عوام اور کورونا کے تجربات

عوام کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ کورونا وائرس بلائے ناگہانی کی طرح نازل ہوجاتا ہے۔

عوام کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ کورونا وائرس بلائے ناگہانی کی طرح نازل ہوجاتا ہے۔ فوٹو: فائل

کورونا وائرس سے نمٹنے اور اس کے پھیلاؤ کے حوالے سے میڈیا نے اب تک جو اعداد و شمار اور وبا کی مجموعی گروتھ کی جو اطلاعات دی ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عوام نے کورونا سے نمٹنے میں قومی استقامت اور اچھے اصولوں کی پیروی میں مثبت طرز عمل کا ثبوت دیا ہے اس کے ساتھ ہی پاکستانی عوام نے دور حاضر کے اس ہولناک عفریت کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا اور اس سے نمٹنے میں جو کردار ادا کیا ہے اس کی بلاشبہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر عالمی اداروں نے بھی تعریف کی، عوام کورونا کے خلاف جنگ میں سرخروئی کا کریڈٹ لینے میں حق بجانب بھی ہیں۔

ابھی جنگ جاری ہے اور وبا کے انسداد اور قوم کو کورونا سے برسرپیکار رہنے میں منزل کے قریب رہتے ہوئے فیصلہ کن لڑائی لڑنی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کورونا سے نمٹنے میں حکومت کو عوام کی سماجی کایا پلٹنے کے لیے جس کمٹمنٹ، عوامی دستگیری اور صحت کی رکھوالی اور علاج و معالجہ کا جو سنگ میل عبور کرنا تھا اس ضمن میں عوام کے تجربات، مشاہدات اور یادداشتیں کچھ کم الم ناک نہیں ہیں، یہ عوام کی صحت کی بحالی کی وہ لڑائی لڑنا تھی جو عوام نے ہر طرح کی دشواریوں، کم مائیگی، غربت، بیروزگاری اور انفرااسٹرکچر کے فقدان کے باوجود بڑی بے جگری سے لڑی اور آج بھی کورونا سے نبرد آزما ہیں۔ یہ جنگ عوام نے دو سطحوں پر لڑی ہے۔

ایک ریاستی و حکومتی محاذ پر قوم نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ادارہ جاتی اقدامات اور وسائل و معالجاتی سہولتوں کے اعتبار سے بھی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اگر کسی بات کا تہیہ کرلے تو وہ وسائل کی تلاش وجستجو میں ''اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے'' کی مثال بن جاتی ہے۔ کورونا سے نمٹنے میں اہل وطن نے قومی جدوجہد، استقامت، ایثار اور انسان دوستی کے وہ باب رقم کیے جو ایک سیاسی سسٹم کے لیے بھی قابل رشک کہے جا سکتے ہیں۔

میڈیا کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال میں کچھ حد تک بہتری آ رہی ہے تاہم کیسز اب بھی ہزار سے زائد اور اموات درجنوں میں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بددلی اور مایوسی کے باعث عوام ایس او پیز سے گریزاں ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار 629 کیسز سامنے آئے جب کہ 23 افراد زندگی کی بازی ہار گئے تاہم مزید 2ہزار 414 مریض اس وائرس سے شفایاب بھی ہوئے۔

ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 34 ہزار 41 ہوچکی ہے جس میں سے 91.5 فیصد یعنی 4 لاکھ 88 ہزار 903 مریض صحتیاب ہوئے جب کہ 11 ہزار 318 زندگی کی بازی ہار گئے اور اب ملک میں 33 ہزار 820فعال کیسز ہیں۔ خیال رہے کہ ملک میں اس عالمی وبا کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو رپورٹ ہوا تھا اور جون میں اس کا پھیلاؤ عروج پر جا پہنچا تھا۔

تاہم جولائی سے کیسز میں کمی آتی گئی اور ستمبر تک بہتری کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اکتوبر اور خاص طور پر نومبر میں وبا کی شدت میں دوبارہ تیزی آگئی اور حکومت کی جانب سے دوبارہ تعلیمی اداروں کی بندش کے علاوہ متعدد پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔ تاہم تقریباً 2 ماہ بعد 18 جنوری سے نویں سے 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے گئے البتہ جامعات اور پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے لیے تعلیمی اداروں کو یکم فروری سے کھولا جائے گا۔

25 جنوری کے بعد سے ملک میں مجموعی صورتحال کچھ اس طرح ہے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور یہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 630 کیسز کا اضافہ ہوا جس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2 لاکھ41 ہزار 200 تک پہنچ گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں اس عالمی وبا کے باعث مزید 4 مریضوں کے انتقال کر جانے سے اموات کی مجموعی تعداد 3 ہزار 892 تک پہنچ گئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 670 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد یہاں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار 17 ہوگئی۔ علاوہ ازیں صوبے میں وبا کی وجہ سے مزید 7مریض لقمہ اجل بنے اور اس طرح پنجاب میں وائرس کے سبب اموات کی مجموعی تعداد 4 ہزار 568 ہوگئی۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں مزید 245 افراد کو کورونا وائرس نے متاثر کیا، یوں وائرس کے مجموعی متاثرین کی تعداد 65 ہزار 532 ہوگئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وبا کے باعث صوبے میں مزید 7 مریضوں کا انتقال ہوا جس کے بعد اب تک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 839 تک جا پہنچی۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 14 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مجموعی کیسز 18 ہزار 750 ہوگئے۔ بلوچستان میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں ایک فرد کا اضافہ ہوا اور اس طرح اموات کی مجموعی تعداد 193 ہوگئی۔


سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وبا کے مزید 102کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد یہاں متاثرہ افراد کی تعداد 40 ہزار 815 تک جا پہنچی۔ وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 3مریضوں کے انتقال کرجانے سے اموات کی مجموعی تعداد 468 ہوگئی۔ کورونا سے متعلق سرکاری اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا وبا نے مزید 30 افراد کو اپنا شکار بنایا جس کے بعد یہاں متاثرین کی تعداد 8 ہزار 825 ہوگئی۔

آزاد کشمیر میں وائرس سے مزید 2 مریض انتقال کرگئے جس سے یہ مجموعی تعداد 256 تک جا پہنچی۔ گلگت بلتستان میں وبا کا ایک نیا کیس رپورٹ ہوا جس کے بعد یہاں متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار 902 پر برقرار ہے۔ مزید یہ کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید کوئی ہلاکت بھی رپورٹ نہیں ہوئی اور وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 102 پر برقرار ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے صحتیاب ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 2 ہزار 414 افراد شفایاب ہوئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان مریضوں کے شفایاب ہونے کے بعد مجموعی طور پر یہ تعداد 4 لاکھ 88 ہزار 903 ہوگئی۔ تاہم انسانی کوششوں اور کورونا کی ہولناکی کی جنگ ابھی کون سا رخ اختیار کرے گی اس حوالہ سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔

ایک حصہ میں کورونا ویکسین کی آمد کے امکانات روشن ہیں، بعض ملکوں نے ویکسین کی تیاری میں پیش رفت کی ہے، کچھ کو ویکسین ملنے کی امید ہے، پاکستان بھی ان ہی ملکوں میں شامل ہے، لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ کورونا کے علاج میں حکومت نے جہاں ہاتھ کھینچ لیے وہاں عوام نے جڑی بوٹیوں سے استفادہ کیا اور طب مشرق کے ذریعے وبا کا علاج جاری رکھا، ان جڑی بوٹیوں کا کنٹری بیوشن غریب اور متوسط طبقات سے ہوتا ہوا عوام کے اشرافیہ نے بھی قبول کیا، میڈیا نے کھانسی، انفلوئنزا، بخار اور نزلہ زکام کے امراض کے مجرب ٹوٹکوں کو بھی اعتبار بخشا۔ ایک اطلاع کے مطابق برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرزینیکا کے یورپ کو کورونا ویکسین کی ابتدائی سپلائی توقع سے کم ہو سکتی ہے۔

لہٰذا اس اعلان کے بعد یورپی یونین کے ممالک میں کورونا ویکسینیشن کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق جمعے کو ہونے والے اس اعلان سے قبل ایک دواساز کمپنی نے بھی کہا تھا کہ اس کی ویکسین کی شپمنٹ پہنچنے میں ایک ماہ کی تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے بیلجیئم میں واقع پلانٹ میں کام چل رہا ہے۔

ان کمپنیوں نے ایسے وقت پر خبردار کیا ہے جب برطانیہ سے جنم لینی والی وائرس کی نئی قسم کی وجہ سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ مختلف ملکوں میں کہا گیا کہ ویکسین ترجیحاً صحت ورکرز کے فرنٹ لائن کو دی جائے گی، پاکستان میں بھی اس تاثر کو غلط کہا گیا کہ سب کو مفت ویکسین دی جائے گی، ادھر میڈیا بچوں کی آنکھوں کے لیے سینیٹائزرز کے استعمال کو مضرت رساں قرار دے چکا ہے، ایمسٹرڈیم (نیدرلینڈ) میں ہزاروں شہری شدید بیزاری اور پابندیوں سے اکتا کر سڑکوں پر آگئے۔ ملک میں عوام بھی ماسک، سماجی فاصلہ اور ہجوم سے بچنے کی ہدایات سے گریز پر مائل ہونے پر مجبور ہوئے۔

میڈیا نے ایک سروے رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 55 فیصد نے کورونا اعداد و شمار کو مبالغہ آمیز جب کہ 45 فیصد نے سازشی تھیوری کے مترادف قرار دیا اور لاپروائی کا رویہ اپنایا، چونکہ حکومتی مشینری، وزرا، مشیر اور دیگر بااثر طبقات بھی کورونا کے حوالہ سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیے، جس کا عوام میں شدید رد عمل بھی ہوا ہے۔

ٹرانسپورٹ، بازار اور عوامی مقامات پر کورونا فری ماحول کی حوصلہ افزائی ہونے کا عندیہ عام ہے۔ عوام اس مخمصہ میں مبتلا ہیں کہ کیا ماسک اور سماجی فاصلہ صرف غریب اور کچی آبادیوں کے لیے لازمی ہے، اس دو عملی کا خاتمہ ہونا چاہیے، ایس او پیز پر بلاامتیاز عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ بے احتیاطی کورونا کی اچانک واپسی کا باعث نہ بنے۔ بے احتیاطی برتنے سے یہ وبا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

عوام کو ہر ممکن سمجھداری کا ثبوت دینا چاہیے اور اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ کورونا وائرس بلائے ناگہانی کی طرح نازل ہوجاتا ہے جس سے پورا ہیلتھ سسٹم متاثر ہوسکتا ہے، کورونا کی ہلاکتوں سے کم از کم یہی سبق قوم کو ملنا چاہیے۔
Load Next Story