ملکی تاریخ میں پہلی بار طیارہ اترنے سے قبل سامان کی کلیئرنس شروع
کراچی ایئرپورٹ پر پروجیکٹ شروع کردیا، جلد دائرہ کار دیگر شہروں کے ایئرپورٹ تک وسیع کردیں گے، چیف کلکٹر کسٹم
کراچی ایئرپورٹ پر پروجیکٹ شروع کردیا، جلد دائرہ کار دیگر شہروں کے ایئرپورٹ تک وسیع کردیں گے، چیف کلکٹر کسٹم (فوٹو: فائل)
ISLAMABAD:
ملکی تاریخ میں پہلی بار کراچی ایئر پورٹ پر جہاز لینڈنگ سے قبل گڈز کلیئرنس کا پروجیکٹ ''کسٹم کلیئرنس ان دا اسکائی'' شروع کردیا گیا۔
کسٹم حکام کے مطابق یہ پروجیکٹ وزیراعظم پاکستان کی منظوری سے شروع کیا گیا ہے جو ملک کے دیگر ائیر پورٹس پر بھی جلد شروع کیا جائے گا، درآمد و برآمد کنندگان قبل ازوقت کاغذی کارروائی مکمل کرسکیں گے، کورونا ویکسین برآمد کے کا عمل بھی آسان اور تیز رفتار ہو جائے گا۔
اس حوالے سے چیف کلکٹر کسٹم سیف الدین جونیجو نے کراچی ائرپورٹ کے قریب واقع ہوٹل میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تجارت کے فروغ اور تیز رفتار کلیئرنس کے لیے اس پروجیکٹ سے فائدہ ہوگا، طیارے کے لینڈ ہونے سے پہلے گڈز کی کلیئرنس ہوجائے گی، پہلے مرحلے میں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایرپورٹ پر ''کسٹمز کلیئرنس ان دا اسکائی'' کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے۔
کلکٹر کسٹم نے بتایا کہ مذکورہ پروجیکٹ میں وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ کسٹم نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں تجارتی شعبے میں بہتری کے لیے درآمدات و برآمدت میں سہولیات فراہم کرنا ہے اور یہ منصوبہ بھی وزیر اعظم کی منظوری سے شروع کیا گیا ہے، دوسرے مرحلے میں تین ماہ کے اندر ملک کے تمام ائیرپورٹس یہ سہولت فراہم کر دی جائے گی۔
سیف الدین جونیجو نے کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ میں تین کمپنیوں کی گڈز کو پروجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے، پی آئی اے، قطر ائیر ویز اور شاہین ایئرپورٹ سروسز کو پروجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے، اس پروجیکٹ کو بندرگاہوں پر بھی جلد شروع کر دیا جائے گا، پہلے مرحلے میں ادویات، پیراشبل آئٹمز اور کم قیمت کی مصنوعات کو شامل کیا گیا ہے۔
چیف کلکٹر کسٹم ںے مزید کہا کہ اس پروجیکٹ سے کووڈ ویکسین کی کلیئرنس بھی تیز ترین ہوجائے گی، چند ماہ میں کسٹم کی آٹو میشن بہت جدید ہوجائے گی، کسٹم کو جدید کرنے کے لیے نئے سافٹ اور ہارڈ ویئرز خریدے جارہے ہیں۔
ملکی تاریخ میں پہلی بار کراچی ایئر پورٹ پر جہاز لینڈنگ سے قبل گڈز کلیئرنس کا پروجیکٹ ''کسٹم کلیئرنس ان دا اسکائی'' شروع کردیا گیا۔
کسٹم حکام کے مطابق یہ پروجیکٹ وزیراعظم پاکستان کی منظوری سے شروع کیا گیا ہے جو ملک کے دیگر ائیر پورٹس پر بھی جلد شروع کیا جائے گا، درآمد و برآمد کنندگان قبل ازوقت کاغذی کارروائی مکمل کرسکیں گے، کورونا ویکسین برآمد کے کا عمل بھی آسان اور تیز رفتار ہو جائے گا۔
اس حوالے سے چیف کلکٹر کسٹم سیف الدین جونیجو نے کراچی ائرپورٹ کے قریب واقع ہوٹل میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تجارت کے فروغ اور تیز رفتار کلیئرنس کے لیے اس پروجیکٹ سے فائدہ ہوگا، طیارے کے لینڈ ہونے سے پہلے گڈز کی کلیئرنس ہوجائے گی، پہلے مرحلے میں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایرپورٹ پر ''کسٹمز کلیئرنس ان دا اسکائی'' کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے۔
کلکٹر کسٹم نے بتایا کہ مذکورہ پروجیکٹ میں وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ کسٹم نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں تجارتی شعبے میں بہتری کے لیے درآمدات و برآمدت میں سہولیات فراہم کرنا ہے اور یہ منصوبہ بھی وزیر اعظم کی منظوری سے شروع کیا گیا ہے، دوسرے مرحلے میں تین ماہ کے اندر ملک کے تمام ائیرپورٹس یہ سہولت فراہم کر دی جائے گی۔
سیف الدین جونیجو نے کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ میں تین کمپنیوں کی گڈز کو پروجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے، پی آئی اے، قطر ائیر ویز اور شاہین ایئرپورٹ سروسز کو پروجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے، اس پروجیکٹ کو بندرگاہوں پر بھی جلد شروع کر دیا جائے گا، پہلے مرحلے میں ادویات، پیراشبل آئٹمز اور کم قیمت کی مصنوعات کو شامل کیا گیا ہے۔
چیف کلکٹر کسٹم ںے مزید کہا کہ اس پروجیکٹ سے کووڈ ویکسین کی کلیئرنس بھی تیز ترین ہوجائے گی، چند ماہ میں کسٹم کی آٹو میشن بہت جدید ہوجائے گی، کسٹم کو جدید کرنے کے لیے نئے سافٹ اور ہارڈ ویئرز خریدے جارہے ہیں۔