کراچی آپریشن ٹھیکماورائے عدالت قتل ناقابل قبول فاروق ستار
چاہتے ہیں کراچی میں مستقل امن ہو،کوئی بھی جرائم پیشہ شخص ایم کیوایم کاکارکن ہوہی نہیں سکتا،رہنما ایم کیو ایم
ہمارے 2کارکن تحقیقات کے نام پر ٹارچر کرکے مار دیے گئے، 22 لاپتہ ہیں،رہنما ایم کیو ایم۔فوٹو:فائل
HARIPUR:
ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستارنے کہا ہے کہ ایم کیوایم کراچی میں ہونیوالے آپریشن کی مکمل حمایت کرتی ہے لیکن ماورائے عدالت ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں۔
انھوں نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگومیں کہا ہم ہرروزچوہدری نثارکونہیں پکڑسکتے وزیراعلیٰ سندھ آپریشن کے کپتان ہیں وہ روزہم سے نہیں مل سکتے ہم چاہتے ہیں کراچی میں مستقل امن ہو،کوئی بھی جرائم پیشہ شخص ایم کیوایم کاکارکن ہوہی نہیں سکتا، ہم نے کہاہے کوئی ایسامیکانیزم بنا دیں تاکہ سب کی جان چھوٹ جائے، وزیراعظم سے بھی کہا ہے ہم کراچی میں مستقل امن چاہتے ہیں۔
اگرکوئی جنوبی افریقہ سے آتاہے اوریہاں پرسم استعمال کرتاہے اوروہ کسی جرائم پیشہ کارروائی میں ملوث ہے تو اس کوپکڑناچاہیے ایسے کسی بھی شخص کی ایم کیوایم میں شمولیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، رینجرز پولیس یا کسی سرکاری افسر کی کوئی بھی کارروائی جو ماورائےعدالت ہو درست ہے نہ قابل قبول ہے،ہمارے دوکارکنوں کواٹھایا گیا تحقیقات کے نام پرٹارچر کیا گیا اوروہ مرگئے اس کے علاوہ تقریبا 22 لاپتہ ہیں ایم کیوایم کے تقریبا ایک ہزارکارکنوں کوگرفتارکیاگیا۔نائن زیرویاایم کیوایم کے کسی دفترسے کسی ٹارگٹ کلنگ کے آرڈر نہیں ہوتے،الطاف حسین جماعت کے تمام فیصلوں کی توثیق کرتے ہیں،ہماری جماعت میں ایک سیاسی ونگ ہے دوسرا تنظیمی ونگ ہے۔
ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستارنے کہا ہے کہ ایم کیوایم کراچی میں ہونیوالے آپریشن کی مکمل حمایت کرتی ہے لیکن ماورائے عدالت ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں۔
انھوں نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگومیں کہا ہم ہرروزچوہدری نثارکونہیں پکڑسکتے وزیراعلیٰ سندھ آپریشن کے کپتان ہیں وہ روزہم سے نہیں مل سکتے ہم چاہتے ہیں کراچی میں مستقل امن ہو،کوئی بھی جرائم پیشہ شخص ایم کیوایم کاکارکن ہوہی نہیں سکتا، ہم نے کہاہے کوئی ایسامیکانیزم بنا دیں تاکہ سب کی جان چھوٹ جائے، وزیراعظم سے بھی کہا ہے ہم کراچی میں مستقل امن چاہتے ہیں۔
اگرکوئی جنوبی افریقہ سے آتاہے اوریہاں پرسم استعمال کرتاہے اوروہ کسی جرائم پیشہ کارروائی میں ملوث ہے تو اس کوپکڑناچاہیے ایسے کسی بھی شخص کی ایم کیوایم میں شمولیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، رینجرز پولیس یا کسی سرکاری افسر کی کوئی بھی کارروائی جو ماورائےعدالت ہو درست ہے نہ قابل قبول ہے،ہمارے دوکارکنوں کواٹھایا گیا تحقیقات کے نام پرٹارچر کیا گیا اوروہ مرگئے اس کے علاوہ تقریبا 22 لاپتہ ہیں ایم کیوایم کے تقریبا ایک ہزارکارکنوں کوگرفتارکیاگیا۔نائن زیرویاایم کیوایم کے کسی دفترسے کسی ٹارگٹ کلنگ کے آرڈر نہیں ہوتے،الطاف حسین جماعت کے تمام فیصلوں کی توثیق کرتے ہیں،ہماری جماعت میں ایک سیاسی ونگ ہے دوسرا تنظیمی ونگ ہے۔