بنیادی سہولتیں فراہم کرنیوالے ادارے میٹروپولیٹن کارپوریشنز کو منتقل اتحادی ناراض
پراپرٹی ٹیکس کی وصولی وشرح کا تعین،اربن و لینڈ پلاننگ واٹر سپلائی سمیت دیگر شعبے شامل ہیں
پراپرٹی ٹیکس کی وصولی وشرح کا تعین،پرائمری اسکولز،ہیلتھ مراکز،اسپورٹس،ماس ٹرانزٹ،اربن و لینڈ پلاننگ،پارکنگ، واٹر سپلائی سمیت دیگر شعبے شامل ہیں،آرڈیننس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا
پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اتفاق کے بعد نافذ کیے جانے والے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا نہ تو جمعے کو گزٹ ہوا اور نہ ہی اس کی کاپیاں متعلقہ محکموں کو پہنچائی گئیں۔
جس کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کے افسران جمعے کو تذبذب کا شکار رہے اور اپنی قانونی حیثیت کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہے جبکہ متعدد افسران نے دفتری امور کے دوران مختلف کاغذات پر دستخط سے بھی گریز کیا، ان افسران کا کہنا تھا کہ جب تک نئے آرڈیننس کی گزٹ کاپی ان کو نہیں مل جاتی اور نئے نظام کے تحت تبادلے وتقرریاں یا کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوجاتا وہ سرکاری امور کی انجام دہی میں احتیاط برتیں گے اور روز مرہ کے امور نمٹانے پر ہی توجہ مرکوز رکھیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت نیا آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے ضروری نوٹیفکیشن جمعے کو جاری نہیں ہوسکا۔
اس سلسلے میں افسران مستقل طور پر گورنر ، وزیراعلیٰ ہاؤس ، چیف سیکریٹری آفس اور محکمہ بلدیات کے آفس میں مستقل رابطے کرتے رہے تاکہ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد متعلقہ نوٹیفکیشن حاصل کرسکیں لیکن اس حوالے سے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی متعلقہ حکام کو کوئی گائیڈ لائن دی گئی تھی ۔ دوسری جانب سندھ میں نافذ کردہ نئے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ء کے تحت میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو زیادہ تر بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کا کنٹرول دیا گیا ہے جبکہ 2001 ء اور 1979 ء کے بلدیاتی نظام کی متعدد شقوں کو نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے ۔
پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 ء کے فرسٹ شیڈول کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کی وصولی اور ان کی شرحوں کے تعین کا اختیار میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو دے دیا گیا ہے اس کے علاوہ میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کی حدود میں واقع محکمہ تعلیم کے پرائمری اسکولز ، محکمہ صحت کے بنیادی ، دیہی اور شہری ہیلتھ مراکز ، (بی ایچ یوز ، آر ایچ یوز اور یو ایچ یوز ) ، چائلڈ اینڈ وومن ہیلتھ کے امور ، اینٹی انکروچمنٹ سیل کی بعض شقوں ، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی ضلعی سڑکیں اور عمارتیں بھی میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کے پاس ہوں گی ۔
ان کے علاوہ شہری دفاع ، کمیونٹی ڈیولپمنٹ اینڈ آرگنائزیشن ، ان لینڈ فشریز ، سماجی بہبود ، کھیل اور اسپورٹس بورڈز ، لوکل گورنمنٹ سے متعلق فنانس ، بجٹ اینڈ اکاؤنٹس ، کے ایم سی اور کے ڈی اے کی لینڈ اور پلاننگ ، پلاننگ اینڈ پارکنگ ، ماس ٹرانزٹ ، میٹرول پولیٹن کارپوریشن کی حدود کے اندر ماسٹر پلان ، اربن پلاننگ ، لینڈ یوزر کنٹرول ، لینڈ مینجمنٹ ، پینے کا پانی ، اس کا انتظام ، ذخیرہ ، ٹریٹمنٹ پلانٹس اور ان کی ڈسٹری بیوشن ، سورس ڈیولپمنٹ ، سیوریج اور اس کا ڈسپوزل ، ڈرینج اور ان کے بورڈز میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو منتقل کیے گئے ہیں ۔ یاد رہے کہ نئے بلدیاتی آرڈیننس کو پڑھے بغیر ہی حکومت سندھ کی مختلف حلیف جماعتوں نے وزارتوں سے استعفیٰ دے کر حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے دی ہے ۔
