منافقانہ تقاریر سن کر مسئلہ فرانس ہرگز نہیں بھولیں گے تحریک لبیک

درمیانی راستہ صرف یہی ہے کہ فرانس کا سفیر ملک بدر کیا جائے، ورنہ سیدھا راستہ تو فرانس کے خلاف اعلان جہاد ہے، سعد رضوی

درمیانی راستہ صرف یہی ہے کہ فرانس کا سفیر ملک بدر کیا جائے، ورنہ سیدھا راستہ تو فرانس کے خلاف اعلان جہاد ہے، سعد رضوی (فوٹو : فائل)

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کا کہنا ہے کہ اب قوم منافقانہ تقاریر سُن کر کشمیر کی طرح مسئلہ فرانس نہیں بھولے گی، درمیانی راستہ یہی ہے کہ فرانس کا سفیر نکالا جائے، وگرنہ سیدھا راستہ تو فرانس کے خلاف اعلان جہاد ہے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں علامہ سعد حسین رضوی نے مزید کہا کہ علامہ خادم حسین رضوی اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ 3 ماہ میں فرانس کا سفیر ملک بدر کیا جائے گا، یہ معاہدہ بڑے احتجاج، جدوجہد اور تکلیفوں کے بعد طے پایا تھا جس میں حکومتی ٹیم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ فرانسیسی سفیر کو نکالنے کا بل پارلیمنٹ سے پاس کروائے گی لیکن افسوس اب تک حکومتی ٹیم بل پیش کرنا تو دور کی بات بل تیار بھی نہیں کرسکی۔


انہوں ںے کہا کہ علامہ خادم رضوی کی خواہش تھی کہ فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی اس کا جواب بھی سرکاری سطح پر دیا جائے، حکومت نے کہا کہ فرانس کی مصنوعات کا سرکاری بائیکاٹ کیا جائے گا، وہ بھی نہیں کیا گیا، عاشقان رسول جان لیں کہ اب میڈیا پر فرانس سے تعلقات ختم کرنے کے نقصانات بتائے جائیں گے، پروپیگنڈا کیا جائے گا اگر فرانس کا سفیر نکالا تو وہ تمام ممالک ہم سے تعلق ختم کر دیں گے لیکن اب تقریری پروپیگنڈوں میں آکر ناموس رسالت کے ساتھ غداری نہیں کی جائے گی۔

ٹی ایل پی کے سربراہ نے کہا کہ عوام آنکھیں کھول لے اگر حکومت رسولﷲﷺ کی وفادار ہوتی تو فرانس کا سفیر نکالنے کے لیے تحریک لبیک کو سڑکوں پر نہ نکلنا پڑتا۔
Load Next Story