام لینے کا ہے۔
کوئی سچ بتانے پر تیار نہیں، ملک میں تخلیقی، توسیعی، علمی، تیکنیکی اور فیصلہ کن بریک تھروکی ماہرانہ کوششیں کرنے کی اہلیت رکھنے والے دانشوروں، فلسفیوں، باکمال ہنرمندوں اور منتظمین کا قحط پڑ گیا ہے۔ ایک پراسرار سی خاموشی ہے، لگتا ہے سب نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا ہے۔کسی بھی سماجی، قومی اور انسانی ایشوز پر اجتماعی اور مشترکہ کوششوں میں ہاتھ بٹانے کی خیر سگالی کی روایت شاید ہماری تہذیب وتمدن سے روٹھ گئی ہے۔ مزدور،کسان، وکلا برادری، اساتذہ، نرسنگ کمیونٹی، اسپورٹس کی دنیا اور فنون لطیفہ کا انسانی سماج سے کوئی حقیقی تعلق نہیں، لوگ اپنے ہم پیشہ گروپوں کی بات کرتے ہیں، صورتحال یہ ہے کہ
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
انسانی ، فنی ، تخلیقی اور نظریاتی یکجہتی غائب ہے، معاشرے اور ملک میں اہل ہنر اور اہل فکر ودانش، بے حسی، مغائرت اور بیگانگی کا شکار ہیں، کسی کوکسی کے دکھ میں شریک ہونے کی فرصت نہیں، قوم کا شیرازہ بکھرتا جائے، عظیم المیے جنم لیں،کورونا سے انسان کا کاروبار چھن جائے، وہ جاں بحق ہوجائے، غربت کی شرح بڑھ رہی ہو، مہنگائی اعصاب شکن ہو، دواؤں کی قیمتیں اور بجلی کی بلنگ ہوشربا ہو مگر انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، حادثات میں روز لوگ مرتے ہیں کوئی آنکھ پرنم نہیں ہے، ایک وحشیانہ کلچر فروغ پارہا ہے، سکھ کے سب ساتھی، دکھ میں نہ کوئی مشترکہ نعرہ ہے، افراتفری، ہوس زر اور کرپشن کی لہر انسانی اوصاف کو نگل رہی ہے، بے سمت غیر اخلاقی اور ثقافتی یلغار نے سماج کو جڑے رہنے کی امنگ سے بیگانہ کردیا ہے۔
ایک تجزیہ کارکا کہنا ہے کہ لوگ درحقیقت اپنے اندر کے خوف سے سہمے ہوئے ہیں، کسی امید، آرزو اور خوشخبری پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سال ہا سال کے حکومتی اور ریاستی نظام کے تجاہل عارفانہ اور سنگدلی نے سیاستدانوں کی طرح اہل فکرونظر کو بھی انسانی رشتوں سے بے نیاز کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ادب وتخلیق کے دیوہیکل لوگ انسانی مسائل اور رنج وآلام سے کیوں الگ ہوگئے ہیں، وہ درد مشترک کہاں کھوگیا؟ سماج آدھے دھڑکا ہوگیا ہے، قتل وغارت کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں، معاشرے میں غیرانسانی وارداتوں کے آگے بند باندھنے کی کوئی تدبیرکارگر ثابت نہیں ہوتی۔
یادش بخیر ایک پاور بریک ڈاؤن 2015 میں بھی ہوا تھا، ماہرین نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مسائل دائمی طور پر حل نہ ہوئے تو پھرکوئی بریک ڈاؤن اس سے بڑی تباہی لاسکتا ہے، لیکن کوئی کام اس کے منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچتا، حالیہ بریک ڈاؤن اور بجلی بحران بھی رفتہ رفتہ بحال ہورہا ہے، جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہرین برقیات کو بلا کر ارباب اختیار ان سے حقیقت پوچھیں۔ واپڈا کے بجلی کے ماہرین کو پابند کریں کہ سسٹم کی اس خرابی پر خاموشی کا بھید قوم سے ڈسکس کریں، کیوں اتنے طویل بریک ڈاؤن پرسناٹا چھایا رہا؟
ارباب اختیار کے لیے مسائل پر ''مٹی پاؤ'' کا مائنڈ سیٹ قوم کو بڑے بحرانوں کا شکار کرے گا، کوئی خیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب، سندھ اورکراچی میں کنڈے کی بجلی کے مستقل خاتمے کا حل نہیں دیتا، بجلی کے ضیاع کو کون روکے گا، ٹیکس کلیکشن کم ہوگئی ہے، زندگی لاقانونیت کے حصار میں ہے، پارلیمنٹیرینز خاموش ہیں، ''کراچی از اوپن فار آل'' کوئی بھی یہاں آکر شناختی کارڈ، پاسپورٹ بنوائے اور انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلائے، کوئی روکنے والا نہیں، جرائم کی انڈسٹری ہر دور میں پھلتی پھولتی رہی ہے، جعلی ڈگریوں کا کاروبار خوب چل رہا ہے، قوم دم بخود اس اجتماعی تخلیقی سقوط کا تماشہ دیکھ رہی ہے اور بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے دوران افواہ سازوں نے شہریوں کو پریشان کیے رکھا۔
