متبادل توانائی کے سستے منصوبے

حکومت توانائی مسائل کے حل اور دیگر معاشی و اقتصادی احیا اور فعالیت کے لیے robust حکمت عملی سے کام لے۔

حکومت توانائی مسائل کے حل اور دیگر معاشی و اقتصادی احیا اور فعالیت کے لیے robust حکمت عملی سے کام لے۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے بجلی ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا اعلان کرکے ایک اور بجلی بم عوام پرگرادیا۔

وزیر توانائی عمر ایوب ، معاون خصوصی برائے پاور تابش گوہر اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بجلی مہنگی کرنے کا ذمے دار مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کی حکومت بجلی کے مہنگے کارخانے لگاکر آنے والی حکومت کے لیے 227 ارب روپے کی ''بارودی سرنگیں'' بچھا کرگئی تھی۔

حکومت کے مطابق کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی کی رقم میں 218 ارب روپے یعنی2 روپے 18پیسے بجلی کی قیمت میں اضافہ ہونا تھا، لیکن اب ہم مجبوراً یہ ایک روپے 95پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر رہے ہیں، اس سے عوام پر 200 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ آئی پی پیزکے ساتھ نئے معاہدوں سے 6 ہزار ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا۔ اس سال 450 ارب روپے کا گردشی قرضہ بھی اتاردیا جائے گا، بجلی کی مارکیٹ کو بھی اوپن کیا جا رہا ہے اور اگلے دو تین سال میں صارف کے پاس یہ چوائس ہوگی کہ سرکاری کے علاوہ نجی کمپنیوں سے بھی بجلی خرید سکے گا۔

توانائی بحران کا تسلسل معیشت کے لیے بلاشبہ بہت بڑا چیلنج ہے، اس کی ذمے دار پی ٹی آئی حکومت ابتدا میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو ٹھہراتی تھی، حکومت کا انداز اور استدلال یہ تھا کہ ملک کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کے لیے عوام اور صارفین کو بجلی منصوبوں اور پاورکمپنیوں سے انتہائی مہنگے نرخ پر بجلی کے معاہدے کرکے عوام کو مہنگی بجلی بیچی جاتی رہی، لیکن بہرحال عوام اس نہ ختم ہونے والے استدلال اور توانائی کے بڑھتے ہوئے مسئلہ کا کوئی پائیدار حل چاہتے ہیں، بجلی کے ہوشربا بلوں اور گھریلو بجٹ پر کثیر جہتی مالی دباؤ نے عوام پر معیشت کے بحران سمیت پوری زندگی کے معمولات کو مستقل زیر بار رکھا ہے۔

پٹرول مہنگا ہو یا بجلی وگیس کے اخراجات پورے کرنا عوام کے لیے اذیت کے پہاڑکھڑے کردیتا ہے، یوں شہریوں کے لیے شدید دباؤ اور مہنگائی کے ریلے میں خود کو سنبھالتے ہوئے توانائی کے شماریاتی دباؤکی اضافی مصیبت کو برداشت کرنا آسان نہیں، حکومت بھی اس چومکھی لڑائی میں عوام سے الگ نہیں، ایک فلاحی حکومت عوام کے بنیادی مسائل کے حل میں پیش پیش رہتی ہے، اس کے درد سر بہت سے ہیں لیکن مسائل، چیلنجز ہی میں حکمرانی کے پیمانہ صبر، دانش وحکمت، پالیسیوں اور بریک تھرو میں صلاحیت واہلیت کی آزمائش ہوتی ہے۔

گڈگورننس کی پہچان یہ ہے کہ حکومت توانائی بحران کا کوئی حل صارفین کی مشکلات سے پہلے دریافت کرے، اختراعات کی اس دنیا میں پٹرول، آئل، پاور سسٹم کی جنریشن، ڈسٹری بیوشن اور بلنگ کا ایسا شفاف، مثالی میکنزم نافذ کرے جو سابقہ حکومتیں نہ کرسکی ہوں، یہ ایج اور پیش قدمی ہر اچھی حکومت کی اولین سیاسی سبقت بننا چاہیے، اس حوالے سے حکومت اعداد وشمار اور ماضی کی حریف حکومتوں کو ہر خرابی کا ذمے دار ٹھہراتی رہے گی تو مسائل کی جھنکار ہی ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔

