جمہوریت سے کمٹمنٹ

ملک میں نرم ونازک جمہوریت کی تقدیس، لفظی تعریف اورمعنویت وسیاسی منزل کے درمیان ایک طویل فاصلہ ہے۔

ملک میں نرم ونازک جمہوریت کی تقدیس، لفظی تعریف اورمعنویت وسیاسی منزل کے درمیان ایک طویل فاصلہ ہے۔ فوٹو: فائل

ملک میں نرم ونازک جمہوریت کی تقدیس، لفظی تعریف اورمعنویت وسیاسی منزل کے درمیان ایک طویل فاصلہ ہے۔ عوام، میڈیا، سیاست دان اور قانون آئین کی کتابیں ڈیموکریسی کا تواتر سے ذکرکرتی ہیں لیکن آج ملکی سیاسی و سماجی نظام اسی بے منزل جمہوری سفر میں کہیں گم ہوگیا ہے، ووٹرز اپنے منتخب نمایندوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں،ان سے رابطہ کی کوششوں میں ناکام ہوکر اس مفکرکو یاد کرتے ہیں جس نے کہا تھا کہ

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

حالانکہ موجودہ جمہوری نظام میں جوڑ توڑکے بغیر یا سیاسی و مالیاتی گٹھ جوڑ سے الگ رہتے ہوئے توکوئی سیاست اپنی کامیابی پر نازکر ہی نہیں سکتی، سیاست کے حالیہ بحران یا بے سمتی کے سیاق وسباق میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم سیاسی بے سکونی، غیریقینی صورتحال اور جمہوری آدرش اور نصب العین پر خود اپنا احتساب کرے تو بہت سے جمہوری شگاف سنجیدگی سے پرکیے جاسکتے ہیں۔ عوام جس جمہوری گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں انھیں اس سے نکلنے کے لیے فرشتوں کی مجلس بلانی نہیں پڑے گی۔ یہ کام سیاست دانوں کو خود کرنا ہوگا۔

آج جمہوری نظام پر اصولی بحث کا وقت ہے، لوگ کہتے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں نے 72 سال ملکی حالات کی بہتری کے دعوؤں میں گزار دیے، یہ تاریخ ، المناک حوالوں کے ساتھ موجود ہے جس میں عوام مشاہدہ کرتے رہے کہ ہر دورحکومت میں جمہوریت کی شان میں قصیدے پڑھے گئے، اسے دیگر تمام نظاموں سے محض اس لیے بہتر اور قابل قبول سمجھا گیا کہ اس میں ''ٹرائکل اینڈ ایرر'' کا ایک متوازن انتظام ملتا ہے، عوام اپنے مسائل حکومت اور اس کے منتخب نمایندوں کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔

ان پرکوئی ڈکٹیٹر مسلط نہیں، عوام اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، ان کا ووٹ ان کے ضمیرکی آواز ہوتا ہے، اور بہت ساری سنہری تقریریں، خوشنما بیانات قوم سال ہا سال سے ایوانوں میں سنتی رہی اور آج بھی قومی وصوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں بظاہر سسٹم کے طے کردہ قانون اور آئینی معاملات مکمل نصابی انداز میں نمٹائے جاتے ہیں۔ جمہوریت کو جب زوال آجاتا ہے تو تب بھی اسی سسٹم میں جمہوریت کی بحالی کا نظام اس سلسلے کو جوڑتا ہے۔کم وبیش72 سالوں سے ڈیموکریسی اسی انداز میں ''بھیڑیوں کے ساتھ رقص'' کرتی خوشی سے جھومتی دکھائی دی ہے۔

وقت نے پاکستان میں اس دلچسپ اور درد ناک مذاق کو جمہوریت کا سرکس بنا دیا اورکسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ سنسنی خیز خبریں ہر روز ملکی سیاسی صورتحال کا پتہ دیتی ہیں، جتنی حکومتیں آتی جاتی رہیں، جمہوریت کو چلانے کا شوق تو پورا ہوتا رہا لیکن جن مقاصد کے ساتھ پاکستان کی تعمیر اور بابائے قوم کے ارشادات کی روشنی میں ملک اور جمہوریت کو عوامی اسپرٹ کے ساتھ چلانے کی ضرورت تھی اس سے آگے نہ بڑھ سکی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ روح جمہوریت اول روز سے ''بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے '' سے دو قدم آگے نہ بڑھ سکی۔

