دہشتگردی کے خاتمے کیلیے غیرمعمولی سیکیورٹی پلان بنایاجائے
ٹارگٹڈ آپریشن وچھاپہ مارکارروائیوں میں مزیدتیزی لائی جائے،آئی جی سندھ
شعبہ تفتیش کی کارکردگی کے جائزہ پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی تربیت دی جائے۔آئی جی سندھ۔ فوٹو: فائل
آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں ، تخریب کاری ، فرقہ واریت اور دیگر سنگین جرائم کے واقعات اور ملک کے دیگر صوبوں میں امن و امان کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماضی کے تجربات ، مشاہدات اور کرائم انالیسز کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور سال2014کے لیے مربوط و موثر حکمت عملی و لائحہ عمل پر مشتمل غیر معمولی سیکیورٹی پلان تیار کیا جائے۔
جس کے تحت انٹیلی جینس کلیکشن شیئرنگ سمیت پولیس وائرلیس نظام کو مزید تقویت دینے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ فوری اور بروقت پولیس ایکشن کے ذریعے ممکنہ ہنگامی صورتحال کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے ، آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے جاری کی گئی مزید ہدایات میں پولیس افسران پر زور دیا کہ مقدمات اور باالخصوص سنگین جرائم سے متعلق کرائم سین کے تحفظ شہادتوں کو اکھٹا کرنے جائے وقوع پرگواہان کے بیانات لینے جیسے دیگر ضروری امور میں شعبہ تفتیش کی کارکردگی کے جائزہ پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی تربیت دی جائے۔
تاکہ ایسے مقدمات کی تفتیش کومنطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے ملوث ملزمان کو نا صرف سخت سزاؤں کے عمل بلکہ ایسے گروہوں کے حوصلے بھی پست کیے جاسکیں،سیکیورٹی منصوبے کے تحت جرائم کے واقعات سے متاثرہ علاقوں میں پولیس ٹارگٹڈ آپریشن وچھاپہ مار کارروائیوں میں مزید تیزی لانے سمیت دستیاب وسائل و افرادی قوت کے استعمال کو موثر بنانے کیلیے بھی ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔
جس کے تحت انٹیلی جینس کلیکشن شیئرنگ سمیت پولیس وائرلیس نظام کو مزید تقویت دینے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ فوری اور بروقت پولیس ایکشن کے ذریعے ممکنہ ہنگامی صورتحال کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے ، آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے جاری کی گئی مزید ہدایات میں پولیس افسران پر زور دیا کہ مقدمات اور باالخصوص سنگین جرائم سے متعلق کرائم سین کے تحفظ شہادتوں کو اکھٹا کرنے جائے وقوع پرگواہان کے بیانات لینے جیسے دیگر ضروری امور میں شعبہ تفتیش کی کارکردگی کے جائزہ پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی تربیت دی جائے۔
تاکہ ایسے مقدمات کی تفتیش کومنطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے ملوث ملزمان کو نا صرف سخت سزاؤں کے عمل بلکہ ایسے گروہوں کے حوصلے بھی پست کیے جاسکیں،سیکیورٹی منصوبے کے تحت جرائم کے واقعات سے متاثرہ علاقوں میں پولیس ٹارگٹڈ آپریشن وچھاپہ مار کارروائیوں میں مزید تیزی لانے سمیت دستیاب وسائل و افرادی قوت کے استعمال کو موثر بنانے کیلیے بھی ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