ایوان میں نہ آنیوالے وزراگھر چلے جائیںخورشید شاہ

قومی اسمبلی میں وزراکے نہ آنے پر اراکین کا شدید احتجاج ، ڈپٹی اسپیکر بھی برہم.

قومی اسمبلی میں وزراکے نہ آنے پر اراکین کا شدید احتجاج ، ڈپٹی اسپیکر بھی برہم۔ فوٹو: فائل

لاہور:
قومی اسمبلی میں وفاقی وزراکی وقفہ سوالات میں عدم حاضری پر ڈپٹی اسپیکر نے کارروائی کیلیے منگل کو ہائوس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا۔

ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ 4 حکومتی سیاسی جماعتوں کے پاس ایک بھی وزیر خزانہ نہیں جو عبدالحفیظ شیخ سے کام لیا جارہا ہے ،وہ کبھی ایوان میں نہیں آئے ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔وقفہ سوالات کے دوران وزیر خزانہ سمیت دیگر وزراکی عدم حاضری پر اراکین نے شدید احتجاج کیا جبکہ ڈپٹی اسپیکر اورحکومتی چیف وہپ بھی برہم ہوگئے ۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ آج پھر اجلاس تاخیر سے شروع ہوا ہے ، وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ موجود نہیں ،اس حوالے سے میں وزیراعظم سے بات کروںگا۔


انھوں نے کہا کہ وزیر خزانہ ہر وقت ملک سے باہر ہوتے ہیں ،کیا حکومت میں شامل 4 اتحادی جماعتوں میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جسے وزیر خزانہ بنایاجاسکے تاکہ وہ پارلیمنٹ میں حاضر ہوسکے ۔ ڈپٹی اسپیکر کے توجہ دلانے پر خورشید شاہ نے کہا کہ جو وزراایوان میں نہیں آتے وہ گھر چلے جائیں ،صرف مراعات کے مزے نہ لیں'ایوان ان کے خلاف کارروائی کرے ہم ساتھ دیں گے،وزرا کو توایک لاکھ روپے سے بھی کم تنخواہ ملتی ہے ،انھیں کام کا شوق نہیں تو اپنا کاروبار کریں یا کوئی اور ملازمت کریں اور کروڑوں روپے کمائیں۔

اراکین اسمبلی بہت محنت سے سوالات تیارکرتے ہیں مگر وزراایوان میں آنے اور سوالات کے جوابات دینے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔دریں اثنا وزیر مملکت داخلہ امتیاز صفدر وڑائچ نے وقفہ سوالات میں بتایا کہ 2008 میں کراچی میں 104افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے ، 2009 میں 160، 2010 میں383، 2011 میں 478 جبکہ اس سال کے 8ماہ کے دوران 268شہری ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے، بلوچستان میں ایف سی کی 23پلاٹونز تعینات کی گئی ہیں ۔متحدہ کے رکن وسیم اختر نے اعتراض پر کہا کہ اس ڈیٹا میں پنجاب میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کا کوئی ذکر نہیں ۔بعد ازاں اجلاس پیرتک ملتوی کر دیا گیا۔
Load Next Story