سیاسی جمود اور فکرنو کے مسائل
قوم لمحہ موجود کے منظرنامہ میں سیاسی پولرائزیشن سے پژمردگی، فکری، نظریاتی، تخلیقی اورتحقیقی سرمایہ سے بیگانہ ہوچکی ہے۔
قوم لمحہ موجود کے منظرنامہ میں سیاسی پولرائزیشن سے پژمردگی، فکری، نظریاتی، تخلیقی اورتحقیقی سرمایہ سے بیگانہ ہوچکی ہے۔ فوٹو: فائل
یہ درد انگیز سیاسی وسماجی المیہ ہے کہ ملکی سیاسیات، ادب،کلچر، سماجی و اقتصادی صورتحال نے قوم کو ایک دشت ِ جمود میں لا پھینکا ہے۔ ایسا منظر نامہ ہے کہ لوگ یکسانیت، بیگانگی، اکتاہٹ اور سیاسی تدبروتفکر سے معذور ہوکر تخلیقی بحران میں الجھ گئے ہیں، ایک اٹھتا انتشار ہے۔
محسوس ہوتا ہے کہ قوم لمحہ موجود کے منظرنامہ میں سیاسی پولرائزیشن سے پژمردگی، فکری، نظریاتی، تخلیقی اور تحقیقی سرمایہ سے بیگانہ ہوچکی ہے، اس کے فکری سوتے خشک ہوچکے ہیں، کوئی نیا خیال، جدت، ندرت کی نوید نہیں، سب غالب و میرکی بحر میں سخن نوازی میں مگن، سیاسی آدمی کسی بھی معاملہ میں دخل درمعقولات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
مشہور چینی کہاوت ہے کہ جو قوم صرف قانون بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے، وہ در حقیقت بڑھاپے کی دہلیز پر ہوتی ہے،کیونکہ نیا قانون روح کی حقیقت کے لیے توہین ہے، مگر اہل نظر نے کبھی سیاستدانوں کو یہ کہتے نہیں سنا کہ منع کرنے، یا ہر موقع مناسبت سے قانون بنانے سے بہتر ہے کہ قوم کو تعلیم دو۔
اخباری خبروں کے صفحات معاشرے کے مین اسٹریم سیاسی، نظریاتی اور تجارتی دھاروں کی قلعی کھول دیتے ہیں، وہ سارا بنجر ذہنی کینوس چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ قوم کو کس سمت دوڑایا جا رہا ہے، دانشوروں نے کہا ہے کہ ہم نے ایک مربوط زاویہ نگاہ کھو دیا ہے، ہم پاکستان کے شہری نہیں رہے افراد بن گئے ہیں، جو اربن ماہرین سالہا سال سے حقائق کی طرف حکمرانوں کو متوجہ کرتے رہے ان کی کسی نے نہیں سنی، کراچی، لاہور،کوئٹہ اور پشاور کے سیناریوزکی داستانیں نامہ نگاران وطن لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں، مگر سب کے ہاتھ ہر چند قلم ہوئے اورکسی نے اس سونامی کا ادراک نہیں کیا جو ملکی سیاست کی طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا، کراچی کبھی ایشیا کا خوبصورت شہر کہلاتا تھا، عروس البلاد تھا، اسی طرح لاہور کی مہمان نوازی کی غیر ملکی تعریف کرتے تھے۔
آج بھی کرتے ہیں مگر ملک کے دونوں بڑے شہروں میں گندگی، غلاظت، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور پلاسٹک بیگزکے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں، آج کچرا ان کی شناخت ہے، شہری کلچر کو تو ہمیشہ مقامی حکومتوں نے تحفظ اور خوبصورتی عطا کی ہے، تاجروں، سیاستدانوں، آرٹس کونسلوں اور این جی اوز نے کیوں انھیں تعمیر وتزئین کے قابل نہیں سمجھا، ملک کے سارے شہروں میں کرپشن کی کہانیاں ہی جلی حروف سے چھپتی ہیں، کوئی شہر آشوب ہی لکھتے،کوئی ایسا ادبی شہ پارہ کراچی کے نام سے منسوب ہو جاتا، کوئی توکہتا اور آہ بھرتا کہ ''ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے۔'' اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہندوستان کے ادبی دبستان پر قیام پاکستان کے بعد بھی یہ الزام لگتا رہا کہ
