مہنگائی پٹرول بم اور عوامی تاثرات
ملکی اقتصادی تاریخ نے گزرے 72 سالوں میں ماہرین اقصادیات کی زبانی یہی سنا کہ مہنگائی میں کمی جادوکی چھڑی سے نہیں ہوگی۔
ملکی اقتصادی تاریخ نے گزرے 72 سالوں میں ماہرین اقصادیات کی زبانی یہی سنا کہ مہنگائی میں کمی جادوکی چھڑی سے نہیں ہوگی۔ فوٹو:فائل
وزیر اعظم عمران خان نے ایک ماہ میں تیسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی ہے۔ پٹرول2.70 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.88، مٹی کا تیل3.54 اور لائٹ ڈیزل 3 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق اتوار کی رات12بجے سے ہو گیا۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 111.90روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل116.07، مٹی کا تیل80.19، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 79.23روپے فی لیٹر ہوگئی۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی مجوزہ سفارشات کے برعکس عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم سے کم اضافے کی منظوری دی۔
ملکی اقتصادیات اور مہنگائی میں کمی کی جو دل خوش کن اطلاعات عوام تک پہنچ رہی ہیں وہ بادی النظر میں مہنگائی میں کمی کے خوش آیند منظر نامہ کی نوید دے رہی ہیں، حکومت کے مطابق عوام کو ملکی معیشت کے استحکام کا براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے، حکومت نے عوام کو کھانے پینے کی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے موثر اقدامات کیے اور وزرا، معاونین و مشیروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ عوام کو ہر قیمت پر مہنگائی سے نجات دلانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری طرف عوام کے بجٹ کو غیر متوازن رکھنے کا سبب بننے والی مارکیٹ فورسز پر چیک رکھنے اور مافیاؤں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی نتیجہ خیز کارروائی سے عوام کو پہلی بار مارکیٹ میں اشیائے خور ونوش کے داموں میں کمی سے دلی مسرت ہوئی، ان کے چہرے کھل اٹھے، حکومتی اقدامات کی مانیٹرنگ پر مامور اداروں نے مہنگائی میں کمی کے اسباب کو مارکیٹ اکاؤنٹیبلیٹی کے میکنزم میں بنیادی تبدیلی قرار دیا ہے اور اس بات کا یقین دلایا کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کا موجودہ حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ مہنگائی بہت بڑا چیلنج ہے۔
دوسری جانب عوام ایک دلچسپ اور حیرت انگیز تجربہ سے دوچار ہیں، ایک طرف انھیں مہنگائی میں معتدبہ کمی کی خوشخبری ملی ہے تو دوسری جانب تیسری بار پٹرول بم پھینکے جانے پر ان کی چیخیں نکل رہی ہیں، پٹرول پموں پر موٹر سائیکل سوار،کاروں میں پٹرول بھرتے ہوئے شہری اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رہے، مہنگائی کے کنٹرول کے اعلانات پر ملے جلے جذبات کا اظہارکرتے دکھائی دیے، خواتین، عمر رسیدہ لوگ اور مزدور پیش لوگ شدید اضطراب میں نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی اور عوام کی آمدنی یا گھریلو بجٹ، کا معیشت سے گہرا تعلق ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں ایک دو روپے اضافے پر حکومت کیے خلاف عوام احتجاجاً سڑکوں پر نکلتے تھے، لیکن اب عوام ہر ستم چپکے سے سہتے ہیں اور مہنگائی پر صرف کڑھتے رہتے ہیں۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو درحقیقت عالمی اقتصادی عوامل، غربت، امیری وغریبی میں تفاوت اور وقت کےperception اور تصور پر غوروفکر کی ضرورت ہے، ارباب حکومت یہ بھی خیال رکھیں کہ دولت مند ہونا اب چند بااثرخاندانوں کی تعیشات کا مسئلہ نہیں، بلکہ آج کی دنیا امیری اورغریبی میں تقسیم ہونے کی ہولناک تصویر پیش کرتی ہے۔
