غداری کیسمشرف آج پیش نہ ہوئے تو گرفتاری کا حکم دینگےعدالت
کیس ناقابل ضمانت ہے، مشرف سابق صدر اور آرمی چیف رہ چکے،ان کی تضحیک نہیں چاہتے اس لیے وارنٹ جاری نہیں کیے،خصوصی عدالت
پرویزمشرف کی جان کوخطرہ ہے ،عدالت اور جج بھی محفوظ نہیں،وکیل مشرف،فوٹو؛فائل
سابق صدرجنرل (ر) پرویزمشرف کے خلاف غداری مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق صدر کو آج(2جنوری کو) ہرصورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ اگروہ عدالت میںنہیں آئے تو عدالت اپنا حکم جاری کرے گی۔
خصوصی عدالت میں زیرسماعت کیس ناقابل ضمانت ہے۔ شکایت درج اور عدالت کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ ملزم کی جانب سے درخواست ضمانت عدالت کے سامنے نہیں۔ وہ سابق صدراور چیف آف آرمی اسٹاف رہ چکے ہیں لہٰذا عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور نہیں چاہتی کہ ان کی تضحیک ہو۔ اگروہ عدالت میں پیش نہیںہوئے توعدالت اپناحکم جاری کرے گی۔ ان کو تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔ بدھ کو سماعت شروع ہوئی تو عدالت کو بتایا گیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ سابق صدر کے وکلانے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پرویزمشرف کو سیکیورٹی خدشات ہیں، سماعت 5 ہفتوں کے لیے ملتوی کی جائے۔ سماعت کے آغاز پر پرویز مشرف کے وکیل خالد رانجھا نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کابیان آج شائع ہواہے جس میں انھوں نے کہا کہ مشرف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ثبوت ہے۔ ان کا یہ بیان عدالتی کارروائی پر اثراندازہونے کی کوشش ہے، ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ نے اس حوالے کوئی تحریری درخواست نہیں دی۔ جنرل(ر) مشرف کے وکیل انور منصور ایڈووکیٹ نے کہا لاہور جاتے ہوئے میری گاڑی پر حملہ ہوا، پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ پر حملے کو سنجیدگی سے لیں گے اورآرڈر پاس کریں گے۔ انھوں نے احمد رضا قصوری سے استفسار کیا کہ ہم نے پرویزمشرف کو بلایاتھا وہ کیوں نہیں آئے جس پر احمد رضا قصوری نے بتایا کہ پرویزمشرف کو سیکیورٹی خدشات ہیں، آج بھی ان کے فارم ہاؤس کے قریب سے دھماکاخیز مواد برآمد ہونے کی خبریں آئی ہیں۔ پرویزمشرف عدالت کے کہنے پر یہاں آئیں گے، اگر ان کو کچھ ہوا تو عدالت ذمے دار ہو گی۔اگر فول پروف سیکیورٹی نہ ملی تو پرویز مشرف کو عدالت میں نہیں لایاجائے گا، ایرانی پارلیمنٹ کے باہر دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے احمدرضا قصوری نے کہا کہ عدالت کے باہر دھماکاہوا توسارے مارے جائیں گے۔ کھلے آسمان تلے عدالت لگادی گئی ہے، یہ عدالت نہیں لگتی شکسپیئرکے تھیٹرکا سماں لگتاہے۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت کو نہ دھمکائیں دلائل دیں، یہ مت سمجھیں کہ سیکیورٹی خطرے کے باعث کام چھوڑ دیں گے، عدالتیں جنگوں میں بھی کام کرتی ہیں اور ہم بھی اپنا کام جاری رکھیں گے۔ ڈی آئی جی سیکیورٹی نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ پرویزمشرف کو بلٹ پروف گاڑی دی گئی ہے البتہ وہ بم پروف نہیں ہے۔ عدالت تک کا سفر محفوظ ہے، سیکیورٹی کے لیے ایک ہزار اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔عدالت نے کہا کہ آج مشرف کی سیکیورٹی کے حوالے سے حکم جاری کیا جائے گا۔ انور منصور خان نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل6 بالکل واضح ہے کہ آئین توڑنے، منسوخ کرنے، معرض التوا میں ڈالنے کے الزام میں ملزم اور اس کے معاون و مدد گاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتا ہے، غداری کی کارروائی آئین کے تحت دی گئی گائیڈ لائن کے تحت ہی شروع کی جا سکتی ہے، اس عدالت کو سمن جاری کرنے اور وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ پراسیکیوٹر اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی عدم موجودگی میں کسی قسم کی کارروائی نہ کی جائے۔ ان درخواستوں پر پہلے ہمارے اعتراضات کو سنا جائے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کسی معاملے میں جہاں ہائیکورٹ کے جج کی خدمات لی جائیں تو وفاقی حکومت از خود فیصلہ کرنے کی مجاز ہے تو اس کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت کرنا لازمی ہے۔ انور منصور خان نے کہا کہ آئین کے تحت فیئر ٹرائل ہر شہری کا حق ہے۔ عدالت کا قیام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اس کو کالعدم قرار دیا جائے۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ جس عدالت پر تعصب کا الزام ہے کیا وہی فیصلہ دے کہ عدالت واقعی متعصب ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق انور منصور نے کہا کہ نواز شریف ملزم کے خلاف تعصب رکھتے ہیں۔ خصوصی عدالت کی تشکیل کا نوٹیفکیشن غیر آئینی ہے، آرٹیکل 6 کے تحت ٹرائل کا فیصلہ صرف وزیراعظم نے کیا جو ان کا اختیار نہیں، آئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ وزیراعظم نواز شریف پر چلناچاہیے۔ عدالتی تشکیل پر اعتراض میں ان کا کہنا تھاکہ ملک میں 5ہائی کورٹس ہیں، موجودہ بینچ میں پوری قوم کی نمائندگی نہیں، ایسے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم نہ کرنا بدنیتی ہے۔ مشرف کے وکلا نے کہا کہ ججوں کی نامزدگی کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کا آفس استعمال کیا گیا جو درست نہیں ، پرویز مشرف کے پی سی او پر حلف سے انکار کرنے والے شخص کو خصوصی عدالت کا سربراہ بنا دیاگیا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ہمارا اس کیس سے کوئی ذاتی مفاد نہیں۔ انور منصور نے بینچ کے دیگر دو ججوں جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر پر بھی اعتراضات اٹھائے جو غلط ثابت ہوئے۔
مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کی تشکیل، اس کے دائرہ کار کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات پر اپنے دلائل دیے جن کو عدالت نے مسترد کردیا اور کہا کہ اب کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے لہٰذا اب ان درخواستوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ سماعت آج صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کردی گئی۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق جسٹس فیصل عرب نے قرار دیا کہ پرویزمشرف کا جرم نا قابلِ ضمانت ہے، کوئی بھی پولیس افسر انہیں بغیروارنٹ کے گرفتارکرسکتا ہے۔ پرویزمشرف کے وکلانے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔ آن لائن کے مطابق احمد رضا رقصوری نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک فول پروف سیکیورٹی نہیں ہوگی مشرف عدالت نہیں آئیں گے۔ فول پروف سیکیورٹی کافیصلہ اسلام آبادانتظامیہ کرے گی۔ آئے روزان کے گھرسے باہر دھماکاخیز مواد مل رہا ہے، ہمارے وکلااور دوستوں پر حملے ہورہے ہیں، ہم اس طرح کے حکومتی ہتھکنڈوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
خصوصی عدالت میں زیرسماعت کیس ناقابل ضمانت ہے۔ شکایت درج اور عدالت کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ ملزم کی جانب سے درخواست ضمانت عدالت کے سامنے نہیں۔ وہ سابق صدراور چیف آف آرمی اسٹاف رہ چکے ہیں لہٰذا عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور نہیں چاہتی کہ ان کی تضحیک ہو۔ اگروہ عدالت میں پیش نہیںہوئے توعدالت اپناحکم جاری کرے گی۔ ان کو تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔ بدھ کو سماعت شروع ہوئی تو عدالت کو بتایا گیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ سابق صدر کے وکلانے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پرویزمشرف کو سیکیورٹی خدشات ہیں، سماعت 5 ہفتوں کے لیے ملتوی کی جائے۔ سماعت کے آغاز پر پرویز مشرف کے وکیل خالد رانجھا نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کابیان آج شائع ہواہے جس میں انھوں نے کہا کہ مشرف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ثبوت ہے۔ ان کا یہ بیان عدالتی کارروائی پر اثراندازہونے کی کوشش ہے، ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ نے اس حوالے کوئی تحریری درخواست نہیں دی۔ جنرل(ر) مشرف کے وکیل انور منصور ایڈووکیٹ نے کہا لاہور جاتے ہوئے میری گاڑی پر حملہ ہوا، پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ پر حملے کو سنجیدگی سے لیں گے اورآرڈر پاس کریں گے۔ انھوں نے احمد رضا قصوری سے استفسار کیا کہ ہم نے پرویزمشرف کو بلایاتھا وہ کیوں نہیں آئے جس پر احمد رضا قصوری نے بتایا کہ پرویزمشرف کو سیکیورٹی خدشات ہیں، آج بھی ان کے فارم ہاؤس کے قریب سے دھماکاخیز مواد برآمد ہونے کی خبریں آئی ہیں۔ پرویزمشرف عدالت کے کہنے پر یہاں آئیں گے، اگر ان کو کچھ ہوا تو عدالت ذمے دار ہو گی۔