مشرف کے بیان پر فوج کا ردعمل کیوں نہیں آیا پیپلز پارٹی کا سینیٹ میں سوالخواجہ آصف جواب دے چکے ظفر الح?
شکوک وشبہات پیدا ہوئے، فرحت بابر، آئی ایس پی آرکے الگ بیان کی ضرورت نہیں، قائد ایوان
حکومت کی جانب سے بیان تو آیا لیکن آئی ایس پی آر کی جانب سے موقف سامنے نہیں آسکا ۔فوٹو:فائل
KARACHI:
سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے رکن فرحت اللہ بابر نے سوال اٹھایا ہے کہ فوج کی حمایت کے پرویز مشرف کے دعوے پر آئی ایس پی آر نے اپنا موقف کیوں ظاہر نہیں کیا جبکہ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے انھیں جواب دیا ہے کہ وزیردفاع نے اس حوالے سے بیان دیا ہے ، ان کا بیان آئی ایس پی آر کا بیان ہی تصور کیا جائے۔
جمعے کو پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے نکتہ اعتراض پر بتایا کہ پرویز مشرف نے اپنے خلاف غداری کے مقدمے کی کارروائی سے قبل بیانات دیئے تھے کہ فوج کے سابق سربراہ کو اگر غداری کے مقدمے میں گھسیٹا جائے تو فوج بطور ادارہ یہ برداشت نہیں کرے گی، ان بیانات کے بعد ہمیں توقع تھی کہ آئی ایس پی آرکی جانب سے بیان سامنے آئیگا ، حکومت کی جانب سے بیان تو آیا لیکن آئی ایس پی آر کی جانب سے موقف سامنے نہیں آسکا ۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن کے سیاسی بیان پر موقف دینے میں کوئی تاخیر نہیں کی تھی لیکن جنرل مشرف کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا ، اس پر ہمیں تشویش کیساتھ شکوک وشبہات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ فوج بطور ادارہ مشرف کے ٹرائل کیخلاف ہے۔
قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے اپوزیشن رکن کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر وزیر دفاع کا بیان آچکا ہے کہ فوج میں مشرف کے ٹرائل پر کوئی ردعمل نہیں ، فوج حکومت کا حصہ ہے، آئی ایس پی آر کے الگ بیان کی ضرورت نہیں، فوج کو اس طرح کے معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ امن وامان کے حوالے رضاربانی کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی تسلی بخش نہیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی وجہ سے کارخانے بند ہو چکے ہیں، آئی این پی کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے وفاقی کابینہ کیلیے باتھ روم کیبنٹ کا لفظ کارروائی سے حذف کرادیا۔
پیپلزپارٹی کے سینیٹر بابر اعوان نے بتایا کہ انتخابی نتائج کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد میں گیس بند کرکے یہاں کے شہریوں سے بدلہ لیا جارہا ہے ، وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت انوشہ رحمن نے ایوان کو بتایا کہ یو ایس ایف فنڈ کے استعمال کا مقصد تبدیل نہیں ہوا ، 2013-14ء کے منصوبوں کیلیے پہلی قسط جاری کر دی گئی ہے، وزیر مملکت سائر افضل تارڈ نے بتایا کہ صوبوں کے میڈیکل کالجز میں اسلام آباد کے طلبہ کیلیے کوئی کوٹہ مختص نہیں۔
سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے رکن فرحت اللہ بابر نے سوال اٹھایا ہے کہ فوج کی حمایت کے پرویز مشرف کے دعوے پر آئی ایس پی آر نے اپنا موقف کیوں ظاہر نہیں کیا جبکہ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے انھیں جواب دیا ہے کہ وزیردفاع نے اس حوالے سے بیان دیا ہے ، ان کا بیان آئی ایس پی آر کا بیان ہی تصور کیا جائے۔
جمعے کو پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے نکتہ اعتراض پر بتایا کہ پرویز مشرف نے اپنے خلاف غداری کے مقدمے کی کارروائی سے قبل بیانات دیئے تھے کہ فوج کے سابق سربراہ کو اگر غداری کے مقدمے میں گھسیٹا جائے تو فوج بطور ادارہ یہ برداشت نہیں کرے گی، ان بیانات کے بعد ہمیں توقع تھی کہ آئی ایس پی آرکی جانب سے بیان سامنے آئیگا ، حکومت کی جانب سے بیان تو آیا لیکن آئی ایس پی آر کی جانب سے موقف سامنے نہیں آسکا ۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن کے سیاسی بیان پر موقف دینے میں کوئی تاخیر نہیں کی تھی لیکن جنرل مشرف کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا ، اس پر ہمیں تشویش کیساتھ شکوک وشبہات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ فوج بطور ادارہ مشرف کے ٹرائل کیخلاف ہے۔
قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے اپوزیشن رکن کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر وزیر دفاع کا بیان آچکا ہے کہ فوج میں مشرف کے ٹرائل پر کوئی ردعمل نہیں ، فوج حکومت کا حصہ ہے، آئی ایس پی آر کے الگ بیان کی ضرورت نہیں، فوج کو اس طرح کے معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ امن وامان کے حوالے رضاربانی کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی تسلی بخش نہیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی وجہ سے کارخانے بند ہو چکے ہیں، آئی این پی کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے وفاقی کابینہ کیلیے باتھ روم کیبنٹ کا لفظ کارروائی سے حذف کرادیا۔
پیپلزپارٹی کے سینیٹر بابر اعوان نے بتایا کہ انتخابی نتائج کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد میں گیس بند کرکے یہاں کے شہریوں سے بدلہ لیا جارہا ہے ، وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت انوشہ رحمن نے ایوان کو بتایا کہ یو ایس ایف فنڈ کے استعمال کا مقصد تبدیل نہیں ہوا ، 2013-14ء کے منصوبوں کیلیے پہلی قسط جاری کر دی گئی ہے، وزیر مملکت سائر افضل تارڈ نے بتایا کہ صوبوں کے میڈیکل کالجز میں اسلام آباد کے طلبہ کیلیے کوئی کوٹہ مختص نہیں۔