حکومت سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے چاہتی ہے تو پورا پیکج لائے سعد رفیق

حساس ادارے کبھی ہمارا نشانہ نہیں رہے، حکمت عملی کے تحت زگ زیگ کرنا پڑتا ہے جو یوٹرن سے الگ ہے، مشترکہ پریس کانفرنس

ن لیگ کے قائدین نے ماڈل ٹاؤن میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں حکومت کو گھر بھیجنے کے عزم کا اعادہ کیا(فوٹو، فائل)

مسلم لیگ ن نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

ماڈل ٹاؤن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں سعد رفیق نے کہا کہ ساتھیوں کو ڈرایا جارہا ہے، کھوکھر برادران کے گھروں کو گرادیا گیا۔ ن لیگ کے رہنماؤں کے نام چن چن کر کرپشن کی فہرستوں میں ڈالے جارہے ہیں۔ کرپشن کا چورن اب نہیں بکے گا۔ بزدل سرکاری اہل کار چار آنے کی نوکری کے لیے حکومت کے آلہ کار بن گئے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کھوکھر برادران کے گھر گرانے والے ڈی ایس پی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ سیالکوٹ میں منظور شدہ اسکیم کا آفس گرادیا گیا۔ جو شخص ظلم کرے گا وہ اپنے انجام تک پہنچے گا۔ حکمراں صرف یہ چاہتے ہیں کہ مخالفین ختم ہوجائیں، ان شااللّٰہ پی ڈی ایم اور ہم ختم نہیں ہوں گے۔

سعد رفیق نے کہا آپ کرپٹ اور بزدل افسروں کو تعینات کر رہے ہیں جو افسران ظلم ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ بھی دیانتدار نہیں رہے۔ یہ دور زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔ حکومت ملکی اداروں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ضمنی انتخابات میں چند دن رہ گئے ہیں، تو ہمارے ساتھیوں کو ڈرایا جارہا ہے۔ جس ٹرانسپرنسی کا حوالہ دیتے نہیں تھکتے تھے اس نے اب آپ کا منہ کالا کردیا،مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے بغض میں ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

انہوں نے کہا آئندہ حکمت عملی کا اعلان پی ڈی ایم کرے گی،عوامی کی سونامی کی شکل میں موجود عذاب سے جان چھڑانی ہے۔ مسلم لیگ ن کا نشانہ کبھی بھی حساس ادارے نہیں رہے تاہم بعض اوقات ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے حالات کنٹرول میں نہیں رہے۔


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا آصف علی زرداری ہمارے لیے قابل احترام اوربڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں،میں اور آصف زرداری سیاسی قیدی بھائی بھی ہیں،میں ان کے خلاف کچھ نہیں کہوں گا، مسلم لیگ ن کاموقف ہے کہ حکومت الیکشن ریفارمز کا پیکج لے کر آئے اس پراپوزیشن سے مشاورت کرے۔ اگر آپ اپنے چند وزرا کوبچانے کے لیے تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ایسا نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں اگراوپن بیلٹنگ چاہتے ہیں تو پورا ریفارمزپیکج لائیں۔ حکومت تسلی رکھے اس کو ضرور گھر بھیجیں گے۔ منتخب حکومت کو مدت پوری کرنی چاہئیے سلیکٹڈ کو نہیں۔ چند لوگوں کو بچانے کے لئے کی جانے والی قانون سازی میں تعاون نہیں کر سکتے۔

سردار ایاز صادق کاکہناتھاکہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل نے حکومت کو کرپٹ ترین قرار دے دیاہے۔ہمارا ٹارگٹ واضح ہے،عمران خان کرکٹ کی بات کرتے ہیں ہم ہاکی کھیل رہے ہیں ہماراگول واضح ہے۔ مسلم لیگ ن اب نیب کے قوانین کو تبدیل نہیں کرنا چاہتی، ہم نے توبھگت لیا اب یہ بھگتنے کے لیے تیارہوجائیں۔ جب اللہ تعالی کی لاٹھی چلے گی تو پوری دنیا دیکھے گی۔ ہم سب نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

زگ زیگ اور یوٹرن میں فرق

سعد رفیق نے کہا کہ ہم سلیکٹڈ کی مدت پوری نہیں ہونے دیں گے۔ ہمارا ٹارگٹ سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھیجنا ہے، ہمارا ہدف واضح ہے، حکمت عملی کے تحت سیدھاجانے کی بجائے کبھی زگ زیگ بھی کرنا پڑتا ہے، یوٹرن اورزگ زیگ میں فرق ہوتاہے۔
Load Next Story