معلومات کے مستند ذرایع تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی اور ملک پر دشمن کے حملے سمیت کئی خدشات جنم لیتے رہے۔ سوشل میڈیا بھی پر بھی افواہ ساز حاوی رہے اور شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کی بڑی تعداد فون پر دوسرے علاقوں میں اپنے پیاروں کی خیریت بھی دریافت کرتی رہی، گھروں میں الیکٹرانکس آلات بھی بند ہوگئے۔ تاہم یہ خبر بھی آئی ہے کہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے، جولائی تا نومبر2020 میں ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں 43 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ مالی سال سے کم ہے۔ پن بجلی منصوبوں میں 50.4 ملین ڈالر سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ برس 42.9ملین ڈالر تھی۔ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں175.8 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ برس 23.5 ملین ڈالر تھی۔
بجلی کے نظام کی تعمیروتوسیع میں ملکی ماہرین کا انداز نظر بھی وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا تب اسٹریٹ لائٹس سے لے کر انڈسٹری، مارکیٹوں، رہائشی علاقوں اورکچی آبادیوں میں شفاف بجلی میکنزم سے صورتحال بدل سکتی ہے، حکمراں توانائی بحران کے حل میں پیش رفت کے لیے ڈیموں کی تعمیر پر ثابت قدمی کا ثبوت دے، حقائق پر نظر رکھے کیونکہ منگلا اور تربیلا اپنی طبعی مدت پوری کرچکے، منگلا میں توسیعی کام کا آغاز ہوچکا، مگر توانائی کے وسائل میں بڑے فیصلوں کی ضرورت ہے، بلنگ پالیسی نے صارفین کو پریشان کر دیا ہے، بجلی نہیں ہے، لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے مگر بل ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتے، عوام چیخ رہے ہیں کہ کارپوریٹ ازم نے عوام کو مسرتوں سے محروم کر دیا ہے۔ آج بنیادی سوچ کے پیشہ ورانہ، بریک تھرو کے ساتھ ساتھ عوام دوست پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے۔
ادھر سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی ڈاکٹر فیاض چوہدری نے کہا ہے کہ بجلی کے نظام میں فالٹ آنا نارمل بات ہے، سسٹم میں فوگ یا اسموگ کی وجہ سے فالٹ آتے رہتے ہیں، حکومت بریک ڈاؤن پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کرے تاکہ آیندہ اس صورتحال سے بچا جاسکے۔ سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی ڈاکٹر فیاض چوہدری نے مزید کہا کہ بجلی کے نظام میں ایک دو element فالٹ کی وجہ سے نکل جائیں تب بھی نظام مستحکم رہنا چاہیے، تحقیقات کرنا ہوگی کہ ایک لائن نکلی تو دوسری کیوں نکلی، دوسری لائن نکلنے کے بعد بھی کیس کیڈنگ نہیں ہونی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسمیشن نظام میں بہتری لانا ایک دن کا کام نہیں بلکہ تسلسل سے ہونا چاہیے، 15ہزار میگاواٹ سسٹم میں شامل ہوتے ہیں تو اس کے لیے راتوں رات ٹرانسمیشن نہیں بن سکتی، بجلی کے نظام میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا ہوگا، بجلی کے نرخ اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ ہم ادا نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ ریسرچ کا کام نہ ہونا ہے۔ سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی نے بنیادی باتیں کی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ایسی دل خوش کن باتیں تو 72سالوں سے کی جاتی رہی ہیں، مگر بجلی کا نظام شفافیت اور فالٹ فری ہونے کی منزل سے دور رہا۔ انھوں نے بھی عوام کو تسلی دی کہ بجلی میں فالٹ آنا معمول کی بات ہے، یعنی موصوف اتنے ہولناک بریک ڈاؤن کو بھی بجلی کا فالٹ تصور کرتے ہیں، اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا۔
میر تقی میر کا شعر ہے
برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو
اک دل بے قرار رکھتے ہیں
بجلی کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے حکومت کو کئی سوالوں کے جواب دینا ہونگے، پہلی بات اہل فکر ونظر کی خاموشی اور قومی معاملات میں درد ناک بیگانگی اور بے نیازی کی ہے،دوسری بات سیاستدانوں کی ہے، ان پر تو یہ بلیم اب بہت پرانا ہوگیا کہ وہ سارے مسائل کی جڑ ہیں، حتیٰ کہ پاور بریک ڈاؤن کا الزام بھی سابق حکومتوں کے سر منڈھ دیا گیا لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک بنانا ری پبلک کی سمت ہولناک موڑ پر ہے۔ جب ملک کے سوچنے والے دانشور طبقات خود کو مین اسٹریم سیاسی اجتماعیت سے الگ تھلگ کرلیں اور بڑے سے بڑے المیوں پر بھی چپ کا روزہ رکھنے کے جرم میں شریک ہوں تو ارباب اختیار کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایسی صورتحال پر خوش نہ رہیں، یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