سوال یہ ہے کہ متبادل توانائی کو استعمال کرنے کے کئی آپشنز کھلے ہیں، پاور سسٹم ماہرین کے مطابق فرسودہ ہے۔ ایک ہی پاورسسٹم کا پورے ملکی نظام پر لوڈ ڈالنے کے بجائے حکومت متبادل توانائی کے استعمال کی سہولتوں کو عام کرے، سولر پینل کنٹرول اور پن چکی میکنزم سے پیدا کرنے کے سستے آپشن اور پینلزکو عوام کی رینج میں مقبول بنائے۔

سستی بجلی قدرت نے سندھ، بلوچستان، میں وافر مقدار میں مہیا کی ہے۔کراچی کنڈا سسٹم سے نجات پاسکتا ہے، لوگ واقعی مہنگی بجلی سے سخت تنگ آئے ہوئے ہیں، پن چکی نظام ایک بارسرمایہ کاری چاہتا ہے، اس پورے سسٹم کو ڈی سینٹرلائزکریں، نیشنل گرڈ پر دباؤ بھی کم ہوگا، بریک ڈاؤن کا خطرہ ٹلے گا اور عوام سولر اور پن چکی کو پاورکلچر کا ناگزیر حصہ بنا کر توانائی کے مسائل کے حل میں حکومت سے تعاون بھی کریں گے، لیکن کوئی پہل تو کرے، اس گھناؤنے پاور اسٹرکچر سے باہر تو نکلے۔

لوڈ شیڈنگ،کنڈے کی بجلی سے ملک کو شہروں کے بازاروں، فیکٹریوں اور رہائشی علاقوں نجات پانا ہوگی۔ بریک تھرو ملکی قیادت کوکرنا ہوگی، دبئی کی تقدیرگلف کی اجتماعی قیادتوں نے بدلی ہے، شارجہ میں کرکٹ کا انقلاب سیاسی لیڈر شپ کا کمال ہے، سمندر میں بلند افلاک ہوٹلز، شاپنگ مالز اور شاندار عمارتیں تعمیرکی گئیں۔


بلاشبہ موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود پاورسیکٹرکو 473 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، (ن) لیگ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو جان بوجھ کر لٹکائے رکھا، حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے آیندہ برسوں میں بجلی کی قیمت میں ایک سے دو روپے فی یونٹ کمی آئے گی۔

بدھ کو یہاں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کو جان بوجھ کر لٹکائے رکھا '2019 تک 227 ارب روپے کا اضافہ بنتا تھا جونہیں کیا گیا اور اگر 227 ارب روپے کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا تو بجلی کی قیمت میں اضافہ 2 روپے 61 پیسے اضافہ بنتا تھا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم آتے ہی عوام پر یہ بوجھ نہیں ڈال سکتے اور بہت سوچ سمجھ کر مجبوراً بجلی کی قیمت میں 23 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا اور تقریباً 2 روپے 38 پیسے فی یونٹ کی سبسڈی حکومت نے دی جس کی کل رقم 247 ارب روپے بنتی ہے۔

کیپسٹی پیمنٹ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں بجلی کے کارخانوں کو دینا پڑتی ہے۔ 2013 میں یہ رقم 185 ارب روپے، 2018 میں 468 ارب روپے تھی، 2019 میں یہ بڑھ کر 642 ارب روپے اور 2020 میں 860ارب روپے تک پہنچ گئی، 2023 تک کیپسٹی پیمنٹ کی رقم مزید بڑھ کر ایک ہزار 455 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ اس موقعے پر تابش گوہر نے کہا کہ اگست میں 8 ہزار میگاواٹ کے 53 آئی پی پیزکے ساتھ ایک مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے گئے۔

