حقائق کا ہوشربا منظرنامہ
مسائل کا پینڈورا باکس کھل گیا ہے، مسائل ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔
مسائل کا پینڈورا باکس کھل گیا ہے، مسائل ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
ملکی اقتصادی و سیاسی صورتحال کے بارے میں کوئی غیر جانبدار سیاسی مبصر یقینی بات کہنے کی پوزیشن میں نہیں، بظاہر ماہرین معاشیات جمہوری ثمرات اور ٹریکل ڈاؤن کی یقین دہانی کراتے ہیں اور معاشی حقائق کی جزوی صداقت بھی نظر آتی ہے۔
عوام کو اطمینان بھی دلایا جا رہا ہے کہ سارے معاشی اور اقتصادی اشاریے درست سمت میں جا رہے ہیں، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اقتصادی عوامل کو گرفت میں لانے کے لیے حکومت کی اولین ترجیح ہی معاشی استحکام، خود کفالت، قرضوں کا خاتمہ اور غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کی پیدا شدہ صورتحال کو مکمل کنٹرول کرنے پر مرکوز ہے، حکومت تاریک سرنگ اور مشکلات سے باہر نکل آئی ہے، مشکل وقت کے خاتمے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
یہ نوید ارباب اختیار کی طرف سے قوم کو مل رہی ہے ادھر عوام کورونا کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں، مگر زمینی حقائق اور ملکی معیشت، سیاسی صورتحال، حکومتی اقدامات کا جو نتیجہ سامنے آنا چاہیے اس بارے میں ماہرین کے تجزیوں، ٹھوس زمینی صورتحال پر عوام میں اضطراب اور اقتصادی بہتری کے حوالہ سے نتائج سامنے آنا ناگزیر ہے۔ تاہم روز نئی پیش رفت، سیاسی خلفشار، دشواریوں اور حالات کی چرخی جس تیز رفتاری سے گھوم رہی ہے، اس نے قوم کو شدید ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسائل کا پینڈورا باکس کھل گیا ہے، مسائل ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، کوئی ایک ایشو ہو تو حکومت اس پر صائب اور نتیجہ خیز اقدامات کی نوید دیتے ہوئے اقتصادی، معاشی اور سیاسی حوالوں سے قوم کو صحیح صورتحال پر اعتماد میں لے اور حکومتی پالیسیوں، اقدامات، جرأت مندانہ فیصلوں اور حتمی طور پر عوام کو ملکی اور عالمی صورتحال کے منظرنامہ پر اپنا انداز نظر عوام کے سامنے لائے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ کورونا، سیاسی محاذ آرائی، خطے کی صورتحال، خارجہ پالیسی، داخلی معاملات اور ہمہ جہتی کشمکش و سیاسی بے یقینی نے حکومت اور اپوزیشن کو بے نتیجہ ٹکراؤ، مستقل جنگ اور غیر معمولی سیاسی دنگل میں الجھا دیا ہے، اس دنگل کو اب ختم بھی ہونا چاہیے، کیونکہ سارے معاشی مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تمام ایشوز پر قانون اور سیاسی بصیرت و معاملہ فہمی اور دور اندیشی کے ساتھ منزل کی طرف بڑھنا ہوگا ورنہ دنیا حیرت میں ہے کہ امریکا، برطانیہ، سمیت انتہائی ترقی یافتہ ملک ہیں لیکن ان تمام ہی ممالک کو کورونا کی لہر، سسٹم میں بھونچال اور عالمی جنگوں سے پیدا شدہ غربت، بیروزگاری اور معاشی دھندلاہٹ کا سامنا ہے۔
اس وقت ساری دنیا چیخ رہی ہے کہ کورونا سے بچنے کی کوشش کرو تو بیروزگاری، معاشی بحران، مالیاتی فراڈ اور ویکسین کے استعمال پر مسائل کا نیا تنازع کھڑا ہو رہا ہے، بھارتی حکومت کے بارے میں تو ماہرین صحت کہہ رہے ہیں کہ جس دیسی ساختہ ویکسین کا ٹرائل اور کلینیکل منظور ہونا ابھی باقی تھا کہ نریندر مودی سرکار نے ویکسین عوام کا لگانی شروع کردی، جس پر ماہرین صحت میں کہرام مچا ہوا ہے کہ اس بھارتی ویکسین سے مریضوں میں طبی مشکلات اور بیماریوں میں پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔
دوسری طرف ملکی منظرنامہ کی وسعتیں حکمرانوں کو بوکھلاہٹ کا شکار کر رہی ہیں، مثال کے طور پر تعلیمی مسائل ابھی تک کورونا کے کیلنڈر کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ملک بھر میں دو ماہ تک کورونا لہر کے سبب بند تعلیمی ادارے مرحلہ وار 18 جنوری کو نویں سے بارہویں جماعت تک کی کلاسز کے ساتھ کھل گئے، پہلی کلاس سے آٹھویں اور یونیورسٹیز میں یکم فروری سے تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں گی۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں کورونا کیسز میں اضافے کے سبب 26 نومبر 2020 سے تمام اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کو بند کردیا گیا تھا، کلاس کے آغاز کے بعد صوبے اپنی پالیسی کے مطابق ایک جماعت کو مکمل طالبعلموں کی موجودگی یا ماضی کی طرح آدھی کلاس ایک روز اور باقی کے دوسرے روز کی پالیسی کے تحت تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھا سکتے ہیں، این سی او سی اور بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کا انعقاد 20 جنوری کو بھی متوقع ہے۔
صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی اداروں کے کھولے جانے کے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔ لیکن تعلیمی معاملات اب بھی قومی سائیکی اور اعصاب پر مسلط ہیں، شدید دباؤ میں مستقبل کے معمار اپنی تعلیم مکمل کرنے جا رہے ہیں۔
ادھر انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایل این جی مہنگی ہونے کے سبب حکومتی اداروں سمیت انٹرنیشنل ڈیلرز نے پاکستانی حکومت کو گیس دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے سبب اگلے ماہ (فروری) گیس بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) پر قطر سے مہنگی ایل این جی درآمد کرنے کا واویلا کرنے والی پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت اب تک کی سب سے مہنگی قیمت پر گیس لینے کو تیار ہے لیکن کوئی سپلائر اسے دینے کو تیار نہیں ہو رہا۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پرائیویٹ سیکٹر ایل این جی درآمد کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے لیکن بیورو کریسی سرکاری اداروں کی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے اسے اجازت دینے کو تیار نہیں۔ اب جب کہ حکومت کے سارے کنٹریکٹ ناکام ہوگئے ہیں تو حکومت گیس درآمد کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کی طرف دیکھ رہی ہے۔
یہ ٹپ آف این آئس برگ ہے، مسائل کی گنتی ابھی ختم نہیں ہوئی، بجلی اور گیس زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں، جدید دور میں ان کو تعیشات نہیں کہا جاسکتا، کوئی ملک اور معاشرہ توانائی بحران کے تسلسل کے ساتھ ترقی و عوامی خوشحالی کا دعویٰ نہیں کرسکتا، یہ سنگین صورتحال حکومت کے اقتصادی پروگراموں کی بساط بھی الٹ سکتی ہے، بہت سے خواب شرمندہ تعبیر رہ جائیں گے اگر ملک صنعتی اور تعمیراتی پیش رفت میں پیچھے رہ جائے۔ اس لیے ایک مستحکم آفاقی معاشرہ کی اٹھان کے لیے بنیادی صنعتی پالیسی کا ملک گیر پھیلاؤ ناگزیر ہے۔ یہ راکٹ سائنس نہیں جدید طرز حیات اور ریاستی وحکومتی مضبوطی کی پیش رفت ہے۔
