معاشی استحکام… دعوے نہیں عمل کی ضرورت

عام آدمی روز مرہ زندگی میں بنیادی سہولیات کے فقدان کا اسی طرح سامنا کر رہا ہے جس طرح وہ ماضی میں کرتا رہا ہے

عام اور متوسط طبقہ کی آمدن تو بڑھ نہیں رہی مگر مہنگائی کا گراف بلند ہونے کے باعث اس کے اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں. فوٹو:فائل

لاہور:
معاشی استحکام اور خوشحالی کا خواب جو موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے سے قبل انتخابی مہم کے دوران دکھایا تھا وہ ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ موجودہ حکومت کو عنان اقتدار سنبھالے چھ ماہ سے زائد ہو چکے ہیں مگر عام آدمی کے معاشی مسائل حل کرنے کے وعدے ابھی تک ایفا ہونے کے منتظر ہیں۔ عام آدمی روز مرہ زندگی میں بنیادی سہولیات کے فقدان کا اسی طرح سامنا کر رہا ہے جس طرح وہ ماضی میں کرتا رہا ہے اس کی زندگی میں کوئی بہتر تبدیلی نہیں آئی۔ توانائی کا بحران بدستور جاری ہے اور مستقبل قریب میں بھی اس کے خاتمے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

دوسری جانب نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 27 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری دے کر عوام کو نئے سال کا تحفہ دے کر ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ گیس کے بحران سے جہاں تجارتی اور صنعتی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے وہاں گھریلو زندگی بھی اس کا عذاب مسلسل بھگت رہی ہے۔ شہروں میں بعض علاقوں میں صورتحال اس قدر گمبھیر اور پریشان کن ہے کہ گھروں میں گیس نہ آنے کے سبب شہری متبادل ذرایع استعمال کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جس نے ان پر معاشی بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔

ملک میں معاشی سرگرمیاں کمزور ہونے کے باعث عام اور متوسط طبقہ کی آمدن تو بڑھ نہیں رہی مگر مہنگائی کا گراف بلند ہونے کے باعث اس کے اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں ۔ بے روز گاری کا عفریت بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر نوکریاں مطلوبہ تعداد میں نہ ہونے کے باعث اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بھی روز گار کی تلاش میں خوار ہو رہے ہیں۔ نجی شعبہ بھی امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث پھیل نہیں رہا جس سے روز گار کے نئے مواقع میسر نہیں آ رہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روپے کی قدر میں کمی آئی ہے اگرچہ حکومت نے ڈالر کی قیمت کم ضرور کی ہے مگر ملکی معاشی صورتحال کے تناظر میں یہ اب بھی زیادہ ہے جس سے روپے کی قدر متاثر ہو رہی ہے، روپے کے استحکام کے لیے ڈالر کی قیمت سو روپے سے کم ہونی چاہیے ۔ ڈالر کی قیمت میں تھوڑے عرصے بعد اتار چڑھاؤ سے بہت سے معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جمعرات کو اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ کی قدروں میں بالترتیب 15 پیسے اور 50 پیسے کا اضافہ ہوا اور امریکی ڈالر کی قیمت مزید 105.20 روپے سے بڑھ کر 105.35 روپے ہو گئی۔ دوسری جانب ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


ایک اطلاع کے مطابق 2013ء کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سات مرتبہ اضافہ کیا گیا جس کے باعث اشیائے خورونوش اور روز مرہ کی دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے مہنگائی کا گراف کافی اونچا چلا گیا اور عوام پر مہنگائی کا بار بڑھتا ہی گیا جس کا نتیجہ غربت اور جرائم میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ متوسط طبقہ بھی خوشحالی کی جانب بڑھنے کے بجائے غربت کی سطح کی طرف رواں ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے جس سے سرکاری اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کا کلچر زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ اگرچہ رواں ماہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی سمری مستردکر دی ہے اگر آیندہ ماہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو حکومت بھی اس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نہ بڑھنے کے باوجود پاکستان میں اس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا جواز عالمی مارکیٹ سے جوڑا جاتا ہے لیکن گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا جاتا ہے اس کا عالمی مارکیٹ سے کیا تعلق ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روپے کی قدر میں کمی آ جاتی اور درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے' علاوہ ازیں پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں بھی خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس گمبھیر صورت حال کے باعث افراط زر کی شرح بھی تیزی سے بڑھی ہے جس سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر افراط زر 5 فیصد سے بڑھ جائے تو معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور معاشی استحکام برقرار نہیں رہتا۔ ترقی یافتہ ممالک بہتر منصوبہ بندی اور مضبوط انفرااسٹرکچر کی بدولت افراط زر 5 فیصد سے بڑھنے نہیں دیتے مگر پاکستان میں کمزور انفرااسٹرکچر'کرپشن اور بدعنوانی کے باعث افراط زر اور حکومتی مالیاتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ موجودہ حکومت پر کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لیے مقررہ حد سے زائد نوٹ چھاپنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اگرچہ حکومت اس کی تردید کر رہی ہے۔ یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ مقررہ حد سے زائد نوٹ چھاپنے کا عمل معاشی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے قرضوں سے جان چھڑانے کے لیے بیان بازی کے بجائے اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنائے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ مزید اربوں ڈالر قرضہ لینے سے ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جائے گا اور ملکی معیشت قرضوں کے نرغے سے باہر نہیں نکل سکے گی۔ اخباری خبر کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض کی دوسری قسط موصول ہونے کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح 8 ارب 52 کروڑ 14 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے کشکول توڑنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس وعدے کے برعکس کشکول میں مزید قرضے ڈالے جا رہے ہیں۔ حکومت انکم ٹیکس کا نظام بہتر بنائے' سرکاری اداروں میں کرپشن اور لوٹ مار روکے اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرے' ملکی وسائل کو بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے بروئے کار لائے تو ملک کی معاشی حالت بہتری کی جانب رواں دواں ہو جائے گی اور حکومت کو غیر ملکی قرضے لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ ملکی معاشی پالیسیاں درست سمت رواں رکھنے کے لیے دعوے نہیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
Load Next Story