بیک ڈور چینل چل رہا ہے مشرف نے باہر جانا ہی ہے شیخ رشید
اگر ایک ستر سالہ شخص باہر چلا بھی جائے گا تو کون سی قیامت آجائیگی،سربراہ عوامی مسلم لیگ
اگر ایک ستر سالہ شخص باہر چلا بھی جائے گا تو کون سی قیامت آجائیگی،سربراہ عوامی مسلم لیگ فوٹو: فائل
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگر فوج پرویز مشرف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ کرچکی ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو روک نہیں سکتی۔
بیک ڈور چینل چل رہا ہے جو کامیاب ہونا ہے یا نہیں مگر مشرف نے باہر جانا ہی جانا ہے کیونکہ وہ عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام 'بات سے بات' میں میزبان ڈاکٹرماریہ ذوالفقار خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا اگر ایک ستر سالہ شخص باہر چلا بھی جائے گا تو کون سی قیامت آجائیگی ۔کوئی بھی کہیں بھی بیمار ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی ساری قیادت دل کے مریضوں کا کلب ہے۔ وہ وقت یاد کرنا چاہیے جب آصف زرداری نے ذہنی توازن درست نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ سب کو خیرمانگنی چاہیے ۔سعودی شہزادے کی آمد اپنی جگہ پر حکومت کو پیسے کی اشد ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ زبان کی وجہ سے کوئی تقسیم ہونی چاہیے۔
ایم کیو ایم مذاکرات کرنا چاہے تو پیپلزپارٹی تیار ہے کیونکہ تحفظات کو مذاکرات سے دور کیا جاسکتا ہے لیکن پیپلزپارٹی کسی بھی طور پر سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیگی۔سندھ ایک مکمل صوبہ ہے اور تمام سندھی محب وطن پاکستانی ہیں۔ پاکستان کے بہت سے دشمن ہیں جو اس وقت پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کریںگے۔ ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ آج کراچی سے لیکر لاڑکانہ تک سندھ کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ الطاف بھائی نے نئے ملک کی بات نہیں کی۔ ان کی بات کا مطلب یہ تھاکہ آج میں ہوں۔ مذاکرات کے ذریعے یہ معاملہ طے کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ صوبے کا مطالبہ الگ ملک کے مطالبے میں بدل سکتا ہے۔ سندھ میں وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے ۔ پروگرام میں تجزیہ نگار امتیازگل نے کہا کہ پاکستان میں مدارس کے حوالے سے جب بھی کوئی قانون سازی کی تجویزسامنے آتی ہے تو ہماری حکومتیں مصلحت کا شکار ہوجاتی ہیں کیونکہ جو ارکان حکومت میں شامل ہوتے ہیں وہی مدارس بھی چلارہے ہوتے ہیں ۔
بیک ڈور چینل چل رہا ہے جو کامیاب ہونا ہے یا نہیں مگر مشرف نے باہر جانا ہی جانا ہے کیونکہ وہ عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام 'بات سے بات' میں میزبان ڈاکٹرماریہ ذوالفقار خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا اگر ایک ستر سالہ شخص باہر چلا بھی جائے گا تو کون سی قیامت آجائیگی ۔کوئی بھی کہیں بھی بیمار ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی ساری قیادت دل کے مریضوں کا کلب ہے۔ وہ وقت یاد کرنا چاہیے جب آصف زرداری نے ذہنی توازن درست نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ سب کو خیرمانگنی چاہیے ۔سعودی شہزادے کی آمد اپنی جگہ پر حکومت کو پیسے کی اشد ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ زبان کی وجہ سے کوئی تقسیم ہونی چاہیے۔
ایم کیو ایم مذاکرات کرنا چاہے تو پیپلزپارٹی تیار ہے کیونکہ تحفظات کو مذاکرات سے دور کیا جاسکتا ہے لیکن پیپلزپارٹی کسی بھی طور پر سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیگی۔سندھ ایک مکمل صوبہ ہے اور تمام سندھی محب وطن پاکستانی ہیں۔ پاکستان کے بہت سے دشمن ہیں جو اس وقت پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کریںگے۔ ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ آج کراچی سے لیکر لاڑکانہ تک سندھ کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ الطاف بھائی نے نئے ملک کی بات نہیں کی۔ ان کی بات کا مطلب یہ تھاکہ آج میں ہوں۔ مذاکرات کے ذریعے یہ معاملہ طے کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ صوبے کا مطالبہ الگ ملک کے مطالبے میں بدل سکتا ہے۔ سندھ میں وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے ۔ پروگرام میں تجزیہ نگار امتیازگل نے کہا کہ پاکستان میں مدارس کے حوالے سے جب بھی کوئی قانون سازی کی تجویزسامنے آتی ہے تو ہماری حکومتیں مصلحت کا شکار ہوجاتی ہیں کیونکہ جو ارکان حکومت میں شامل ہوتے ہیں وہی مدارس بھی چلارہے ہوتے ہیں ۔