جو جمہوری وقفے آئے وہ سسٹم کی اصلاح اور بلاامتیاز احتسابی دورانیے ثابت ہوسکتے تھے، مگر خود احتسابی کی خواہش سے بے نیاز سیاسی وسماجی اور معاشی نظام کی بے لگامی پر کوئی بند نہ باندھا جاسکا، قانون سازوں، پالیسی سازوں اور آئین و قانون کی حکمرانی کا دم بھرنے والوں نے ایسا کوئی نظام ملک کو نہیں دیا جسے بنیاد بناکر قوم کو آئینی حکمرانی کی کی سوغات ملتی، لوگ نظریہ پر قائم ہونے والی ریاست میں کسی اصول، نظریہ، معاہدہ، چارٹر یا میثاق جب کہ پاکستان کی الگ شناخت پر روحانی مسرت ہی محسوس کرتے۔

اس سیاسی کوتاہی کا الزام جمہوریت کو دینا مناسب نہیں، حقیقت یہ ہے کہ بابائے قوم نے ایک آزاد ملک ہمیں عطا کیا اور جب تک وہ حیات تھے انھوں نے کچھ رہنما اصول بھی مہیا کیے، ملک کو پارلیمانی سیاست دی، اداروں کو جمہوری اصولوں کے مطابق چلانے کی تلقین کی، ملک میں تھیوکریسی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی، اسی طرح ڈیموکریسی اور جمہوری طرز حکومت کو جو چیز یقینی بناتی تھی وہ قانون کی حکمرانی تھی جسے قوم طویل عرصے سے چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈ رہی ہے، تاہم تلاش بسیار کے باوجود سیاسی بند گلیوں میں وہ آج بھی ایک نایاب شے ہے۔


اس کا حصول ناممکن ہے، ان سارے معاملات کو با آسانی براڈ شیٹ، فارن فنڈنگ، زیادتی اور قتل و غارت کیسز،کرپشن، سیاسی آوارگی، معیشت، خارجہ پالیسی، قانون سازی، سیاسی اتفاق رائے، اپوزیشن اور حکومت میں جمہوری مفاہمت، خیر سگالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے گم گشتہ وعدوں یا لارے لپوں کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے،

سوال یہ بھی ہے کہ جمہوریت کے ثمرات کا ملنا نصیبوں میں لکھا ہوتا ہے یا عوام کا یہ بنیادی حق آئین بھی تسلیم کرتا ہے کہ جمہوریت کو عوام کے دکھ درد کا احساس ہی حکمرانی کا جواز حکمرانی عطا کرتا ہے، یہ امانت ہے، اقتدار ایک ذمے داری ہے، کمٹمنٹ ہے۔ پہلی بار عوام کو بتایا گیا کہ بیورو کریسی کام نہیں کرتی، ہچکچاہٹ، سرد مہری اور خوف ودباؤکا شکار ہے، جب کہ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ بیوروکریسی کسی کی نہیں ہوتی، وہ قانون و آئین کے مطابق حکمرانوں کے دیے احکامات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے۔

وہ شتر بے مہار نہیں، حکومتی پالیسیاں شفاف ہیں تو انتظامی اقدامات میں بھی اس کی شفافیت کی جھلک ملیگی، رموز مملکت خویش خسرواں دارد کے مطابق بیوروکریسی حکومت کی سب سے چہیتی رازدار سہیلی ہوتی ہے، ریاستی اور حکومتی معاملات حفظ مراتب کے ساتھ انجام پاتے ہیں، تعلقات کار ہی ایک اچھی حکومت کا طرہ امتیاز ہوتے ہیں۔

سیاست میں ٹائمنگ اور دور اندیشی، تدبر، سنجیدگی، انصاف اور عوامی مفاد میں قانون سازی کا اہم حصہ ہوتا ہے، بہت سارے ممالک حکومتی کاموں میں نتائج کو دیکھ کر تقلید اور اصلاح کا کام ہمعصر حکومتوں کی کارکردگی سے سیکھتے ہیں۔ بھارت ہمارا سب سے بہترین ''پنچگ پیڈ'' ہے، جتنی رسوائی اس کے کھاتے میں آئی ہے کمال کی ہے، لیکن الیکشن کمیشن کی مالیاتی خود مختاری اور اس کی آزادانہ حیثیت پرکبھی لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں اس پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی، وہاں سیاست دان الیکشن میں دھاندلی پر بھنگڑا نہیں ڈؑالتے، نتائج کو سب تسلیم کرتے ہیں۔

