نئی حلقہ بندی 30جنوری کو بلدیاتی الیکشن نہیں ہو سکتےپنجاب حکومت
نئی قانون سازی اورحلقہ بندیوں میں4سے6 ماہ کاعرصہ لگےگا،اگرنئی مردم شماری پہلے کرانے کافیصلہ ہواتو 2سال بھی لگ سکتے ہیں
مشرف نے3 نومبرکا اقدام بطور صدر اورکمانڈنگ آفیسرکیا تھا،اس لیے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے وہ اکیلے ذمے دار ہیں،رانا ثنااللہ . فوٹو:فائل
وزیربلدیات ،قانون و پارلیمانی امور پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 30جنوری کو بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکتے۔
عدالتی فیصلے کی روشنی میں نئی قانون سازی اورازسرنوحلقہ بندیوں میں 4 سے 6 ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اوراگر نئی مردم شماری پہلے کرانے کا فیصلہ کیا گیا تواس میں2سال بھی لگ سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کرے گی یہ کام الیکشن کمیشن کا ہے۔ پرویز مشرف نے3 نومبرکا اقدام بطورصدر پاکستان اور کمانڈنگ آفیسرکیا تھا۔ اس لیے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے وہ اکیلے ذمے دار ہیں۔ غداری کے مقدمے سے فرار کے ضمن میں مشرف کی تاویلیں کسی کام نہیں آئیں گی۔ بدھ کو پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ سابق جنرل مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل6 کے تحت ٹرائل ہورہا ہے جس میں انھیں کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
کریمنل کیس میں صدر کوبھی استثنیٰ حاصل نہیں۔ افواج پاکستان ایک ادارہ ہے جس کا مشرف کے غیر آئینی اقدامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سراغ لگانا چاہیے کہ جس دن پرویز مشرف کی پیشی ہوتی ہے ان کے راستے میں بارود کی پڑیا کون رکھتا ہے۔ کون ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ پرویز مشرف پرغداری کیس کی فرد جرم عائد ہو۔ انھوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کیلیے نئی مجوزہ تاریخ ہم نہیں دے سکتے یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، ہم عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے ہر فیصلے کو تسلیم کریں گے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سیاسی طور پر ختم ہوچکے ہیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا قومی فیصلہ کیا گیا تھا۔ حکومت نے مولانا سمیع الحق سے مدد مانگی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے مذاکرات شروع کرائیں۔ آصف زرداری نے سابق صدر پرویز مشرف کو ہی'' بلا'' کہہ کرمخاطب کیا
عدالتی فیصلے کی روشنی میں نئی قانون سازی اورازسرنوحلقہ بندیوں میں 4 سے 6 ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اوراگر نئی مردم شماری پہلے کرانے کا فیصلہ کیا گیا تواس میں2سال بھی لگ سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کرے گی یہ کام الیکشن کمیشن کا ہے۔ پرویز مشرف نے3 نومبرکا اقدام بطورصدر پاکستان اور کمانڈنگ آفیسرکیا تھا۔ اس لیے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے وہ اکیلے ذمے دار ہیں۔ غداری کے مقدمے سے فرار کے ضمن میں مشرف کی تاویلیں کسی کام نہیں آئیں گی۔ بدھ کو پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ سابق جنرل مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل6 کے تحت ٹرائل ہورہا ہے جس میں انھیں کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
کریمنل کیس میں صدر کوبھی استثنیٰ حاصل نہیں۔ افواج پاکستان ایک ادارہ ہے جس کا مشرف کے غیر آئینی اقدامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سراغ لگانا چاہیے کہ جس دن پرویز مشرف کی پیشی ہوتی ہے ان کے راستے میں بارود کی پڑیا کون رکھتا ہے۔ کون ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ پرویز مشرف پرغداری کیس کی فرد جرم عائد ہو۔ انھوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کیلیے نئی مجوزہ تاریخ ہم نہیں دے سکتے یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، ہم عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے ہر فیصلے کو تسلیم کریں گے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سیاسی طور پر ختم ہوچکے ہیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا قومی فیصلہ کیا گیا تھا۔ حکومت نے مولانا سمیع الحق سے مدد مانگی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے مذاکرات شروع کرائیں۔ آصف زرداری نے سابق صدر پرویز مشرف کو ہی'' بلا'' کہہ کرمخاطب کیا