ہند کے صوت گرو، شاعرو،افسانہ نویس
آہ ! بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
نظریاتی شکست وریخت کی دلگداز کہانی ادب و تنقید اور افسانہ وناولوں میں عیاں ہے، اہل نظر پوچھتے ہیں کہ میر وغالب کے بعد جوش و فیض کا مزید ورثہ کہاں ہے، جو فنون لطیفہ میں اپنی ایک شناخت رکھتے کہاں گئے،کوئی ٹالسٹائی، کیوں پیدا نہیں ہوا، قرۃ العین حیدرکا ''آگ کا دریا'' اور عبداللہ حسین کی ''اداس نسلیں'' لکھنے والے مزید رائٹر سامنے کیوں نہیں آئے، انتظار حسین کی ادبی مشعل کون بجھانے آگیا؟ چراغ سے چراغ کیوں نہیں جلا۔ کوئی آج کے اہل فکرواستدلال سے افلاطون، ارسطو اور سقراط کی روایت یا فلسفیانہ وراثت کا ان سے مطالبہ نہیں کررہا مگر قوم جاننا چاہتی ہے کہ جدید فلسفہ میں پاکستان کا فلسفی آج کہاں کھڑا ہے۔
ہے کوئی افتادگان خاک کا لکھنے والا پاکستانی فرانزفینن،کوئی سولزے نتسن جو گولاگ لکھے؟ گورکی کی ''ماں'' جیسا ناول کون لکھے گا پھر اس کو ڈرامائی تشکیل دینے کا حوصلہ کس میں انڈیلا جائے گا، سارا سینہ گزٹ برائے ادب و سیاست کیا ہمارے عوام اور اہل فکر ونظر کا مقدر ہے، یادش بخیر ہمارے کہنہ سیاست دان تو کتابوں کے رسیا تھے، مثلاً سردار عطااللہ مینگل، سردار خیر بخش مری، نواب اکبر بگٹی، سردار شیر باز مزاری، حنیف رامے، چوہدری اعتزاز احسن، ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر۔ ہمارے درمیان کیا آج سارے عہد حاضرکے نام نہاد سیاسی سقراط باقی رہ گئے ہیں۔
وہ ایڈمنڈ برک کہیں چھپ گیا ہے اسے برطانوی پارلیمنٹ سے کون ڈھونڈے گا۔ کوئی ابن خلدون ہمارے اندر سے کب سامنے آئے گا، ابن رشد اور ابن عربی کیا صرف حواشی کے طور پر اسلام کی تاریخ کے صفحات پر جلوہ گر ہوتے رہیں گے۔ سیاست کے بے چین طالب علم ہمعصر صحافیوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیوں محمد اجمل نے ول ڈیورانٹ کی کتاب نشاط فلسفہ میں یہ حقیقت بیان کی کہ ''ہم انسانیت کے چیتھڑے ہیں،'' آج تمدن سطحی اور علم خطرناک ہے، شخصیتیں کٹی پھٹی ہیں، لاکھوں سیاست دان ہیں مگر اہل سیاست کوئی نہیں؟
دنیا اور بر صغیر کی سیاسی اور ادبی تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، جبرکے خلاف ہمیشہ ادیب ہی سینہ سپر رہے ہیں، والٹیئر نے فرانس کے لیے انسانی ضمیروآزادی کی سب سے بڑی جنگ لڑی، اور حق وصداقت کے علمبردار بن کر سینہ سپر ادیب، شاعر اور محنت کش عوام ہی رہے، جب کہ طالع آزماؤں نے ادب وتاریخ کے من پسند افسانوی اور دیومالائی کردار جنم دے کر تاریخ کا اصل بیانیہ بدل دیا،dark agesسے مستعار کردار اور افسانے بنائے، جو کردار دھرتی سے جڑے تھے انھیں نسیم حجازی اور دوسرے بے نام قلمکاروں سے لکھوایا، پوری تاریخ کے ساتھ وہی کھلواڑ ہوا جو آج کے لاپتا سیاسی کارکنوں کی کہانی ہے۔
