سپریم کورٹ جے یو آئی کی سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانیکی مخالفت
آئین کے تحت کون سے انتخابات ہوتے ہیں، چیف جسٹس، جے یو آئی کو تحریری جواب جمع کرانے کی اجازت
الیکشن ایکٹ 2017 میں لکھا ہے کہ سینیٹ الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہو گا، ریمارکس، صدارتی ریفرنس پر سماعت
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی جے یو آئی ف نے سپریم کورٹ میں مخالفت کردی۔
سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے صدارتی ریفرنس پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر وکیل کامران مرتضٰی نے موقف اپنایا کہ عدالت اجازت دے تو تحریری جواب جمع کرانا چاہتے ہیں۔
ہم سینیٹ انتخابات کی اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کی تحریری مخالفت کرتے ہیں جس پر عدالت نے جے یو آئی کو تحریری جواب جمع کرانے کی اجازت دیدی۔اٹارنی جنرل پاکستان نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ عدالتی حکم پر اخبارات میں اشتہارات دیے تھے۔
جسٹس اعجا ز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کوئی آزاد حثیت میں سینیٹ الیکشن لڑ سکتا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا آزاد حثیت میں امیدواروں کے سینٹ الیکشن لڑنے پر پابندی نہیں۔قومی اسمبلی کے انتخابات خفیہ ہی ہو سکتے ہیں۔آرٹیکل 186 پر دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا صدر قانونی سوال پر سپریم کورٹ کی رائے لے سکتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاعدالت نے فیصلہ کرنا ہے سوال قانونی یا عوام مفاد کا ہے یا نہیں؟ ۔اٹارنی جنرل نے کہاماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی ہے۔کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے لی۔عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قرار دے چکی ہے۔ بنگلادیش کو تسلم کرنے کے معاملے پر بھی صدارتی ریفرنس آیا تھا۔
ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا سندھ حکومت کا جواب جمع کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہاکیا سندھ حکومت کا جواب میٹھا ہو گا ۔چیف جسٹس کے ریمارکس عدالت میں قہقہ لگا تاہم سندھ حکومت نے عدالت سے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا۔ اٹارنی جنرل پاکستان کے دلائل جاری تھے کہ وقت کی کمی کے باعث مزید سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کردی گئی۔
سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے صدارتی ریفرنس پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر وکیل کامران مرتضٰی نے موقف اپنایا کہ عدالت اجازت دے تو تحریری جواب جمع کرانا چاہتے ہیں۔
ہم سینیٹ انتخابات کی اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کی تحریری مخالفت کرتے ہیں جس پر عدالت نے جے یو آئی کو تحریری جواب جمع کرانے کی اجازت دیدی۔اٹارنی جنرل پاکستان نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ عدالتی حکم پر اخبارات میں اشتہارات دیے تھے۔
جسٹس اعجا ز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کوئی آزاد حثیت میں سینیٹ الیکشن لڑ سکتا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا آزاد حثیت میں امیدواروں کے سینٹ الیکشن لڑنے پر پابندی نہیں۔قومی اسمبلی کے انتخابات خفیہ ہی ہو سکتے ہیں۔آرٹیکل 186 پر دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا صدر قانونی سوال پر سپریم کورٹ کی رائے لے سکتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاعدالت نے فیصلہ کرنا ہے سوال قانونی یا عوام مفاد کا ہے یا نہیں؟ ۔اٹارنی جنرل نے کہاماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی ہے۔کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے لی۔عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قرار دے چکی ہے۔ بنگلادیش کو تسلم کرنے کے معاملے پر بھی صدارتی ریفرنس آیا تھا۔
ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا سندھ حکومت کا جواب جمع کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہاکیا سندھ حکومت کا جواب میٹھا ہو گا ۔چیف جسٹس کے ریمارکس عدالت میں قہقہ لگا تاہم سندھ حکومت نے عدالت سے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا۔ اٹارنی جنرل پاکستان کے دلائل جاری تھے کہ وقت کی کمی کے باعث مزید سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کردی گئی۔