لاہور ہائی کورٹ انتظامیہ کو کھوکھر پیلس خالی کرنے کا حکم
گرانے پر بھی عملدرآمد روک دیا، ڈی سی کے 18 جنوری کے حکم پر عمل درآمد معطل
سول کورٹ کے فیصلے تک حکومت معاملے میں مداخلت نہ کرے، عدالت عالیہ۔ فوٹو: فائل
لاہور ہائی کورٹ نے کھوکھر پیلس کو گرانے کے 18جنوری کے ڈی سی لاہور کے حکم پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو فوری کھوکھر پیلس خالی کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے سول کورٹ کے فیصلے تک حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو درخواست گزار کے معاملے میں مداخلت سے روک دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو سول کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
چیف جسٹس قاسم خان نے لیگی ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر کی درخواست پر سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے بادی النظر میں لگتا ہے کہ درخواستگزار کے پیلس کو ایل ڈی اے قوانین کی خلاف ورزی پر مسمار کیا گیا، کونسی قیامت آ گئی تھی کہ سول کورٹ سے حکم امتناعی کے باوجود کھوکھر پیلس گرا دیا گیا۔
کھوکھر برادران کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن بھون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے عدالتی حکم امتناعی کے باوجود کھوکھر پیلس مسمار کیا،سول عدالت نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا تھا،درخواستگزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے متعلقہ قانون طلب کر لیا جس کے تحت کھوکھر پیلس مسمار کیا گیا۔
سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار مجازعدالت میں جانے کی بجائے براہ راست یہاں آگیا۔
عدالت نے سول کورٹ کے فیصلے تک حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو درخواست گزار کے معاملے میں مداخلت سے روک دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو سول کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
چیف جسٹس قاسم خان نے لیگی ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر کی درخواست پر سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے بادی النظر میں لگتا ہے کہ درخواستگزار کے پیلس کو ایل ڈی اے قوانین کی خلاف ورزی پر مسمار کیا گیا، کونسی قیامت آ گئی تھی کہ سول کورٹ سے حکم امتناعی کے باوجود کھوکھر پیلس گرا دیا گیا۔
کھوکھر برادران کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن بھون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے عدالتی حکم امتناعی کے باوجود کھوکھر پیلس مسمار کیا،سول عدالت نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا تھا،درخواستگزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے متعلقہ قانون طلب کر لیا جس کے تحت کھوکھر پیلس مسمار کیا گیا۔
سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار مجازعدالت میں جانے کی بجائے براہ راست یہاں آگیا۔