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی
معاشرے کے مختلف طبقات سوال اٹھا رہے ہیں کہ کس بندگلی میں قوم پھنس گئی ہے،کس صحرا میں قوم سایہ دیوار مانگ رہی ہے، اسے ملکی تہذیب، معاشرت، معیشت اور مستقبل کے جمہوری اہداف اور نصب العین سے اٹھاکر دورکسی ایسے سماج کا قیدی کیوں بنا دیا گیا ہے جس کی تقدیر میں صبح سے شام تک بے مقصد سیاسی تقاریر، بیانات، الزامات اور سنہرے سیاسی خوابوں کی وحشت ناک تعبیریں سننے کو ملتی رہتی ہیں جو کسی بھی شہری کو پاگل بنانے کے لیے کافی ہیں۔
ایک ایسا سیاسی صنم کدہ تعمیر ہوا ہے جو سیاسی حقیقت پسندی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا، جہاں سیاسی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی افراط وتفریط کی گرم بازاری عروج پر ہے، جہاں مظلوم انسانیت روز قتل ہوتی ہے، چاروں طرف نفسا نفسی کا عالم ہے۔
ہر شخص ''باون گزوں'' کے شہر میں رہتا ہے اور بے شناختی کا نوحہ سناتا ہے، کبھی کبھار لگتا ہے ملکی سیاسی اسٹیج پرکسی انوکی پہلوان کا کسی انٹرنیشنل فری اسٹائل ریسلر سے مقابلہ طے ہے، کہیں کورونا سے نمٹنے کی کوشش اورکہیں کھیلوں کے ایسے مقابلے جہاں تماشائیوں کا اجتماع میں بھی ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی جاتی ہوں، منتخب ایوانوں میں سنجیدہ مکالمہ سر بہ گریباں اور پارلیمنٹیرینز مغلوب ہیں، گلیمر کا چرچا ہے، علمی گفتگو اور فنون لطیفہ کے نام پر جو شے تخلیق ہوئی اس کا کسی مربوط سیاسی نظام حیات سے کوئی تعلق نہیں۔
بھرم بازی کی افسوسناک روایت کو شہ موجودہ سیاسی دورانیے میں ملی، سنجیدہ سماجی مکالمہ روپوش ہوا، جنھیں عوام نے سماجی مسائل پر ایک بے داغ اور نڈر سماجی کارکن کا مقام دیا وہ اسی بھرم کلچر کی نذر ہوئے، معاشرہ میں وہی ڈراما ہٹ ہوا جو گل وبلبل کی کہانیوں سے شروع ہوتا ہے اور ساس بہو سے ہوتا ہوا شادی، تشدد، طلاق اورگھر پھونک تماشہ پر ختم ہوتا ہے، ہمارا ٹی وی ڈراما خوبصورت چہروں کے طبقاتی غلام گردشوں میں رومانس کا متلاشی ہے، ڈرائنگ روم ایکٹنگ جاندار ہے، مگر اس ڈراما کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کی آنچ لگے گی تو پاکستانیت کی تپش سے کندن بنے گا۔ اس وقت کا ایک اہم مسئلہ سنجیدہ مکالمہ پر بھرم بازی کے غلبہ اور رواج کا ہے، جو لوگ عوام کے مسائل پر مدلل اور مبسوط انداز فکر رکھتے تھے۔
وہ نسل کب کی ختم ہوگئی۔ اللہ انھیں غریق رحمت فرمائے،آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اس احساس زیاں کی متاع عزیزکو واپس لائیں، سیاسی کیڈر کو تنظیمی بنیاد پر سیاست کی اقدار سے منسلک کریں، سیاست جب تک اپنی نظریاتی اور فکری بنیادوں کے استحکام اور فروغ پر توجہ نہیں دے گی، سیاست پر اچھوتی، فکر انگیز اور قومی سوچ رکھنے والی باتیں کرنے والے آہستہ آہستہ غائب ہوتے جائیں گے، قوم ان ہی سیاسی چہروں کو دیکھنے پر مجبور ہوگی جن سے انھیں کبھی کوئی خیر کی بات نہیں سنی اور آیندہ بھی افق پر دھند کا خدشہ نظر آتا ہے۔