امن و ڈیٹیرنس کے لیے ان ملکوں کو اربوں کے ہلاکت خیز مہلک اسلحے کے ڈھیر لگانے پڑتے ہیں جب کہ دنیا میں غربت، تنگدستی اور جنگوں کے باعث انسانیت زخموں سے چور ہے، کورونا کی بات کیجیے تو آج دنیا کی مضبوط معیشتیں، گلوبل کلچر، صحت کے ادارے، انفرااسٹرکچر اور کاروبار ٹھپ، مزدور بیروزگار تیسری دنیا کشکول بدست، ہے، پہلی بار اس راز سے پردہ ہٹایا گیا کہ دنیا کو جنگ اور امن کے بیچ اب غربت کے نو گو ایریاز میں امیروں کی ساری دولت بانٹنا ہوگی اور اس کے لیے ایک بڑے غیر استحصالی معاشی نظام کی بنیاد رکھنا ہوگی۔
غربت، بیماری، تنگدستی، قحط، بھوک اور پسماندگی نے انسانیت کے مسائل میں اضافہ کیا ہے، مہنگائی سطحی اور عارضی اقدامات سے کم تو ہوگی لیکن اس عفریت کے خاتمہ کے لیے حکومت پناہ گاہوں اور گزر بسرکے لیے نقد سپورٹ اور ایڈ ہاک ازم یا ایمرجنسی امدادی پروگرام پر انحصار سے آگے کا سوچے۔ ملک کو ایک ہمہ جہتی گرینڈ اورٹارگٹڈ صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم عمران خان خود اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہمارا انتخابی سیاسی سسٹم پانچ سالہ منصوبہ بندی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا، قوم کو اس محدود معاشی واقتصادی سسٹم سے ترقی نہیں دی جاسکتی۔ ماہرین معاشیات کو سوچنا چاہیے کہ وزیراعظم گزشتہ دنوں وقفہ وقفہ سے معاشی منصوبہ بندیوں میں دشواری اور محدودات اور مشکل میں پھنسے سماجی اور سیاسی نظام سے نکلنے کی تجاویز دیتے رہے ہیں، کورونا ایک دل گداز حقیقت ہے، ویکسین کی آمد ایک پر مسرت اطلاع ہے لیکن ویکسین کورونا کے مصائب اور مسائل کا حل نہیں، بل گیٹس کا کہنا ہے کہ دنیا اگلے وائرس کی تیاریاں کرے، سوال یہ ہے کہ کورونا سے پاکستان کے غریب کو کیا کیا نہ ستم دل پر سہنے پڑے، کورونا نے عوام پر معاشی عذاب مسلط کیے۔
دنیا کو ہلا کررکھ دیا، بڑے بڑے ترقی یافتہ ملک مجبوری کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں لہٰذا حکومت کو مہنگائی سے آگے جہاں اور بھی ہیں کا نعرہ لے کر پیش قدمی کرنا ہوگی۔ جن گھروں میں روشنی نہیں وہاں موم بتیاں جلانے سے ترقی کے شادیانے نہیں بجانے چاہئیں، بہرحال خوشی کی بات ہے کہ مہنگائی کا زور ٹوٹا ہے، مگر یہ جنگ ابھی جاری ہے، اقتصادی اور معاشی عوامل کی ستیزہ کاری سیاسی واقتصادی کشمکش کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ آج کی دنیا میں وہی قومیں طاقت اور استحکام کے جھنڈے گاڑتی ہیں جن کی معیشت اور تجارتی وسعتیں فیصلہ کن پیش رفت پر یقین رکھتی ہیں، حکمران سیاسی بصیرت، حکمت عملی اور دوراندیشی سے کام لیں، سیاسی ٹمپریچر نیچے لائیں، الفاظ کی لا حاصل گولہ باری اور سیاسی شہ سوار اپنی اداؤں پر بھی ذرا غورکریں۔