یاد رہے لاقانونیت، قتل و غارت اور غیر انسانی و بہیمانہ جرائم کی صورتحال بھی سخت تشویشناک ہے، انسانی جان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی، اسلام میں تو ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل کہا گیا ہے، لیکن ذرا ملکی پولیس کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بدن لرز اٹھتا ہے، قابل دست اندازی جرم کے ناقابل تردید اور مجرمانہ کارروائی تحقیق کے حوالہ سے سال 2020کی 279 غیر فطری ہلاکتوں کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جس میں پولیس نے 279 غیر فطری اموات کی زیر التوا انکوائریوں کو آپریشن ونگ سے لے کر تفتیش میں منتقل کر دیا ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ یہ اقدام یہ جاننے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ 279 افراد خودکشی، حادثے یا قتل کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے، انھوں نے بتایا کہ خودکشی یا حادثے کے متعدد معاملات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے استدلال کیا کہ غیر فطری موت کی صورت میں انصاف کے معیار کو پورا کرنے کے لیے حالات (وجوہات) کی وضاحت اور جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال 279 غیرفطری اموات میں سے251 مرد، 23 خواتین اور پانچ بچوں کی تھیں۔
ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں موت کی تفتیش کو انچارج انکوائری کے پاس بھیجیں جو شواہد، تازہ ڈی این اے ٹیسٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹس حاصل کر کے موت کی وجہ کا پتہ لگائیں گے۔ بہتر خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں تحقیقات کے معیار کو ہموار اور بہتر بنانے کے لیے یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایسے حالات میں جہاں تھانے کا ایس ایچ او سی آر پی سی کی دفعہ 174کی دفعات کے مطابق کارروائی کا فیصلہ کرے۔
مسائل اور بحرانوں کی ہسٹری بھی پاکستان کے72سالوں کے ٹریک ریکارڈ کی ایک انفرادیت ہے، مگر جس رفتار سے مسائل نے موجودہ سیاسی حالات میں جگہ پائی اس نے ملکی سماجی اور سیاسی منظرنامہ کو عوام کے لیے مشکل ترین صورتحال قراردیا، ایک طرف براڈ شیٹ کا واقعہ پیش آیا جو پرانے مالیاتی مسائل کے اس سلسلہ میں جو پیسوں کے سکینڈل سے ہی مربوط تھا لیکن کیس کا نتیجہ عجیب وغریب نکلا، حکومت کو اپنی طرف سے جرمانے بھرنے پڑے، بجائے قوم کو کچھ پیسے ملنے کے الٹا قومی خزانے سے حکومت کو ادائیگی کرنا پڑی، ادھر پی آئی اے کا ایک طیارہ ملائیشیا میں لیز کی رقم کی عدم ادائیگی پر تحویل میں لیا گیا۔
ہماری قومی ایئر لائن کی بدنصیبی کا قصہ دراز ہے، جس میں پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں پر انھیں طیارے اڑانے نہیں دیے گئے، بد انتظامی کے کئی ایک واقعات نے ایوی ایشنز انڈسٹری کو سوالیہ نشان بنا دیا، سیاسی سطح پر فارن فنڈنگ کیس کی سیاسی چنگھاڑ نے سیاسی منظرنامہ کو گرما دیا ہے، سیاسی نظام کے سر پر تلوار سی لٹکا دی ہے، الیکشن کمیشن کے سامنے مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے کارکن اور رہنما اس موقع پر موجود ہونگے، اس اجتماع کا مقصد بھی سیاسی طاقت کا ایک مظہر سمجھا جائے گا۔
ایک مسئلہ مردم شماری کا بھی ہے، جسے کراچی کے عوام شہر قائد کی شماریاتی حقیقت کو گھٹا کر پیش کرنے سے متعلق سمجھتے ہیں، حکومت نے نئی مردم شماری پر اتفاق کیا ہے لیکن سوال اس اہم ایشو سمیت اس بات کا ہے کہ ملک کو ایک نہیں درجنوں چھوٹے بڑے مسائل کا سامنا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ سسٹم کسی سمت سازی سے محروم جب کہ عوام سیاسی فیصلوں کی کسی بند گلی میں پہنچا دیے گئے ہیں۔
