بلدیاتی انتخابات سندھ ہائی کورٹ کا حکم

جمہوریت کومضبوط کرنا ہے تو جمہوری حکومتوں کو جمہوریت کی نرسری بلدیاتی نظام کو پروان چڑھانا ہوگا

جمہوریت کومضبوط کرنا ہے تو جمہوری حکومتوں کو جمہوریت کی نرسری بلدیاتی نظام کو پروان چڑھانا ہوگا. فوٹو: فائل

جمہوریت کی بنیادی نرسری تو بلدیاتی نظام کو ہی قرار دیا جاسکتا ہے لیکن کیا عجب بات ہے کہ جمہوری حکومتوں نے اس نرسری کی دیکھ بھال پر قطعاً کوئی توجہ نہیں دی بلکہ آمروں نے جمہوریت کے اس ننھے پودے کا پروان چڑھایا ۔بلوچستان جیسے شورش زدہ صوبے نے بلدیاتی انتخابات منعقد کروا کر تو جمہوریت سے اپنی کمٹ منٹ کا عملی طور پر ثابت کیا ہے ۔لیکن پنجاب ،خبیرپختون خوا اور سندھ کی حکومتیں مختلف حیلے بہانوں سے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیارکرتی رہی ہیں ۔سپریم کورٹ کے واضح احکامات اور تاریخوں کے تعین کے باوجود تاحال صورت حال گومگو کی کیفیت میں ہے ، ایک جانب تو ہزاروں امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروا چکے ہیں ،بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں انتہائی قریب ہیں لیکن تینوں صوبائی حکومتیں ہرروز ایک نیا بہانہ اور عذر تراشنے میں مصروف رہیں ۔تاہم صوبہ سندھ میںسندھ ہائیکورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں میں تبدیلی اور انتخابات میں شرکت کے لیے پینل کی پابندیوں کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ سمیت دیگر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی درخواستیں منظورکرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2013 میں تیسری ترمیم کو غیر قانونی اورکالعدم قراردیدیا ،لیکن بینچ نے وضاحت کی ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے انتخابی شیڈول تبدیل نہ کیا جائے اور انتخابات مقررہ وقت18جنوری کو ہی کرائے جائیں ۔لیکن صورتحال یہ ہے کہ سندھ حکومت کے وزیراعلیٰ سمیت متعدد وزراء باربار الیکشن ملتوی کرکے اس کی تاریخ بڑھانے پر زور دے رہے ہیں ۔


دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ذرایع کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد پہلے سے جمع کیے کاغذات نامزدگی پرقانونی تنازع پیدا ہوگیا ہے کیونکہ جس قانون کے تحت امیدواروں نے فارم جمع کرائے اسے ہائیکورٹ نے کالعدم کردیا ہے۔سندھ حکومت کو اس حقیقت کا ادارک کرنا چاہیے کہ اب بلدیاتی انتخابات سر پر آگئے ہیں، مسائل کے باوجود انتخابات ہوسکتے ہیں۔التوا در التوا سے دیگرصوبوں میں بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔کیونکہ ملک بھر میں انتخابی ماحول بن چکا ہے۔ جمہوریت کے چمپئین نہ جانے کیوں اختیارات کی منتقلی مقامی سطح پر نہیں چاہتے، قومی اسمبلی اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل کرچکی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25انسانی مساوات کا سنہرا اصول ہے ، بلدیاتی نظام کے تحت ایک یونین کونسل تشکیل دی جاتی ہے جو مقامی سطح پر مسائل کے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے ۔

سب سے بڑی خوبی اس نظام کی یہ ہے کہ عوام کی رسائی اپنے منتخب نمایندوں تک باسانی ہوجاتی ہے جب کہ ایم پی اے اور ایم این اے حضرات تو عوام کی پہنچ سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ بلدیاتی نظام کے ثمرات سے تو کراچی سمیت ملک کے تمام چھوٹے، بڑے شہروں سمیت قصبوں اور دیہاتوں میں بھی نظر آئے ہیں ۔ترقیاتی کام اور روزمرہ کے مسائل بلدیاتی نمایندے ہی حل کرتے ہیں لیکن اس سوچ کا کیا جائے جس کے تمام تر اختیارات کا ارتکاز قومی اورصوبائی اسمبلی کے ممبران اپنا پاس رکھنا چاہتے ہیں یقینا! یہ رویہ غیرجمہوری ہے ۔ جمہوریت کومضبوط کرنا ہے تو جمہوری حکومتوں کو جمہوریت کی نرسری بلدیاتی نظام کو پروان چڑھانا ہوگا ۔سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ سے جمہوری روایات کو فروغ جب کہ غلط و من مانی انتظامی اقدامات اور آئینی و قانونی ترامیم پر اصرار کی حوصلہ شکنی ہوگی، امید کی جانی چاہیے کہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لیے سیاسی رویوں میں بلوغت و سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
Load Next Story