عوام کو زندگی کے ہر شعبہ میں ایک بریک تھرو چاہیے، ایسی ترقی وخوشحالی چاہیے جسے ڈھونڈھنے کے لیے چراغ لے کر بازار میں نہ نکلنا پڑے۔ ہر پاکستانی کو ترقی، مستقبل کی پیش قدمی اور مقدرکی کایا پلٹ کا خود اندازہ ہے کسی کو اسے کہنے کی ضرورت نہ پڑے کہ اٹھو زمانہ بدل گیا ہے، تمہاری قسمت بھی بدل گئی ہے، پاکستان نے کروٹ لی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کی حکومتی کوششیں بہترین نتائج لارہی ہیں، قیمتیں آج اس سطح سے بھی نیچے آگئی ہیں جو 2018 میں ہماری حکومت آنے کے وقت تھیں۔ اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس اورکور اِنفلیشن اس وقت نچلی ترین سطح پر ہیں۔ انھوں نے اپنی معاشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ محتاط رہیں اور یقینی بنائیں کہ مہنگائی پرکنٹرول برقرار رہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشی شعبے کے حوالے سے مزید اچھی خبریں آرہی ہیں۔
وزیر اعظم کو بھیجی جانے والی سمری میں پٹرول کی قیمت میں13.18روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں12.12 روپے، مٹی کے تیل میں 11.10روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں6.62 روپے فی لیٹر اضافہ تجویز کیا گیا تھا تاہم وزیرِ اعظم نے عوامی مفاد کے پیشِ نظر پٹرول کی قیمت میں صرف2.70 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں2.88روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں3.54روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 3روپے فی لیٹر کا اضافہ کرنے کی اجازت دی۔ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں آیندہ پندرہ روز تک نافذ رہیں گی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے خوراک اور جلد خراب ہونے والی اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل سپلائی کے نتیجے میں اس سال جنوری میں افراط زرکی شرح 5.7 فیصد پر آگئی ہے جوگزشتہ دو برسوں میں سب سے کم ہے۔ گزشتہ سال کے اسی ماہ (جنوری) میں افراط زرکی شرح 14.6 فیصد تھی۔ اسد عمرکا کہنا ہے کہ یہ لگا تار چوتھا مہینہ ہے جب افراط زر میں کمی آئی ہے۔ افراط زر کی5.7 فیصد کی موجودہ شرح اس وقت سے بھی کم ہے جب جولائی 2018کے انتخابات میں موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تھی۔
جب پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس سے قبل قیمتوں کے اعشاریے (سی پی آئی انڈیکس) 5.8 فیصد اور افراط زرکی مجموعی شرح7.6 فیصد تھی۔ گزشتہ 14 برسوں میں 9 بار جنوری کے مہینے میں افراط زر سنگل ڈیجٹ میں رہا ہے۔ گزشتہ ماہ اس میں 2.2 فیصد کمی ہوئی ہے جو گزشتہ 10 ماہ کے دوران سب سے زیادہ کمی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جنوری 2019 میں افراط زرکی شرح 5.6 فیصد تھی، نومبر2018 میں یہ شرح 5.7 ہوگئی تھی۔
نومبر2018 میں جب پی ٹی آئی کی حکومت نے 1.1 ملین ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تو ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا۔ واضح رہے کہ حکومت نے اسی ماہ (جنوری) میں ہی آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی کی قیمتوں میں 17 فیصد یا 1.95 فی یونٹ اضافہ کیا ہے تاکہ عالمی ادارے کے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کو بحال کرایا جاسکے۔
ملکی اقتصادی تاریخ نے گزرے 72 سالوں میں ماہرین اقصادیات کی زبانی یہی سنا کہ مہنگائی میں کمی جادوکی چھڑی سے نہیں ہوگی، اس کے لیے معیشت اور اقتصادی نظام کی جھلک عوام کو شاپنگ مالز، بازاروں، ٹھیلوں، پتھاروں، دکانوں، بچت بازاروں میں ہو تو لوگ اسے تبدیلی کہیں گے، سبزیاں عام آدمی کی دسترس میں ہوں، پیاز، لہسن، ادرک، آلو، لوکی، کدو، آٹا، چینی، گھی، دال، مصالحے سب کے لیے ارزاں جب کہ قرضوں کا بوجھ و حکومتی اخراجات میں کمی، کرپشن کی انسدادی کوششوں کے باعث شفاف انتظامی معاملات کا طرہ امتیاز ہو، ملک خرید وفروخت کا سافٹ امیج ابھارنے میں فخر محسوس کرے۔ یہی وہ وقت ہوگا جب کسی غریب الوطن پاکستانی کو اپنی زندگی میں تبدیلی پر ناز ہوگا۔
کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیازکرے
نیازمند نہ کیوں عاجزی پہ نازکرے
قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 111.90روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل116.07، مٹی کا تیل80.19، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 79.23روپے فی لیٹر ہوگئی۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی مجوزہ سفارشات کے برعکس عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم سے کم اضافے کی منظوری دی۔
ملکی اقتصادیات اور مہنگائی میں کمی کی جو دل خوش کن اطلاعات عوام تک پہنچ رہی ہیں وہ بادی النظر میں مہنگائی میں کمی کے خوش آیند منظر نامہ کی نوید دے رہی ہیں، حکومت کے مطابق عوام کو ملکی معیشت کے استحکام کا براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے، حکومت نے عوام کو کھانے پینے کی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے موثر اقدامات کیے اور وزرا، معاونین و مشیروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ عوام کو ہر قیمت پر مہنگائی سے نجات دلانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری طرف عوام کے بجٹ کو غیر متوازن رکھنے کا سبب بننے والی مارکیٹ فورسز پر چیک رکھنے اور مافیاؤں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی نتیجہ خیز کارروائی سے عوام کو پہلی بار مارکیٹ میں اشیائے خور ونوش کے داموں میں کمی سے دلی مسرت ہوئی، ان کے چہرے کھل اٹھے، حکومتی اقدامات کی مانیٹرنگ پر مامور اداروں نے مہنگائی میں کمی کے اسباب کو مارکیٹ اکاؤنٹیبلیٹی کے میکنزم میں بنیادی تبدیلی قرار دیا ہے اور اس بات کا یقین دلایا کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کا موجودہ حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ مہنگائی بہت بڑا چیلنج ہے۔
دوسری جانب عوام ایک دلچسپ اور حیرت انگیز تجربہ سے دوچار ہیں، ایک طرف انھیں مہنگائی میں معتدبہ کمی کی خوشخبری ملی ہے تو دوسری جانب تیسری بار پٹرول بم پھینکے جانے پر ان کی چیخیں نکل رہی ہیں، پٹرول پموں پر موٹر سائیکل سوار،کاروں میں پٹرول بھرتے ہوئے شہری اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رہے، مہنگائی کے کنٹرول کے اعلانات پر ملے جلے جذبات کا اظہارکرتے دکھائی دیے، خواتین، عمر رسیدہ لوگ اور مزدور پیش لوگ شدید اضطراب میں نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی اور عوام کی آمدنی یا گھریلو بجٹ، کا معیشت سے گہرا تعلق ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں ایک دو روپے اضافے پر حکومت کیے خلاف عوام احتجاجاً سڑکوں پر نکلتے تھے، لیکن اب عوام ہر ستم چپکے سے سہتے ہیں اور مہنگائی پر صرف کڑھتے رہتے ہیں۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو درحقیقت عالمی اقتصادی عوامل، غربت، امیری وغریبی میں تفاوت اور وقت کےperception اور تصور پر غوروفکر کی ضرورت ہے، ارباب حکومت یہ بھی خیال رکھیں کہ دولت مند ہونا اب چند بااثرخاندانوں کی تعیشات کا مسئلہ نہیں، بلکہ آج کی دنیا امیری اورغریبی میں تقسیم ہونے کی ہولناک تصویر پیش کرتی ہے۔