چند دنوں میں معاملات پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے، اس کے تحت اگلے 20 سال میں 836 ارب روپے کا بجلی کے شعبہ پر بوجھ کم ہو جائے گا۔ ان کے 450 ارب روپے کے بقایا جات بھی رواں سال ہی ادا کر دیے جائیں گے اور اس سے بجلی کے نرخوں میں سود کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ 31 دسمبر 2021 سے پہلے ان کارخانوں کو جو نئے سسٹم میں آنا چاہتے ہیں، انھیں کنکشن فراہم کریں، جیسے جیسے بجلی کی طلب بڑھے گی تو بجلی کے نرخوں میں بھی کمی آئے گی۔

دریں اثناء کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) نے موجودہ صنعتی صارفین کو گیس کے نئے کنکشنز اورکیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پی) کے لیے گیس کی فراہمی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمرکی زیر صدارت اجلاس میں ''یکم فروری سے عام صنعت کے لیے اور برآمدی شعبے سے وابستہ صنعت کے لیے مارچ سے اس پالیسی کے لاگو ہونے کی منظوری دی گئی'' اجلاس میں سی پی پیزکے لیے قدرتی گیس کی فراہمی کو روکنے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس پالیسی کا اطلاق صرف ان صنعتوں پر ہوتا ہے جو پاور گرڈ سے منسلک ہوتی ہیں اور اسے بجلی کے متبادل ذریعے کے طور پر رکھتی ہیں۔

فیصلہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ سستی مقامی گیس کی فراہمی میں کمی آرہی ہے اور اس کی غیر موثر سی پی پیز میں کھپت ایک بہت بڑا قومی نقصان ہے۔ دوسری طرف سرپلس بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ایک اور چیلنج بن چکی ہے۔

دوسری جانب تعمیراتی صنعت سے جو توقع تھی وہ اطمینان بخش نہیں، صرف رئیل اسٹیٹ میں کچھ بوم آیا مگر اسٹیل کی صنعت جو تعمیرات میں فیصلہ کن کردارکی حامل ہے اسے اور درآمدی و برآمدی سرگرمیوں میں ایک مثبت جمپ کا سامنا ہے کیونکہ معیشت ان شعبوں میں توانائی سیکٹرکی بڑھوتری سے ہی قومی خوشحالی کا ہدف پورا کرسکتی ہے، جب کہ مارکیٹ ذرایع کے مطابق اسٹیل بارکی قیمت 7000 روپے اضافے کے بعد ایک لاکھ 39 ہزار 500 سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن ہوگئی، جس کی وجہ سے تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا۔

اخبارکی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2020 کے آخری ہفتے کے بعد دوسری مرتبہ اسٹیل بارکی قیمتوں میں اتنا اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ عالمی سطح پر لوہے اور اسٹیل کے اسکریپ کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو عالمی مارکیٹ میں انتہائی قلت اور خام مال کی قیمت میں اضافہ بتاتے ہوئے اسٹیل بار کے متعدد مینوفیکچرز نے بلڈرز کو نئے بڑھے ہوئے نرخوں کا حوالہ دیا ہے۔

بلڈرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن نے الزام لگایا کہ اسٹیل بار بنانے والے وزیر اعظم عمران خان کے کم لاگت والے مکانات کے نظریے کو برباد کرنے کے لیے مافیا کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ بارزکی قیمتوں میں اضافے سے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام پر بھی اثر پڑے گا۔ واضح رہے وزیر اعظم نے اسٹیل بارز کی بڑھتی قیمتوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسٹیل بار کی بڑھتی قیمتوں پر غور کرنے اور ایک قابل عمل حل کے لیے گزشتہ ماہ دسمبر میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت توانائی مسائل کے حل اور دیگر معاشی و اقتصادی احیا اور فعالیت کے لیے robust حکمت عملی سے کام لے جب کہ بجلی کے نظام کو معاشی پالیسیوں کی کامیابی میں اب نئی اختراعات اور صارفین کو متبادل توانائی کے استعمال کی عادت ڈالنا پڑے گی، متبادل وسائل سستی بجلی کے سرچشمے ہیں اور ماحولیات دوست بھی ہیں۔ اس سے استفادہ قومی خوشحالی کی ضمانت ہے۔
Load Next Story