زمین وزماں تیرگی تیرگی
ارے روشنی روشنی روشنی
قفس بستہ کو حکم پرواز دے
کوئی ہے تو للہ آواز دے
محسوس ہوتا ہے کہ قوم لمحہ موجود کے منظرنامہ میں سیاسی پولرائزیشن سے پژمردگی، فکری، نظریاتی، تخلیقی اور تحقیقی سرمایہ سے بیگانہ ہوچکی ہے، اس کے فکری سوتے خشک ہوچکے ہیں، کوئی نیا خیال، جدت، ندرت کی نوید نہیں، سب غالب و میرکی بحر میں سخن نوازی میں مگن، سیاسی آدمی کسی بھی معاملہ میں دخل درمعقولات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
مشہور چینی کہاوت ہے کہ جو قوم صرف قانون بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے، وہ در حقیقت بڑھاپے کی دہلیز پر ہوتی ہے،کیونکہ نیا قانون روح کی حقیقت کے لیے توہین ہے، مگر اہل نظر نے کبھی سیاستدانوں کو یہ کہتے نہیں سنا کہ منع کرنے، یا ہر موقع مناسبت سے قانون بنانے سے بہتر ہے کہ قوم کو تعلیم دو۔
اخباری خبروں کے صفحات معاشرے کے مین اسٹریم سیاسی، نظریاتی اور تجارتی دھاروں کی قلعی کھول دیتے ہیں، وہ سارا بنجر ذہنی کینوس چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ قوم کو کس سمت دوڑایا جا رہا ہے، دانشوروں نے کہا ہے کہ ہم نے ایک مربوط زاویہ نگاہ کھو دیا ہے، ہم پاکستان کے شہری نہیں رہے افراد بن گئے ہیں، جو اربن ماہرین سالہا سال سے حقائق کی طرف حکمرانوں کو متوجہ کرتے رہے ان کی کسی نے نہیں سنی، کراچی، لاہور،کوئٹہ اور پشاور کے سیناریوزکی داستانیں نامہ نگاران وطن لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں، مگر سب کے ہاتھ ہر چند قلم ہوئے اورکسی نے اس سونامی کا ادراک نہیں کیا جو ملکی سیاست کی طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا، کراچی کبھی ایشیا کا خوبصورت شہر کہلاتا تھا، عروس البلاد تھا، اسی طرح لاہور کی مہمان نوازی کی غیر ملکی تعریف کرتے تھے۔
آج بھی کرتے ہیں مگر ملک کے دونوں بڑے شہروں میں گندگی، غلاظت، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور پلاسٹک بیگزکے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں، آج کچرا ان کی شناخت ہے، شہری کلچر کو تو ہمیشہ مقامی حکومتوں نے تحفظ اور خوبصورتی عطا کی ہے، تاجروں، سیاستدانوں، آرٹس کونسلوں اور این جی اوز نے کیوں انھیں تعمیر وتزئین کے قابل نہیں سمجھا، ملک کے سارے شہروں میں کرپشن کی کہانیاں ہی جلی حروف سے چھپتی ہیں، کوئی شہر آشوب ہی لکھتے،کوئی ایسا ادبی شہ پارہ کراچی کے نام سے منسوب ہو جاتا، کوئی توکہتا اور آہ بھرتا کہ ''ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے۔'' اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہندوستان کے ادبی دبستان پر قیام پاکستان کے بعد بھی یہ الزام لگتا رہا کہ
