سی این جی کی بندشبسوں کی کمی سے مسافروں کو مشکلات

پٹرول پر چلنے والے رکشا اور ٹیکسی ڈرائیور شہریوں سے منہ مانگے کرایے وصول کرنے میں مصروف،سماجی اورمعاشی سرگرمیاں متاثر

پبلک ٹرانسپورٹ میں کمی سے بس اسٹاپوں پر پریشان شہریوں کا رش،مسافر مجبوراً بسوں کی چھتوں پرسفرکررہے ہیں ۔ فوٹو : راشد اجمیری/ ایکسپریس

لاہور:
رواں ہفتے میں4 دن سی این جی کی بندش کے باعث کراچی میں شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی سے نہ صرف شہریوں کو سخت ذہنی کوفت اور دشواریوں کا سامنا ہے بلکہ اس سے شہر کی سماجی اورمعاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، جمعہ کو بھی سی این کی بندش کے باعث شہر کی شاہراہوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن اورکراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے گیس کی بندش کے خلاف کل ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رواں ہفتے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے 4 روز تک گیس کی بندش کے باعث جمعہ کو کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہوگیا، شہر کی شاہراہوں پر سی این جی سے چلنے والی بڑی بسیں، منی بسیں، کوچز اور رکشوں کی بڑی تعداد گیس کی عدم فراہمی کے باعث اسٹاپ پر ہی کھڑے رہے، شہر میں صرف پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی بڑی بسیں اور رکشے چل رہے تھے، پبلک ٹرانسپورٹ میں نمایاں کمی کے سبب بس اسٹاپس پر صبح اور رات کے اوقات میں رش دیکھنے میں آیا اور شہریوں کو آمد و رفت میں شدید پریشانی اٹھانی پڑی،مسافربسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پرمجبور تھے۔




پٹرول پر چلنے والے رکشوں اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں سے منہ مانگے کرایے وصول کیے، اس حوالے سے کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ ہفتے میں اگر 4 دن سی این جی بند ہوگی تو شہری کس طرح سفر کریں گے اور ٹرانسپورٹرز کیا کمائیں گے، انھوں نے کہا کہ بہتر تو یہ ہے کہ اگر حکومت گیس نہیں دے سکتی تو ہمیں گدھا گاڑیاں اور تانگہ دیدے، ہم ان گاڑیوں کو چلاکر شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کریں گے اور2 وقت کی روٹی بھی کمالیں گے، انھوں نے کہا کہ حکومت گیس کی بندش کے موجودہ شیڈول پر فوری طور پر نظر ثانی کرے، انھوں نے کہا کہ ہم سی این جی ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کی حمایت کرتے ہیں۔
Load Next Story