بنگلہ دیشایونٹس کے انعقاد پر خدشات میں مزید اضافہ
اپوزیشن پارٹی نے سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی بھی یقین دہانی کرانے سے انکارکر دیا
اپوزیشن پارٹی نے سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی بھی یقین دہانی کرانے سے انکارکر دیا۔ فوٹو: فائل
بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل ایونٹس کے انعقاد پر موجود خدشات میں مزید اضافہ ہوگیا، اپوزیشن پارٹی نے سیکیورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی یقین دہانی کرانے سے انکار کردیا۔
بی این پی کے اسپورٹس سیکریٹری لیفٹیننٹ کرنل(ر) عبدالطیف کا کہنا ہے کہ کشیدہ ملکی صورتحال پوری دنیا کی نظر میں ہے، کھلاڑیوں کے تحفظ کی ضمانت کیسے دے سکتے ہیں؟ تفصیلات کے مطابق بم دھماکے، ملا عبدالقادر کی پھانسی کے بعد پُرتشدد مظاہروں اور 5 جنوری کو شیڈول الیکشن کے باعث سیاسی تنائو نے بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل ایونٹس کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے،کرکٹ بورڈ نے حکمران عوامی لیگ اور اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرنے والی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سربراہوں سے سیکیورٹی کی یقین دہانی حاصل کرنے کیلیے رابطے کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہ بیل بھی منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ بی این پی کے اسپورٹس سیکریٹری اور قومی ٹیم کے سابق منیجر لیفٹیننٹ کرنل(ر) عبدالطیف نے کرکٹ بورڈ کے دفتر پہنچ کر پارٹی کی پوزیشن واضح کردی، انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کھیلوں کو سیاسی کشیدگی کے اثرات سے پاک رکھنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ عوام انتخابات میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
نیوزی لینڈ سے سیریز کے دوران بی سی بی کے قائم مقام چیف ایگزیکٹیو سوجان نے بھی ایسی ہی درخواست کی جوخالدہ ضیا نے قبول بھی کرلی لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ پارٹی لیڈر کو گھر میں محصور کردیا گیا ہے، پاکستانی، بھارتی اور سری لنکن ہائی کمشنرز کے دفاتر ان کی رہائشگاہ سے زیادہ دور نہیں، ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے اور ایک جمہوری ملک کے باسی ہیں، پولیس ان کے گھر کا محاصرہ ختم کردے تو ملک، کرکٹ اور جمہوریت سب کے حق میں بہتر ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ساری دنیا ہمارے حالات کو دیکھ رہی ہے،ایشیا کپ میں 4 ٹیمیں ہوں گی، ورلڈ ٹوئنٹی 20چیمپئن شپ میں تو کئی ممالک کے اسکواڈز اور تماشائی آئینگے، ان مقابلوں کے پُرامن انعقاد کی یقین دہانی کیسے کرا سکتے ہیں۔ عبدالطیف نے تجویز پیش کی کہ بی سی بی کے صدرنظم الحسن ہائی کمشنرز کو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کیلیے کہیں، اسی صورت میں انٹرنیشنل ایونٹس کے انعقاد کی امید زندہ رکھی جا سکتی ہے۔
بی این پی کے اسپورٹس سیکریٹری لیفٹیننٹ کرنل(ر) عبدالطیف کا کہنا ہے کہ کشیدہ ملکی صورتحال پوری دنیا کی نظر میں ہے، کھلاڑیوں کے تحفظ کی ضمانت کیسے دے سکتے ہیں؟ تفصیلات کے مطابق بم دھماکے، ملا عبدالقادر کی پھانسی کے بعد پُرتشدد مظاہروں اور 5 جنوری کو شیڈول الیکشن کے باعث سیاسی تنائو نے بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل ایونٹس کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے،کرکٹ بورڈ نے حکمران عوامی لیگ اور اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرنے والی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سربراہوں سے سیکیورٹی کی یقین دہانی حاصل کرنے کیلیے رابطے کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہ بیل بھی منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ بی این پی کے اسپورٹس سیکریٹری اور قومی ٹیم کے سابق منیجر لیفٹیننٹ کرنل(ر) عبدالطیف نے کرکٹ بورڈ کے دفتر پہنچ کر پارٹی کی پوزیشن واضح کردی، انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کھیلوں کو سیاسی کشیدگی کے اثرات سے پاک رکھنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ عوام انتخابات میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
نیوزی لینڈ سے سیریز کے دوران بی سی بی کے قائم مقام چیف ایگزیکٹیو سوجان نے بھی ایسی ہی درخواست کی جوخالدہ ضیا نے قبول بھی کرلی لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ پارٹی لیڈر کو گھر میں محصور کردیا گیا ہے، پاکستانی، بھارتی اور سری لنکن ہائی کمشنرز کے دفاتر ان کی رہائشگاہ سے زیادہ دور نہیں، ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے اور ایک جمہوری ملک کے باسی ہیں، پولیس ان کے گھر کا محاصرہ ختم کردے تو ملک، کرکٹ اور جمہوریت سب کے حق میں بہتر ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ساری دنیا ہمارے حالات کو دیکھ رہی ہے،ایشیا کپ میں 4 ٹیمیں ہوں گی، ورلڈ ٹوئنٹی 20چیمپئن شپ میں تو کئی ممالک کے اسکواڈز اور تماشائی آئینگے، ان مقابلوں کے پُرامن انعقاد کی یقین دہانی کیسے کرا سکتے ہیں۔ عبدالطیف نے تجویز پیش کی کہ بی سی بی کے صدرنظم الحسن ہائی کمشنرز کو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کیلیے کہیں، اسی صورت میں انٹرنیشنل ایونٹس کے انعقاد کی امید زندہ رکھی جا سکتی ہے۔