لوگوں کو ایک سیاسی اور سماجی نظام کی خواہش ہوتی ہے، وہ جمہوریت کے ثمرات کی فراہمی کا ایک شفاف طریقہ ملک کی جمہوری رگوں میں دوڑتا دیکھنا چاہتے ہیں، وہ مثالی اور یادگار تبدیلی کے منتظر ہیں، انصاف، شفافیت، آسودگی اور مساوات، ترقی کے یکساں مواقعوں کی خواہش، جستجو اور امید ہر شہری کا حق ہے، کیا یہ حق عوام کو موجودہ سسٹم مہیا کر سکے گا، اس ملین ڈالر سوال کا کون جواب دے گا؟
عوام کو اطمینان بھی دلایا جا رہا ہے کہ سارے معاشی اور اقتصادی اشاریے درست سمت میں جا رہے ہیں، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اقتصادی عوامل کو گرفت میں لانے کے لیے حکومت کی اولین ترجیح ہی معاشی استحکام، خود کفالت، قرضوں کا خاتمہ اور غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کی پیدا شدہ صورتحال کو مکمل کنٹرول کرنے پر مرکوز ہے، حکومت تاریک سرنگ اور مشکلات سے باہر نکل آئی ہے، مشکل وقت کے خاتمے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
یہ نوید ارباب اختیار کی طرف سے قوم کو مل رہی ہے ادھر عوام کورونا کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں، مگر زمینی حقائق اور ملکی معیشت، سیاسی صورتحال، حکومتی اقدامات کا جو نتیجہ سامنے آنا چاہیے اس بارے میں ماہرین کے تجزیوں، ٹھوس زمینی صورتحال پر عوام میں اضطراب اور اقتصادی بہتری کے حوالہ سے نتائج سامنے آنا ناگزیر ہے۔ تاہم روز نئی پیش رفت، سیاسی خلفشار، دشواریوں اور حالات کی چرخی جس تیز رفتاری سے گھوم رہی ہے، اس نے قوم کو شدید ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسائل کا پینڈورا باکس کھل گیا ہے، مسائل ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، کوئی ایک ایشو ہو تو حکومت اس پر صائب اور نتیجہ خیز اقدامات کی نوید دیتے ہوئے اقتصادی، معاشی اور سیاسی حوالوں سے قوم کو صحیح صورتحال پر اعتماد میں لے اور حکومتی پالیسیوں، اقدامات، جرأت مندانہ فیصلوں اور حتمی طور پر عوام کو ملکی اور عالمی صورتحال کے منظرنامہ پر اپنا انداز نظر عوام کے سامنے لائے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ کورونا، سیاسی محاذ آرائی، خطے کی صورتحال، خارجہ پالیسی، داخلی معاملات اور ہمہ جہتی کشمکش و سیاسی بے یقینی نے حکومت اور اپوزیشن کو بے نتیجہ ٹکراؤ، مستقل جنگ اور غیر معمولی سیاسی دنگل میں الجھا دیا ہے، اس دنگل کو اب ختم بھی ہونا چاہیے، کیونکہ سارے معاشی مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تمام ایشوز پر قانون اور سیاسی بصیرت و معاملہ فہمی اور دور اندیشی کے ساتھ منزل کی طرف بڑھنا ہوگا ورنہ دنیا حیرت میں ہے کہ امریکا، برطانیہ، سمیت انتہائی ترقی یافتہ ملک ہیں لیکن ان تمام ہی ممالک کو کورونا کی لہر، سسٹم میں بھونچال اور عالمی جنگوں سے پیدا شدہ غربت، بیروزگاری اور معاشی دھندلاہٹ کا سامنا ہے۔
اس وقت ساری دنیا چیخ رہی ہے کہ کورونا سے بچنے کی کوشش کرو تو بیروزگاری، معاشی بحران، مالیاتی فراڈ اور ویکسین کے استعمال پر مسائل کا نیا تنازع کھڑا ہو رہا ہے، بھارتی حکومت کے بارے میں تو ماہرین صحت کہہ رہے ہیں کہ جس دیسی ساختہ ویکسین کا ٹرائل اور کلینیکل منظور ہونا ابھی باقی تھا کہ نریندر مودی سرکار نے ویکسین عوام کا لگانی شروع کردی، جس پر ماہرین صحت میں کہرام مچا ہوا ہے کہ اس بھارتی ویکسین سے مریضوں میں طبی مشکلات اور بیماریوں میں پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔
دوسری طرف ملکی منظرنامہ کی وسعتیں حکمرانوں کو بوکھلاہٹ کا شکار کر رہی ہیں، مثال کے طور پر تعلیمی مسائل ابھی تک کورونا کے کیلنڈر کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ملک بھر میں دو ماہ تک کورونا لہر کے سبب بند تعلیمی ادارے مرحلہ وار 18 جنوری کو نویں سے بارہویں جماعت تک کی کلاسز کے ساتھ کھل گئے، پہلی کلاس سے آٹھویں اور یونیورسٹیز میں یکم فروری سے تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں گی۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں کورونا کیسز میں اضافے کے سبب 26 نومبر 2020 سے تمام اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کو بند کردیا گیا تھا، کلاس کے آغاز کے بعد صوبے اپنی پالیسی کے مطابق ایک جماعت کو مکمل طالبعلموں کی موجودگی یا ماضی کی طرح آدھی کلاس ایک روز اور باقی کے دوسرے روز کی پالیسی کے تحت تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھا سکتے ہیں، این سی او سی اور بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کا انعقاد 20 جنوری کو بھی متوقع ہے۔
صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی اداروں کے کھولے جانے کے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔ لیکن تعلیمی معاملات اب بھی قومی سائیکی اور اعصاب پر مسلط ہیں، شدید دباؤ میں مستقبل کے معمار اپنی تعلیم مکمل کرنے جا رہے ہیں۔
ادھر انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایل این جی مہنگی ہونے کے سبب حکومتی اداروں سمیت انٹرنیشنل ڈیلرز نے پاکستانی حکومت کو گیس دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے سبب اگلے ماہ (فروری) گیس بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) پر قطر سے مہنگی ایل این جی درآمد کرنے کا واویلا کرنے والی پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت اب تک کی سب سے مہنگی قیمت پر گیس لینے کو تیار ہے لیکن کوئی سپلائر اسے دینے کو تیار نہیں ہو رہا۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پرائیویٹ سیکٹر ایل این جی درآمد کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے لیکن بیورو کریسی سرکاری اداروں کی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے اسے اجازت دینے کو تیار نہیں۔ اب جب کہ حکومت کے سارے کنٹریکٹ ناکام ہوگئے ہیں تو حکومت گیس درآمد کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کی طرف دیکھ رہی ہے۔
یہ ٹپ آف این آئس برگ ہے، مسائل کی گنتی ابھی ختم نہیں ہوئی، بجلی اور گیس زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں، جدید دور میں ان کو تعیشات نہیں کہا جاسکتا، کوئی ملک اور معاشرہ توانائی بحران کے تسلسل کے ساتھ ترقی و عوامی خوشحالی کا دعویٰ نہیں کرسکتا، یہ سنگین صورتحال حکومت کے اقتصادی پروگراموں کی بساط بھی الٹ سکتی ہے، بہت سے خواب شرمندہ تعبیر رہ جائیں گے اگر ملک صنعتی اور تعمیراتی پیش رفت میں پیچھے رہ جائے۔ اس لیے ایک مستحکم آفاقی معاشرہ کی اٹھان کے لیے بنیادی صنعتی پالیسی کا ملک گیر پھیلاؤ ناگزیر ہے۔ یہ راکٹ سائنس نہیں جدید طرز حیات اور ریاستی وحکومتی مضبوطی کی پیش رفت ہے۔
یاد رہے لاقانونیت، قتل و غارت اور غیر انسانی و بہیمانہ جرائم کی صورتحال بھی سخت تشویشناک ہے، انسانی جان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی، اسلام میں تو ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل کہا گیا ہے، لیکن ذرا ملکی پولیس کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بدن لرز اٹھتا ہے، قابل دست اندازی جرم کے ناقابل تردید اور مجرمانہ کارروائی تحقیق کے حوالہ سے سال 2020کی 279 غیر فطری ہلاکتوں کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جس میں پولیس نے 279 