امن و ڈیٹیرنس کے لیے ان ملکوں کو اربوں کے ہلاکت خیز مہلک اسلحے کے ڈھیر لگانے پڑتے ہیں جب کہ دنیا میں غربت، تنگدستی اور جنگوں کے باعث انسانیت زخموں سے چور ہے، کورونا کی بات کیجیے تو آج دنیا کی مضبوط معیشتیں، گلوبل کلچر، صحت کے ادارے، انفرااسٹرکچر اور کاروبار ٹھپ، مزدور بیروزگار تیسری دنیا کشکول بدست، ہے، پہلی بار اس راز سے پردہ ہٹایا گیا کہ دنیا کو جنگ اور امن کے بیچ اب غربت کے نو گو ایریاز میں امیروں کی ساری دولت بانٹنا ہوگی اور اس کے لیے ایک بڑے غیر استحصالی معاشی نظام کی بنیاد رکھنا ہوگی۔
غربت، بیماری، تنگدستی، قحط، بھوک اور پسماندگی نے انسانیت کے مسائل میں اضافہ کیا ہے، مہنگائی سطحی اور عارضی اقدامات سے کم تو ہوگی لیکن اس عفریت کے خاتمہ کے لیے حکومت پناہ گاہوں اور گزر بسرکے لیے نقد سپورٹ اور ایڈ ہاک ازم یا ایمرجنسی امدادی پروگرام پر انحصار سے آگے کا سوچے۔ ملک کو ایک ہمہ جہتی گرینڈ اورٹارگٹڈ صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم عمران خان خود اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہمارا انتخابی سیاسی سسٹم پانچ سالہ منصوبہ بندی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا، قوم کو اس محدود معاشی واقتصادی سسٹم سے ترقی نہیں دی جاسکتی۔ ماہرین معاشیات کو سوچنا چاہیے کہ وزیراعظم گزشتہ دنوں وقفہ وقفہ سے معاشی منصوبہ بندیوں میں دشواری اور محدودات اور مشکل میں پھنسے سماجی اور سیاسی نظام سے نکلنے کی تجاویز دیتے رہے ہیں، کورونا ایک دل گداز حقیقت ہے، ویکسین کی آمد ایک پر مسرت اطلاع ہے لیکن ویکسین کورونا کے مصائب اور مسائل کا حل نہیں، بل گیٹس کا کہنا ہے کہ دنیا اگلے وائرس کی تیاریاں کرے، سوال یہ ہے کہ کورونا سے پاکستان کے غریب کو کیا کیا نہ ستم دل پر سہنے پڑے، کورونا نے عوام پر معاشی عذاب مسلط کیے۔
دنیا کو ہلا کررکھ دیا، بڑے بڑے ترقی یافتہ ملک مجبوری کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں لہٰذا حکومت کو مہنگائی سے آگے جہاں اور بھی ہیں کا نعرہ لے کر پیش قدمی کرنا ہوگی۔ جن گھروں میں روشنی نہیں وہاں موم بتیاں جلانے سے ترقی کے شادیانے نہیں بجانے چاہئیں، بہرحال خوشی کی بات ہے کہ مہنگائی کا زور ٹوٹا ہے، مگر یہ جنگ ابھی جاری ہے، اقتصادی اور معاشی عوامل کی ستیزہ کاری سیاسی واقتصادی کشمکش کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ آج کی دنیا میں وہی قومیں طاقت اور استحکام کے جھنڈے گاڑتی ہیں جن کی معیشت اور تجارتی وسعتیں فیصلہ کن پیش رفت پر یقین رکھتی ہیں، حکمران سیاسی بصیرت، حکمت عملی اور دوراندیشی سے کام لیں، سیاسی ٹمپریچر نیچے لائیں، الفاظ کی لا حاصل گولہ باری اور سیاسی شہ سوار اپنی اداؤں پر بھی ذرا غورکریں۔
عوام کو زندگی کے ہر شعبہ میں ایک بریک تھرو چاہیے، ایسی ترقی وخوشحالی چاہیے جسے ڈھونڈھنے کے لیے چراغ لے کر بازار میں نہ نکلنا پڑے۔ ہر پاکستانی کو ترقی، مستقبل کی پیش قدمی اور مقدرکی کایا پلٹ کا خود اندازہ ہے کسی کو اسے کہنے کی ضرورت نہ پڑے کہ اٹھو زمانہ بدل گیا ہے، تمہاری قسمت بھی بدل گئی ہے، پاکستان نے کروٹ لی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کی حکومتی کوششیں بہترین نتائج لارہی ہیں، قیمتیں آج اس سطح سے بھی نیچے آگئی ہیں جو 2018 میں ہماری حکومت آنے کے وقت تھیں۔ اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس اورکور اِنفلیشن اس وقت نچلی ترین سطح پر ہیں۔ انھوں نے اپنی معاشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ محتاط رہیں اور یقینی بنائیں کہ مہنگائی پرکنٹرول برقرار رہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشی شعبے کے حوالے سے مزید اچھی خبریں آرہی ہیں۔