جمہوریت کو زراعت کی اہمیت کا ادراک حکومت ہی دلاتی ہے، ملک زرعی ہے، کسان زمین پر اناج اگاتا ہے، اگر جمہوری عمل میں انقلابی امنگ ہوتی تو تبدیلی کی دعویدار حکومت زرعی شعبے کو سب سے بڑی اور نتیجہ خیز زمینی تبدیلی کا شاہکار بناسکتی ہے۔ اب بھی وقت ہے، ایک بڑی تبدیلی بس عمل کی محتاج ہوتی ہے جو بیانات، الزام تراشی، کردارکشی سے بالاتر ہوتی ہے۔ سیاست دان ایوانوں میں بولتے اور ان کی تقریریں کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ ان کے ہونٹ گالم گلوچ سے آلودہ نہیں ہوتے، ارباب اختیار اگر عہد کریں کہ وہ کسان کی زندگی میں تبدیلی لائیں گے توکوئی طاقت سیاست دانوں کو خدمت خلق سے روک نہیں سکتی۔ زراعت کو اہمیت دیں تو ملک کبھی چینی، گندم درآمد نہیں کرے گا۔

اس کی دھرتی اسے نعمتوں سرفراز کرنے کوکافی ہوگی۔ پالیسیوں کا رخ تبدیل کریں، پٹرول کی اسمگلنگ روکنے کے لیے پٹرول پمپوں پر چھاپے کیوں؟ اسمگلنگ اور ناجائزکاروبار کے سورس اور ماخذوں پر چیک رکھیں، آٹو پارٹس اور دیگر غیر ملکی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو روکیں، حساس سرحدی علاقوں میں مارکیٹیں بناتے وقت ادراک کریں کہ اسمگلرز قانون شکنی میں حکام سے زیادہ مستعد ہیں لیکن یہ خواہشات جلد عملی اقدامات کا روپ دھار سکتے ہیں بشرطیکہ حکمران خود کو انتخابی منشورکا پابند بنائیں۔ ملک قرضوں کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔

مہنگائی غریبوں کی جان سے لپٹی ہوئی ہے، بیروزگاری سے نوجوان فرسٹریشن کا شکار ہیں، غلط فیصلوں، پالیسیوں میں جھول اور مربوط اسٹیٹ کرافٹ کے فقدان کو سیاسی بصیرت اور سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ حکومت اپنی ٹربل شوٹنگ کا طرز بدل دے تو ملک ہر قسم کے بحران سے نکل سکے گا، یہ نجوم اور پیش گوئیوں کی بات نہیں، پارلیمنٹیرینز اپنی طرز گائیکی میں ترمیم لے آئیں تو سیاست خود ہی اپنے سر درست کرلیگی، ایک ریشنل اور سنجیدہ سیاسی ماحول کی ضرورت ہے۔ پھرکوئی ڈبلیو ٹی او ڈسپیوٹ سسٹم پینل اینٹی ڈمپنگ کیس میں پاکستان کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، حکومت نے ملک کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے سخت اور مشکل فیصلے کیے، حکومت نے فوجی اخراجات کو منجمد کیا، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا، بجٹ کے علاوہ کوئی سپلیمنٹری گرانٹ جاری نہیں کی، حکومت نے اسٹیٹ بینک سے ایک ٹکا نہیں لیا، ر وپے کی قدر میں کمی قرضوں کی شرح میں اضافہ کا سبب ہے، ماضی کے چھ ہزار ارب سود میں دیے، ماضی کے قرضے اور سود کی ادائیگیاں نہ کرنے پڑتیں تو ہمیں مزید قرضے نہ لینے پڑتے، سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت آئی تو ہمیں زبردست اقتصادی بحران ورثہ میں ملا۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کشکول نیچے پھینک دے، خود کفالت کی پالیسی پر عمل کرے۔ اپنے زور بازو پر اعتماد کرے، حکمراں حالت جنگ سے نکلیں، جنگ میں جمہوریت سب سے پہلے مجروح ہوتی ہے ایک دانشورکا قول ہے کہ سیاسی اخوت ختم ہونے لگے، تو آزادی فریب نظر اور جمہوریت محض ایک خواب نظر آنے لگتی ہے۔ ہم چاہتے کیا ہیں، فیصلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔
Load Next Story