اگر فول پروف سیکیورٹی نہ ملی تو پرویز مشرف کو عدالت میں نہیں لایاجائے گا، ایرانی پارلیمنٹ کے باہر دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے احمدرضا قصوری نے کہا کہ عدالت کے باہر دھماکاہوا توسارے مارے جائیں گے۔ کھلے آسمان تلے عدالت لگادی گئی ہے، یہ عدالت نہیں لگتی شکسپیئرکے تھیٹرکا سماں لگتاہے۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت کو نہ دھمکائیں دلائل دیں، یہ مت سمجھیں کہ سیکیورٹی خطرے کے باعث کام چھوڑ دیں گے، عدالتیں جنگوں میں بھی کام کرتی ہیں اور ہم بھی اپنا کام جاری رکھیں گے۔ ڈی آئی جی سیکیورٹی نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ پرویزمشرف کو بلٹ پروف گاڑی دی گئی ہے البتہ وہ بم پروف نہیں ہے۔ عدالت تک کا سفر محفوظ ہے، سیکیورٹی کے لیے ایک ہزار اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔عدالت نے کہا کہ آج مشرف کی سیکیورٹی کے حوالے سے حکم جاری کیا جائے گا۔ انور منصور خان نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل6 بالکل واضح ہے کہ آئین توڑنے، منسوخ کرنے، معرض التوا میں ڈالنے کے الزام میں ملزم اور اس کے معاون و مدد گاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتا ہے، غداری کی کارروائی آئین کے تحت دی گئی گائیڈ لائن کے تحت ہی شروع کی جا سکتی ہے، اس عدالت کو سمن جاری کرنے اور وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ پراسیکیوٹر اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی عدم موجودگی میں کسی قسم کی کارروائی نہ کی جائے۔ ان درخواستوں پر پہلے ہمارے اعتراضات کو سنا جائے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کسی معاملے میں جہاں ہائیکورٹ کے جج کی خدمات لی جائیں تو وفاقی حکومت از خود فیصلہ کرنے کی مجاز ہے تو اس کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت کرنا لازمی ہے۔ انور منصور خان نے کہا کہ آئین کے تحت فیئر ٹرائل ہر شہری کا حق ہے۔ عدالت کا قیام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اس کو کالعدم قرار دیا جائے۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ جس عدالت پر تعصب کا الزام ہے کیا وہی فیصلہ دے کہ عدالت واقعی متعصب ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق انور منصور نے کہا کہ نواز شریف ملزم کے خلاف تعصب رکھتے ہیں۔ خصوصی عدالت کی تشکیل کا نوٹیفکیشن غیر آئینی ہے، آرٹیکل 6 کے تحت ٹرائل کا فیصلہ صرف وزیراعظم نے کیا جو ان کا اختیار نہیں، آئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ وزیراعظم نواز شریف پر چلناچاہیے۔ عدالتی تشکیل پر اعتراض میں ان کا کہنا تھاکہ ملک میں 5ہائی کورٹس ہیں، موجودہ بینچ میں پوری قوم کی نمائندگی نہیں، ایسے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم نہ کرنا بدنیتی ہے۔ مشرف کے وکلا نے کہا کہ ججوں کی نامزدگی کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کا آفس استعمال کیا گیا جو درست نہیں ، پرویز مشرف کے پی سی او پر حلف سے انکار کرنے والے شخص کو خصوصی عدالت کا سربراہ بنا دیاگیا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ہمارا اس کیس سے کوئی ذاتی مفاد نہیں۔ انور منصور نے بینچ کے دیگر دو ججوں جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر پر بھی اعتراضات اٹھائے جو غلط ثابت ہوئے۔
مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کی تشکیل، اس کے دائرہ کار کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات پر اپنے دلائل دیے جن کو عدالت نے مسترد کردیا اور کہا کہ اب کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے لہٰذا اب ان درخواستوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ سماعت آج صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کردی گئی۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق جسٹس فیصل عرب نے قرار دیا کہ پرویزمشرف کا جرم نا قابلِ ضمانت ہے، کوئی بھی پولیس افسر انہیں بغیروارنٹ کے گرفتارکرسکتا ہے۔ پرویزمشرف کے وکلانے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔ آن لائن کے مطابق احمد رضا رقصوری نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک فول پروف سیکیورٹی نہیں ہوگی مشرف عدالت نہیں آئیں گے۔ فول پروف سیکیورٹی کافیصلہ اسلام آبادانتظامیہ کرے گی۔ آئے روزان کے گھرسے باہر دھماکاخیز مواد مل رہا ہے، ہمارے وکلااور دوستوں پر حملے ہورہے ہیں، ہم اس طرح کے حکومتی ہتھکنڈوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