وزیر اعظم کو بھیجی جانے والی سمری میں پٹرول کی قیمت میں13.18روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں12.12 روپے، مٹی کے تیل میں 11.10روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں6.62 روپے فی لیٹر اضافہ تجویز کیا گیا تھا تاہم وزیرِ اعظم نے عوامی مفاد کے پیشِ نظر پٹرول کی قیمت میں صرف2.70 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں2.88روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں3.54روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 3روپے فی لیٹر کا اضافہ کرنے کی اجازت دی۔ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں آیندہ پندرہ روز تک نافذ رہیں گی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے خوراک اور جلد خراب ہونے والی اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل سپلائی کے نتیجے میں اس سال جنوری میں افراط زرکی شرح 5.7 فیصد پر آگئی ہے جوگزشتہ دو برسوں میں سب سے کم ہے۔ گزشتہ سال کے اسی ماہ (جنوری) میں افراط زرکی شرح 14.6 فیصد تھی۔ اسد عمرکا کہنا ہے کہ یہ لگا تار چوتھا مہینہ ہے جب افراط زر میں کمی آئی ہے۔ افراط زر کی5.7 فیصد کی موجودہ شرح اس وقت سے بھی کم ہے جب جولائی 2018کے انتخابات میں موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تھی۔
جب پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس سے قبل قیمتوں کے اعشاریے (سی پی آئی انڈیکس) 5.8 فیصد اور افراط زرکی مجموعی شرح7.6 فیصد تھی۔ گزشتہ 14 برسوں میں 9 بار جنوری کے مہینے میں افراط زر سنگل ڈیجٹ میں رہا ہے۔ گزشتہ ماہ اس میں 2.2 فیصد کمی ہوئی ہے جو گزشتہ 10 ماہ کے دوران سب سے زیادہ کمی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جنوری 2019 میں افراط زرکی شرح 5.6 فیصد تھی، نومبر2018 میں یہ شرح 5.7 ہوگئی تھی۔
نومبر2018 میں جب پی ٹی آئی کی حکومت نے 1.1 ملین ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تو ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا۔ واضح رہے کہ حکومت نے اسی ماہ (جنوری) میں ہی آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی کی قیمتوں میں 17 فیصد یا 1.95 فی یونٹ اضافہ کیا ہے تاکہ عالمی ادارے کے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کو بحال کرایا جاسکے۔
ملکی اقتصادی تاریخ نے گزرے 72 سالوں میں ماہرین اقصادیات کی زبانی یہی سنا کہ مہنگائی میں کمی جادوکی چھڑی سے نہیں ہوگی، اس کے لیے معیشت اور اقتصادی نظام کی جھلک عوام کو شاپنگ مالز، بازاروں، ٹھیلوں، پتھاروں، دکانوں، بچت بازاروں میں ہو تو لوگ اسے تبدیلی کہیں گے، سبزیاں عام آدمی کی دسترس میں ہوں، پیاز، لہسن، ادرک، آلو، لوکی، کدو، آٹا، چینی، گھی، دال، مصالحے سب کے لیے ارزاں جب کہ قرضوں کا بوجھ و حکومتی اخراجات میں کمی، کرپشن کی انسدادی کوششوں کے باعث شفاف انتظامی معاملات کا طرہ امتیاز ہو، ملک خرید وفروخت کا سافٹ امیج ابھارنے میں فخر محسوس کرے۔ یہی وہ وقت ہوگا جب کسی غریب الوطن پاکستانی کو اپنی زندگی میں تبدیلی پر ناز ہوگا۔
کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیازکرے
نیازمند نہ کیوں عاجزی پہ نازکرے