بلاول اور نئی سوچ

بلاول بھٹو زرداری نے اقلیتوں کو برابرکا درجہ دینے کے لیے عیسائی وزیراعظم کی خواہش کا اظہار کیا ہے

tauceeph@gmail.com

پنجابی اسٹیبلشمنٹ ہمارے خلاف متحد تھی، طالبان سے جہاد کریں گے۔ بزدل خان حکیم اﷲ محسود کے غم میں نیٹو سپلائی بند کررہا ہے۔ جمہوریت کو خطرہ ہوا تو نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی چھٹی برسی کے موقعے پر اس تقریر نے جیالوں میں ولولہ پیدا کیا تو تحریکِ انصاف والے بپھر گئے۔ بلاول بھٹو نے 18اکتوبر میں شاہراہِ فیصل پر بے نظیر بھٹو کے جلوس میں دھماکے میں مرنے والے کارکنوں کی یاد میں ہونے والی تقریب میں جو تقریر کی تھی 27 دسمبر کی تقریر اس سے بہتر تھی۔ مگر تحریکِ انصاف والوں نے عمران خان کے بارے میں بلاول کے ریمارکس پر ردعمل کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر عارف علوی جیسے سنجیدہ سیاستدان اپنے کارکنوں کے ساتھ بلاول ہاؤس پر دھرنا دینے کے لیے پہنچ گئے۔ یوں دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں تصادم ہوا اور متعدد کارکن زخمی ہوگئے۔ سیاستدانوں کی ایک دوسرے پر تنقید کی روایت بہت پرانی ہے مگر کسی سیاستدان کی تنقید کے جواب میں کارکنوں کو استعمال کرنے کی یہ پہلی کوشش ہے۔

خود عمران خان گزشتہ 20 برسوں سے آصف علی زرداری، بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن وغیرہ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو ٹیکس چور اور دولت غیر ممالک میں رکھنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ عمران خان نے خیبر پختون خوا میں انتخابی مہم کے دوران مولانا فضل الرحمن کو مسلسل مولانا ڈیزل کے نام سے پکارا مگر کسی جماعت نے اپنے کارکنوں کو احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریکِ انصاف میں عوام میں مقبولیت کے ساتھ ساتھ فاشسٹ رویہ بھی تقویت پارہا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی جیسے سنجیدہ اور بردبار رہنما ان رویوں سے متاثر ہوگئے ہیں۔ پھر کراچی میں تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ تحریکِ انصاف کو کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کا سامنا ہے۔

کراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور ایم کیو ایم کے مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ فنکشنل سے بڑھتے ہوئے رابطوں کی بناء پر اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ کم از کم کراچی کی حد تک پیپلز پارٹی کی ایم کیو ایم کے خلاف متحرک قوتوں یعنی جماعت اسلامی، تحریکِ انصاف، اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام وغیرہ کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کرسکتی ہیں مگر تحریکِ انصاف کی قیادت کے غیر سنجیدہ رویہ اور کارکنوں کو مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے تحریکِ انصاف سیاسی میدان میں تنہا رہ جائے گی۔ بلاول بھٹو نے انتخابات کا تجزیہ کرتے ہوئے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی کو کبھی قبول نہیں کیا مگر اس اسٹیبلشمنٹ میں صرف پنجابی ہی نہیں بلکہ پٹھان اور اردو بولنے والے جنرل اور بیوروکریٹس بھی شامل رہے ہیں ۔ صدر زرداری نے اپنے صلح کل کے نظریے کے تحت اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی کوشش کی۔ اس مفاہمت کے نظریے کے تحت جنرل پرویز مشرف کو گارڈ آف آنرز کے ساتھ رخصت کیا گیا۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت میں 3 سال کی توسیع کی گئی۔ اسی طرح جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا تو اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر اس فیصلے کو منسوخ کردیا گیا۔ اسی طرح جب امریکی کانگریس نے کیری لوگر بل منظور کیا تو منتخب حکومت نے آئینی طریقہ کار کے تحت جمہوریت کے استحکام کے لیے اس بل کی منظوری کا خیر مقدم کیا تو جنرل ہیڈ کوارٹرز نے منتخب حکومت کی پالیسی کے خلاف بیان جاری کیا۔ یہ بیان آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی تھا مگر صدر زرداری نے اس معاملے کو نظراندز کردیا۔ اسی طرح جب امریکی کمانڈوز نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو تلاش کر کے ہلاک کیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی کیونکہ پاکستانی رہنما بار بار یہ اعلان کرتے نہیں تھکتے تھے کہ اسامہ پاکستان میں روپوش نہیں ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر وفاقی حکومت نے اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات نہیں کرائیں اور ایک ایسا کمیشن قائم کیا گیا جس کے ایک معزز رکن نے تحقیقاتی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ دے دیا۔


بہرحال اسٹیبلشمنٹ سابق صدر زرداری کی مفاہمت کی پالیسی کے باوجود پیپلز پارٹی کی مخالفت کرتی رہی۔ یہی وجہ تھی کہ انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں تھی مگر پیپلز پارٹی کی شکست کی بنیادی وجوہات میں پارٹی میں سیاسی کلچر کا ختم ہونا اور شفافیت کا عمل نہ ہونا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ زرداری صاحب نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پرانے رہنماؤں اور کارکنوں کو نظر اندز کیا اور ایسے لوگوں کو عہدے دے دیے جن کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ لوگ جوڑ توڑ کی سیاست کے تو ماہر تھے مگر سیاسی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی سیاسی طور پر غیر مؤثر ہوگئی اور پنجاب میں حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کرسکی۔ 2008 سے 2013 تک پنجاب میں میاں شہباز شریف بلا شرکتِ غیر حکومت کرتے رہے۔