ہند کے صوت گرو، شاعرو،افسانہ نویس
آہ ! بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
نظریاتی شکست وریخت کی دلگداز کہانی ادب و تنقید اور افسانہ وناولوں میں عیاں ہے، اہل نظر پوچھتے ہیں کہ میر وغالب کے بعد جوش و فیض کا مزید ورثہ کہاں ہے، جو فنون لطیفہ میں اپنی ایک شناخت رکھتے کہاں گئے،کوئی ٹالسٹائی، کیوں پیدا نہیں ہوا، قرۃ العین حیدرکا ''آگ کا دریا'' اور عبداللہ حسین کی ''اداس نسلیں'' لکھنے والے مزید رائٹر سامنے کیوں نہیں آئے، انتظار حسین کی ادبی مشعل کون بجھانے آگیا؟ چراغ سے چراغ کیوں نہیں جلا۔ کوئی آج کے اہل فکرواستدلال سے افلاطون، ارسطو اور سقراط کی روایت یا فلسفیانہ وراثت کا ان سے مطالبہ نہیں کررہا مگر قوم جاننا چاہتی ہے کہ جدید فلسفہ میں پاکستان کا فلسفی آج کہاں کھڑا ہے۔
ہے کوئی افتادگان خاک کا لکھنے والا پاکستانی فرانزفینن،کوئی سولزے نتسن جو گولاگ لکھے؟ گورکی کی ''ماں'' جیسا ناول کون لکھے گا پھر اس کو ڈرامائی تشکیل دینے کا حوصلہ کس میں انڈیلا جائے گا، سارا سینہ گزٹ برائے ادب و سیاست کیا ہمارے عوام اور اہل فکر ونظر کا مقدر ہے، یادش بخیر ہمارے کہنہ سیاست دان تو کتابوں کے رسیا تھے، مثلاً سردار عطااللہ مینگل، سردار خیر بخش مری، نواب اکبر بگٹی، سردار شیر باز مزاری، حنیف رامے، چوہدری اعتزاز احسن، ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر۔ ہمارے درمیان کیا آج سارے عہد حاضرکے نام نہاد سیاسی سقراط باقی رہ گئے ہیں۔
وہ ایڈمنڈ برک کہیں چھپ گیا ہے اسے برطانوی پارلیمنٹ سے کون ڈھونڈے گا۔ کوئی ابن خلدون ہمارے اندر سے کب سامنے آئے گا، ابن رشد اور ابن عربی کیا صرف حواشی کے طور پر اسلام کی تاریخ کے صفحات پر جلوہ گر ہوتے رہیں گے۔ سیاست کے بے چین طالب علم ہمعصر صحافیوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیوں محمد اجمل نے ول ڈیورانٹ کی کتاب نشاط فلسفہ میں یہ حقیقت بیان کی کہ ''ہم انسانیت کے چیتھڑے ہیں،'' آج تمدن سطحی اور علم خطرناک ہے، شخصیتیں کٹی پھٹی ہیں، لاکھوں سیاست دان ہیں مگر اہل سیاست کوئی نہیں؟
دنیا اور بر صغیر کی سیاسی اور ادبی تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، جبرکے خلاف ہمیشہ ادیب ہی سینہ سپر رہے ہیں، والٹیئر نے فرانس کے لیے انسانی ضمیروآزادی کی سب سے بڑی جنگ لڑی، اور حق وصداقت کے علمبردار بن کر سینہ سپر ادیب، شاعر اور محنت کش عوام ہی رہے، جب کہ طالع آزماؤں نے ادب وتاریخ کے من پسند افسانوی اور دیومالائی کردار جنم دے کر تاریخ کا اصل بیانیہ بدل دیا،dark agesسے مستعار کردار اور افسانے بنائے، جو کردار دھرتی سے جڑے تھے انھیں نسیم حجازی اور دوسرے بے نام قلمکاروں سے لکھوایا، پوری تاریخ کے ساتھ وہی کھلواڑ ہوا جو آج کے لاپتا سیاسی کارکنوں کی کہانی ہے۔
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی
معاشرے کے مختلف طبقات سوال اٹھا رہے ہیں کہ کس بندگلی میں قوم پھنس گئی ہے،کس صحرا میں قوم سایہ دیوار مانگ رہی ہے، اسے ملکی تہذیب، معاشرت، معیشت اور مستقبل کے جمہوری اہداف اور نصب العین سے اٹھاکر دورکسی ایسے سماج کا قیدی کیوں بنا دیا گیا ہے جس کی تقدیر میں صبح سے شام تک بے مقصد سیاسی تقاریر، بیانات، الزامات اور سنہرے سیاسی خوابوں کی وحشت ناک تعبیریں سننے کو ملتی رہتی ہیں جو کسی بھی شہری کو پاگل بنانے کے لیے کافی ہیں۔
ایک ایسا سیاسی صنم کدہ تعمیر ہوا ہے جو سیاسی حقیقت پسندی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا، جہاں سیاسی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی افراط وتفریط کی گرم بازاری عروج پر ہے، جہاں مظلوم انسانیت روز قتل ہوتی ہے، چاروں طرف نفسا نفسی کا عالم ہے۔
ہر شخص ''باون گزوں'' کے شہر میں رہتا ہے اور بے شناختی کا نوحہ سناتا ہے، کبھی کبھار لگتا ہے ملکی سیاسی اسٹیج پرکسی انوکی پہلوان کا کسی انٹرنیشنل فری اسٹائل ریسلر سے مقابلہ طے ہے، کہیں کورونا سے نمٹنے کی کوشش اورکہیں کھیلوں کے ایسے مقابلے جہاں تماشائیوں کا اجتماع میں بھی ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی جاتی ہوں، منتخب ایوانوں میں سنجیدہ مکالمہ سر بہ گریباں اور پارلیمنٹیرینز مغلوب ہیں، گلیمر کا چرچا ہے، علمی گفتگو اور فنون لطیفہ کے نام پر جو شے تخلیق ہوئی اس کا کسی مربوط سیاسی نظام حیات سے کوئی تعلق نہیں۔
بھرم بازی کی افسوسناک روایت کو شہ موجودہ سیاسی دورانیے میں ملی، سنجیدہ سماجی مکالمہ روپوش ہوا، جنھیں عوام نے سماجی مسائل پر ایک بے داغ اور نڈر سماجی کارکن کا مقام دیا وہ اسی بھرم کلچر کی نذر ہوئے، معاشرہ میں وہی ڈراما ہٹ ہوا جو گل وبلبل کی کہانیوں سے شروع ہوتا ہے اور ساس بہو سے ہوتا ہوا شادی، تشدد، طلاق اورگھر پھونک تماشہ پر ختم ہوتا ہے، ہمارا ٹی وی ڈراما خوبصورت چہروں کے طبقاتی غلام گردشوں میں رومانس کا متلاشی ہے، ڈرائنگ روم ایکٹنگ جاندار ہے، مگر اس ڈراما کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کی آنچ لگے گی تو پاکستانیت کی تپش سے کندن بنے گا۔ اس وقت کا ایک اہم مسئلہ سنجیدہ مکالمہ پر بھرم بازی کے غلبہ اور رواج کا ہے، جو لوگ عوام کے مسائل پر مدلل اور مبسوط انداز فکر رکھتے تھے۔
وہ نسل کب کی ختم ہوگئی۔ اللہ انھیں غریق رحمت فرمائے،آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اس احساس زیاں کی متاع عزیزکو واپس لائیں، سیاسی کیڈر کو تنظیمی بنیاد پر سیاست کی اقدار سے منسلک کریں، سیاست جب تک اپنی نظریاتی اور فکری بنیادوں کے استحکام اور فروغ پر توجہ نہیں دے گی، سیاست پر اچھوتی، فکر انگیز اور قومی سوچ رکھنے والی باتیں کرنے والے آہستہ آہستہ غائب ہوتے جائیں گے، قوم ان ہی سیاسی چہروں کو دیکھنے پر مجبور ہوگی جن سے انھیں کبھی کوئی خیر کی بات نہیں سنی اور آیندہ بھی افق پر دھند کا خدشہ نظر آتا ہے۔
زمین وزماں تیرگی تیرگی
ارے روشنی روشنی روشنی
قفس بستہ کو حکم پرواز دے
کوئی ہے تو للہ آواز دے