غیر فطری اموات کی زیر التوا انکوائریوں کو آپریشن ونگ سے لے کر تفتیش میں منتقل کر دیا ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ یہ اقدام یہ جاننے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ 279 افراد خودکشی، حادثے یا قتل کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے، انھوں نے بتایا کہ خودکشی یا حادثے کے متعدد معاملات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے استدلال کیا کہ غیر فطری موت کی صورت میں انصاف کے معیار کو پورا کرنے کے لیے حالات (وجوہات) کی وضاحت اور جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال 279 غیرفطری اموات میں سے251 مرد، 23 خواتین اور پانچ بچوں کی تھیں۔
ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں موت کی تفتیش کو انچارج انکوائری کے پاس بھیجیں جو شواہد، تازہ ڈی این اے ٹیسٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹس حاصل کر کے موت کی وجہ کا پتہ لگائیں گے۔ بہتر خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں تحقیقات کے معیار کو ہموار اور بہتر بنانے کے لیے یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایسے حالات میں جہاں تھانے کا ایس ایچ او سی آر پی سی کی دفعہ 174کی دفعات کے مطابق کارروائی کا فیصلہ کرے۔
مسائل اور بحرانوں کی ہسٹری بھی پاکستان کے72سالوں کے ٹریک ریکارڈ کی ایک انفرادیت ہے، مگر جس رفتار سے مسائل نے موجودہ سیاسی حالات میں جگہ پائی اس نے ملکی سماجی اور سیاسی منظرنامہ کو عوام کے لیے مشکل ترین صورتحال قراردیا، ایک طرف براڈ شیٹ کا واقعہ پیش آیا جو پرانے مالیاتی مسائل کے اس سلسلہ میں جو پیسوں کے سکینڈل سے ہی مربوط تھا لیکن کیس کا نتیجہ عجیب وغریب نکلا، حکومت کو اپنی طرف سے جرمانے بھرنے پڑے، بجائے قوم کو کچھ پیسے ملنے کے الٹا قومی خزانے سے حکومت کو ادائیگی کرنا پڑی، ادھر پی آئی اے کا ایک طیارہ ملائیشیا میں لیز کی رقم کی عدم ادائیگی پر تحویل میں لیا گیا۔
ہماری قومی ایئر لائن کی بدنصیبی کا قصہ دراز ہے، جس میں پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں پر انھیں طیارے اڑانے نہیں دیے گئے، بد انتظامی کے کئی ایک واقعات نے ایوی ایشنز انڈسٹری کو سوالیہ نشان بنا دیا، سیاسی سطح پر فارن فنڈنگ کیس کی سیاسی چنگھاڑ نے سیاسی منظرنامہ کو گرما دیا ہے، سیاسی نظام کے سر پر تلوار سی لٹکا دی ہے، الیکشن کمیشن کے سامنے مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے کارکن اور رہنما اس موقع پر موجود ہونگے، اس اجتماع کا مقصد بھی سیاسی طاقت کا ایک مظہر سمجھا جائے گا۔
ایک مسئلہ مردم شماری کا بھی ہے، جسے کراچی کے عوام شہر قائد کی شماریاتی حقیقت کو گھٹا کر پیش کرنے سے متعلق سمجھتے ہیں، حکومت نے نئی مردم شماری پر اتفاق کیا ہے لیکن سوال اس اہم ایشو سمیت اس بات کا ہے کہ ملک کو ایک نہیں درجنوں چھوٹے بڑے مسائل کا سامنا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ سسٹم کسی سمت سازی سے محروم جب کہ عوام سیاسی فیصلوں کی کسی بند گلی میں پہنچا دیے گئے ہیں۔
لوگوں کو ایک سیاسی اور سماجی نظام کی خواہش ہوتی ہے، وہ جمہوریت کے ثمرات کی فراہمی کا ایک شفاف طریقہ ملک کی جمہوری رگوں میں دوڑتا دیکھنا چاہتے ہیں، وہ مثالی اور یادگار تبدیلی کے منتظر ہیں، انصاف، شفافیت، آسودگی اور مساوات، ترقی کے یکساں مواقعوں کی خواہش، جستجو اور امید ہر شہری کا حق ہے، کیا یہ حق عوام کو موجودہ سسٹم مہیا کر سکے گا، اس ملین ڈالر سوال کا کون جواب دے گا؟