ایکنک کا اجلاس لیپ ٹاپ اسکیم سمیت 218 ارب کے 10 منصوبے منظور

پی ایچ ڈی،ماسٹرز،گریجویٹ طلبہ میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائینگے، 4 ارب لاگت آئیگی

پی ایچ ڈی،ماسٹرز،گریجویٹ طلبہ میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائینگے، 4 ارب لاگت آئیگی۔فوٹو:آئی این پی

قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹوکمیٹی (ایکنک) نے وزیراعظم نیشنل پروگرام کے تحت ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے منصوبے سمیت218 ارب 55 کروڑ روپے مالیت کے 10 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی ہے۔

ایکنک کا اجلاس وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں منظور کیے جانیوالے لیپ ٹاپ فیزٹو پروجیکٹ کے تحت تمام پی ایچ ڈی، ماسٹرز،گریجویٹ اور انجینئرنگ میں ڈپلومہ کرنیوالے طلبہ میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے تاہم پہلے سے لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبہ کودوبارہ لیپ ٹاپ فراہم نہیں کیے جائیں گے،اس اسکیم پر4 ارب روپے لاگت آئیگی۔ ایکنک نے ہائرایجوکیشن کمیشن کوہدایت کی کہ لیپ ٹاپ اسکیم کیلیے بولی میں یہ شرط بھی شامل کی جائے کہ بولی دہندگان لیپ ٹاپ کا اسمبلی پلانٹ بھی قائم کرینگے۔ اری گیشن، انفرااسٹرکچر، واٹر اینڈ پاوراور تعلیم کے شعبے کیلیے منظورکیے جانیوالے منصوبوں میں کچھی کینال پروجیکٹ فیزون، اپردیر میں واقع150 میگاواٹ کا شرمئی پاور پروجیکٹ، چترال میں 132میگاواٹ کا شوگوسین اور 144میگاواٹ کا ششگئی زیندولی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ شامل ہیں۔


ایکنک نے ایک ارب 22کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے آزاد جموں وکشمیر کے اضلاع میں اسکول کھولنے کے منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے،3 ارب 84 کروڑ37 لاکھ روپے مالیت کا14میگاواٹ کا نلتر وی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور52 ارب22 کروڑ43 لاکھ روپے مالیت کا منگلا پاور اسٹیشن کی بجلی کی پیداواری صلاحیت ایک ہزارسے بڑھا کر 1310 میگا واٹ کرنے کیلیے منگلا اپ گریڈیشن اینڈ جنریشن پروجیکٹ، بلوچستان میں6 ارب 52 کروڑ 28 لاکھ10ہزار روپے مالیت کا شادی کور اسٹوریج ڈیم پروجیکٹ اور بلوچستان میں ہی ایک ارب49کروڑ روپے سے زائد مالیت کے کوئلہ پھاٹک سام سنگلی روڈ، کوئٹہ میں فلائی اوورکی تعمیر کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔

گلگت بلتستان میں تعلیم کیلیے ایک ارب22 کروڑکا منصوبہ بھی منظورکیا گیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں کشمیر کونسل کے ارکان کے وفد سے گفتگوکرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحق ڈارنے آزاد کشمیرحکومت کو وفاقی حکومت کی جانب سے مدد وحمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور توقع ظاہر کی کہ آزاد کشمیر میں بھی وفاقی حکومت کی طرح سادگی کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔ انھوں نے کہا آزادکشمیر کونسل کو ترقیاتی منصوبوں سے متعلق یقین دہانیوں کو متناسب بناتے ہوئے محصولات کی وصولی میں اضافہ اور اخراجات کواپنے محصولات کے 20 فیصد تک محدود کرنا چاہیے، ایف بی آر نے اگرچہ پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زائد محصولات جمع کیے ہیں لیکن اب بھی ماضی کی واجب الادا بھاری ادائیگیوں کا بوجھ موجود ہے۔

وزیر خزانہ نے آزاد کشمیر حکومت کو محصولات کی وصولی میں اضافہ کیلیے اپنے تعاون کی پیشکش بھی کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برجیس طاہر اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے یقین دلایا کہ آمدنی میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کے حوالے سے کوششیں تیز کی جائیں گی۔ انھوں نے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے وزیر خزانہ کی سفارش پر 1.4ارب روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری دینے پر وزیراعظم نواز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا۔
Load Next Story