ان کے طرزِ حکومت میں شہروں میں رہنے والے متوسط طبقے کے لیے تو بڑی کشش تھی مگر مزدوروں، کسانوں اور اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ پنجاب میں کسانوں کے حالات خاصے بگڑے، دیہاتوں میں جبری مشقت، پولیس کا ظالمانہ کردار، زمینوں سے کسانوں کی بے دخلی جیسے اہم معاملات پر پیپلز پارٹی نے کبھی توجہ نہیں دی۔ اسی طرح طلبہ، اقلیتوں اور مزدوروں کے مسائل کو جدوجہد کی بنیاد نہیں بنایا گیا۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے پیپلز پارٹی کی مقبولیت کو سخت متاثر کیا مگر 18ویں ترمیم کے نفاذ کے بعد صوبوں کو بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے کا حق حاصل ہوا، یوں پنجاب کی حکومت کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے منصوبہ بندی کرے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت اس نکتے پر رائے عامہ ہموار نہ کرسکی۔ اسی طرح پنجاب کے صنعتی اداروں میں مزدوروں سے اجتماعی سودے کاری کا حق بھی چھین لیا گیا۔ فیصل آباد کی مختلف صنعتوں کے مزدوروں نے جدوجہد کی مگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے مزدوروں کی اس جدوجہد سے یکجہتی کا اظہار نہیں کیا۔

اسی طرح یومِ مئی کے جلسوں کو صرف گورنر ہاؤس تک محدود کردیا گیا۔ پنجاب کی حکومت کے خلاف طلبہ نے امتحانی نتائج میں غلطیوں کے خلاف تاریخی جدوجہد کے دوران مختلف شہروں میں بورڈ کے دفاتر کو نذرآتش کیا۔ پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ جب امتحانی نتائج میں گڑبڑ کی عدالتی تحقیقات ہوئیں تو طلبہ کے الزامات درست ثابت ہوئے۔ مختلف بورڈز کو نتائج دوبارہ جاری کرنے پڑے۔ عدالتی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ حکومت پنجاب نے قوائد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر کا تقرر کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کو اتنے اہم معاملے پر ایک پرامن جدوجہد منظم کرنی چاہیے تھی۔ اس معاملے پر اسمبلی اور عدالتوں میں بحث ہونی چاہیے تھی مگر پیپلز پارٹی کے قائدین ان دنوں کہاں کھوئے ہوئے تھے یہ کسی کو علم نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کے وزراء پر بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کے الزامات لگائے گئے، اس دور میں ریلوے کا نظام ٹھپ ہوگیا،کئی ریل گاڑیاں چلنا بند ہوگئیں، ریلوے کے ملازمین تنخواہوں کے لیے احتجاج کرتے رہے ، وفاقی حکومت ریلوے کے مسائل کا حل تلاش نہ کرسکی اور یوں محسوس ہونے لگا کہ عوام کے لیے سستا اور محفوظ سفر کا یہ ذریعہ عوامی حکومت کے دور میں ختم ہوجائے گا ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں پاسپورٹ کی دستیابی ایک مسئلہ بنی رہی۔ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کو اس مسئلے کے حل کے لیے پرانے پاسپورٹوں کی معیاد میں توسیع کا اعلان کرنا پڑا مگر کیا ریلوے اور پاسپورٹ کے بحران اتنے گہرے تھے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس ان کا حل نہیں تھا۔

ان سوالات کا جواب مسلم لیگ ن کے 200 دن کی حکومت میں مل گیا۔ اب پاسپورٹ کا حصول آسان ہوگیا اور ریل گاڑیاں بھی قدرے وقت پر چلنے لگیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اس صورتحال کی ذمے داری کسی نادیدہ قوت پر عائد کرتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ محض میرٹ پر فیصلے کرنے اور ہر سطح پر شفافیت کے عمل کو یقینی بنانے کی بناء پر یہ ادارے متحرک ہوئے۔ سندھ میں صرف تعلیم کے محکمے کے جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں میں جس طرح چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر کی پوسٹیں پرہوئیں اس کے بعد سندھ میں تعلیمی صورتحال کیا ہوگی؟ اس پر بھی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اقلیتوں کو برابرکا درجہ دینے کے لیے عیسائی وزیراعظم کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ بختاور بھٹو نے ملالہ کو وزیر اعظم کی حیثیت سے دیکھنے کی خواہش کر کے نئی سوچ کا اظہار کیا ہے اگر وہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ مقبول جماعت بنانا چاہتے ہیں تو انھیں پارٹی میں سیاسی کلچر کو بحال کرنا ہوگا۔ پارٹی کو شفافیت کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق چلانا ہوگا اور مزدوروں، کسانوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کو لازمی قرار دینا ہوگا۔ پیپلز پارٹی اب بھی غریب عوام کی امید ہے۔ جدوجہد اور شفافیت کی بناء پر وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترسکتی ہے۔
Load Next Story