پاکستان میںفحاشی پانچ چھ فیصدلوگوں کا مسئلہ ہےضیاالدین
چینلزکا ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے:ماریہ واسطی’ٹودی پوائنٹ میں شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو۔
چینلزکا ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے:ماریہ واسطی’ٹودی پوائنٹ میں شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو، فوٹو: فائل
ایگزیکٹوڈائریکٹر ٹریبیون ضیاالدین نے کہاہے کہ فحاشی غربت پیداکرتی ہے سب مسلمانوں کوچاہیے کہ وہ غربت ختم کریں ۔
پاکستان میں فحاشی صرف پانچ سے چھ فی صد لوگوں کا مسئلہ ہے ۔لندن میںرہنے والا عام مسلمان شراب نہیںپیتا، مساجدبھری رہتی ہیںوہ شریعت کے قوانین کا احترام کرتے ہیں ۔پروگرام ٹودی پوائنٹ میں اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ سے گفتگومیں انھوں نے کہاکہ لندن میں ایک بہت بڑے بشپ سے ملاقات ہوئی تواس نے کہاکہ شریعت نافذہونی چاہیے ۔پتہ نہیں کیوں پاکستان میں کچھ لوگ اسلام کے ٹھیکیداربنے ہوئے ہیں ۔
ٹی وی چینلزکاضابطہ اخلاق طے ہونا چاہیے ایک ایسا کمیشن بننا چاہیے جودیکھنے والوںکی شکایات سنے ۔تجزیہ کارانصارعباسی نے کہاکہ ٹی وی چینلز پرتمثیل کاری کے ذریعے فحاشی اورعریانی کوفروغ مل رہاہے ہرچینل کے خبرنامے میں انٹرٹینمنٹ کے نام پر گندے ڈانس دکھائے جارہے ہیں۔ہمارے گندے ڈرامے اس وجہ سے بن رہے ہیں کہ بھارتی کلچرکودکھایاگیا ۔رہنما پاکستان پیپلزپارٹی فواد چوہدری نے کہاکہ ہر سوسائٹی خود فحاشی کی کیٹگری کا معیاربناتی ہے ۔ہماری سوسائٹی زیادہ برداشت کی متحمل نہیںہسکتی ۔ جن لوگوںکوگھروں سے باہر خواتین دیکھ کر دماغ خراب ہوتاہے ان کواپنا دماغ درست کرنا چاہیے ۔
ہمارا کلچر بھارتی کلچر ہے کیونکہ کلچر خطے کا ہوتا ہے مذہب کا نہیں ہوتا۔ٹی وی اینکر نصرت جاوید نے کہاکہ ہر گھرمیں والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں اور اپنے بچوں کووقت دیں ورنہ روکنے ٹوکنے والی کوئی بات اب نہیں رہ گئی کیونکہ ایک ڈش لگی ہوئی ہے جس سے سب کچھ دیکھاجارہا ہے ۔اداکارہ ماریہ واسطی نے کہاکہ چینلزکا ضابطہ اخلاق ہوناچاہیے اور میں اس حق میں ہوں ۔بھارت کے چینلز ہم پاکستان میں چلا رہے ہیں بطور پاکستانی ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے ۔چینلز پر ضابطہ اخلاق سب کو مل کر طے کرنا چاہیے ۔
پاکستان میں فحاشی صرف پانچ سے چھ فی صد لوگوں کا مسئلہ ہے ۔لندن میںرہنے والا عام مسلمان شراب نہیںپیتا، مساجدبھری رہتی ہیںوہ شریعت کے قوانین کا احترام کرتے ہیں ۔پروگرام ٹودی پوائنٹ میں اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ سے گفتگومیں انھوں نے کہاکہ لندن میں ایک بہت بڑے بشپ سے ملاقات ہوئی تواس نے کہاکہ شریعت نافذہونی چاہیے ۔پتہ نہیں کیوں پاکستان میں کچھ لوگ اسلام کے ٹھیکیداربنے ہوئے ہیں ۔
ٹی وی چینلزکاضابطہ اخلاق طے ہونا چاہیے ایک ایسا کمیشن بننا چاہیے جودیکھنے والوںکی شکایات سنے ۔تجزیہ کارانصارعباسی نے کہاکہ ٹی وی چینلز پرتمثیل کاری کے ذریعے فحاشی اورعریانی کوفروغ مل رہاہے ہرچینل کے خبرنامے میں انٹرٹینمنٹ کے نام پر گندے ڈانس دکھائے جارہے ہیں۔ہمارے گندے ڈرامے اس وجہ سے بن رہے ہیں کہ بھارتی کلچرکودکھایاگیا ۔رہنما پاکستان پیپلزپارٹی فواد چوہدری نے کہاکہ ہر سوسائٹی خود فحاشی کی کیٹگری کا معیاربناتی ہے ۔ہماری سوسائٹی زیادہ برداشت کی متحمل نہیںہسکتی ۔ جن لوگوںکوگھروں سے باہر خواتین دیکھ کر دماغ خراب ہوتاہے ان کواپنا دماغ درست کرنا چاہیے ۔
ہمارا کلچر بھارتی کلچر ہے کیونکہ کلچر خطے کا ہوتا ہے مذہب کا نہیں ہوتا۔ٹی وی اینکر نصرت جاوید نے کہاکہ ہر گھرمیں والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں اور اپنے بچوں کووقت دیں ورنہ روکنے ٹوکنے والی کوئی بات اب نہیں رہ گئی کیونکہ ایک ڈش لگی ہوئی ہے جس سے سب کچھ دیکھاجارہا ہے ۔اداکارہ ماریہ واسطی نے کہاکہ چینلزکا ضابطہ اخلاق ہوناچاہیے اور میں اس حق میں ہوں ۔بھارت کے چینلز ہم پاکستان میں چلا رہے ہیں بطور پاکستانی ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے ۔چینلز پر ضابطہ اخلاق سب کو مل کر طے کرنا چاہیے ۔