جس کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کے افسران جمعے کو تذبذب کا شکار رہے اور اپنی قانونی حیثیت کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہے جبکہ متعدد افسران نے دفتری امور کے دوران مختلف کاغذات پر دستخط سے بھی گریز کیا، ان افسران کا کہنا تھا کہ جب تک نئے آرڈیننس کی گزٹ کاپی ان کو نہیں مل جاتی اور نئے نظام کے تحت تبادلے وتقرریاں یا کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوجاتا وہ سرکاری امور کی انجام دہی میں احتیاط برتیں گے اور روز مرہ کے امور نمٹانے پر ہی توجہ مرکوز رکھیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت نیا آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے ضروری نوٹیفکیشن جمعے کو جاری نہیں ہوسکا۔
اس سلسلے میں افسران مستقل طور پر گورنر ، وزیراعلیٰ ہاؤس ، چیف سیکریٹری آفس اور محکمہ بلدیات کے آفس میں مستقل رابطے کرتے رہے تاکہ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد متعلقہ نوٹیفکیشن حاصل کرسکیں لیکن اس حوالے سے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی متعلقہ حکام کو کوئی گائیڈ لائن دی گئی تھی ۔ دوسری جانب سندھ میں نافذ کردہ نئے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ء کے تحت میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو زیادہ تر بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کا کنٹرول دیا گیا ہے جبکہ 2001 ء اور 1979 ء کے بلدیاتی نظام کی متعدد شقوں کو نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے ۔
پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 ء کے فرسٹ شیڈول کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کی وصولی اور ان کی شرحوں کے تعین کا اختیار میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو دے دیا گیا ہے اس کے علاوہ میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کی حدود میں واقع محکمہ تعلیم کے پرائمری اسکولز ، محکمہ صحت کے بنیادی ، دیہی اور شہری ہیلتھ مراکز ، (بی ایچ یوز ، آر ایچ یوز اور یو ایچ یوز ) ، چائلڈ اینڈ وومن ہیلتھ کے امور ، اینٹی انکروچمنٹ سیل کی بعض شقوں ، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی ضلعی سڑکیں اور عمارتیں بھی میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کے پاس ہوں گی ۔
ان کے علاوہ شہری دفاع ، کمیونٹی ڈیولپمنٹ اینڈ آرگنائزیشن ، ان لینڈ فشریز ، سماجی بہبود ، کھیل اور اسپورٹس بورڈز ، لوکل گورنمنٹ سے متعلق فنانس ، بجٹ اینڈ اکاؤنٹس ، کے ایم سی اور کے ڈی اے کی لینڈ اور پلاننگ ، پلاننگ اینڈ پارکنگ ، ماس ٹرانزٹ ، میٹرول پولیٹن کارپوریشن کی حدود کے اندر ماسٹر پلان ، اربن پلاننگ ، لینڈ یوزر کنٹرول ، لینڈ مینجمنٹ ، پینے کا پانی ، اس کا انتظام ، ذخیرہ ، ٹریٹمنٹ پلانٹس اور ان کی ڈسٹری بیوشن ، سورس ڈیولپمنٹ ، سیوریج اور اس کا ڈسپوزل ، ڈرینج اور ان کے بورڈز میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو منتقل کیے گئے ہیں ۔ یاد رہے کہ نئے بلدیاتی آرڈیننس کو پڑھے بغیر ہی حکومت سندھ کی مختلف حلیف جماعتوں نے وزارتوں سے استعفیٰ دے کر حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے دی ہے ۔