بلدیاتی انتخابات بلوچستان حکومت سے سبق سیکھا جائے

بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کھٹائی میں پڑتا نظرآ رہا ہےاس معاملے میں الیکشن کمیشن ابھی تک خاموش ہے

بلوچستان حکومت کو داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے نا مساعد حالات کے باوجود بلدیاتی الیکشن کرا دیے ہیں۔ فوٹو:فائل

پنجاب اور سندھ میں ہائی کورٹس کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔اس معاملے میں الیکشن کمیشن ابھی تک خاموش ہے اور اس نے انتخابی شیڈول میں ردوبدل نہیں کیالیکن جو صورت حال بن گئی ہے نظر یہی آ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے لیے جنوری میں الیکشن کرانا ممکن نہیں ہوگا۔پنجاب کے وزیر بلدیات قانون اور پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ 30جنوری کو بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکتے۔عدالتی فیصلے کی روشنی میں نئی قانون سازی اور ازسرنو حلقہ بندیوں میں چار سے چھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اگر نئی مردم شماری پہلے کرانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس میں دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔ادھرسندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر نظر ثانی کرنا یا نیا شیڈول جاری کرنا سندھ حکومت کا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔ بہر حال پنجاب اور سندھ میں جنوری میں بلدیاتی الیکشن کا امکان بالکل نہیں ہے۔

اس اعتبار سے بلوچستان حکومت کو داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے نا مساعد حالات کے باوجود بلدیاتی الیکشن کرا دیے ہیں۔بلوچستان میں تمام دیگر صوبوں سے قبل بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ دولت مشترکہ نے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر حکومت بلوچستان خاص طور پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور وزیر بلدیات سردار مصطفی خان ترین کو مبارکباد دی ہے۔ دولت مشترکہ لوکل گورنمنٹ فورم کے سیکریٹری جنرل کارل رائٹ(Carl Wright) نے اس حوالے سے حکومت بلوچستان کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ آئین میں18 ویں ترمیم نے صوبوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کیے ہیں جس کے اثرات دیگر شعبوں کے علاوہ مقامی حکومتوں کے نظام میں بھی نمایاں ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ دولت مشترکہ لوکل گورنمنٹ نے مقامی حکومتوں کے نظام پر عملدرآمد کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون خاص طور سے کونسلروں کو تربیت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے پرامن انعقاد نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کے امیج کو بہتر بنایا ہے۔


یہ ایک حقیقت ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں ابھی تک اپنے اپنے صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرا سکی ہیں لیکن بلوچستان نے صوبے میں جماعتی بنیادوں پر پرامن بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے ہیں اور اس اعتبار سے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں بلوچستان دوسرے صوبوں سے بازی لے گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بعض علاقوں میں مشکلات کے باوجود سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق الیکشن کرا کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کر دیا ہے نہ صرف یہ کہ وزیر اعلیٰ کا دعویٰ درست اور بروقت ہے بلکہ وہ اس کے لیے تعریف کے مستحق ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری کی حیثیت حاصل ہے اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں جمہوریت کا پودا ابھی بہت کمزور ہے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے، اس کے تسلسل میں حائل رکاوٹوں سے نمٹنے اور خاص طور سے جمہوریت کو عام آدمی کے لیے زیادہ سے زیادہ بار آور بنانے کے لیے بلدیاتی اداروں اور نچلی سطح پر منتخب عوامی نمایندوں کا فعال کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی جمہوری حکومتوں نے آج تک بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ کسی جمہوری حکومت میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مشکل ہی سے نظر آتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتیں ان انتخابات کے انعقاد میںزیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کر رہیں۔ جب کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں موجود بلدیاتی نظام میں اصلاحات کی بناء پر تاخیر ہو رہی ہے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور ان کی حکومت نے جمہوریت کا پرچم سربلند رکھنے ، جمہوری نظام کو مستحکم کرنے، جمہوری عمل کو نچلی سطح تک لانے اور عام آدمی کی اُمور مملکت میں شراکت داری کو بڑھانے کے لیے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے جو قائدانہ کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین بھی ہے اور بقیہ صوبوں کے لیے قابل تقلید بھی۔
Load Next Story