سعودیہ میں تارکین وطن کے لیے مزید رعایت
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی یکم مارچ 2014ء تک اپنے کاغذات وغیرہ درست کرا سکتے ہیں
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی یکم مارچ 2014ء تک اپنے کاغذات وغیرہ درست کرا سکتے ہیں. فوٹو: فائل
میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے غیر قانونی طور پر کام کرنے والے تارکین وطن کے لیے ان کی دستاویزات کی درستگی کی خاطر دو ماہ کی مزید رعایتی مدت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل تارکین وطن کے لیے سات مہینے کی مدت دی گئی تھی تاہم بہت سے تارکین وطن اس رعایت سے فائدہ اٹھانے سے بھی قاصر رہے جس کے بعد سعودی حکومت نے ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رعایتی مدت میں مزید اضافہ کر دیا۔ اب سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی یکم مارچ 2014ء تک اپنے کاغذات وغیرہ درست کرا سکتے ہیں۔ بہت سے ملکوں جن میں پاکستان بھی شامل ہے، نے سعودی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ مدت میں اضافہ کرے۔
اس صورت حال میں سعودی مملکت میں ان غیرملکی سفارتخانوں کے افرادی قوت والے شعبوں کو ان بے یار و مددگار پردیسیوں کے ضروری کاغذات کو مکمل کرانے میں خصوصی کردار ادا کرنا چاہیے۔ نامکمل کاغذات بالعموم جنوبی ایشیائی ممالک سے جانے والی افرادی قوت کے ہوتے ہیں جو بالعموم جعل ساز ایجنٹوں کو بھاری رقوم دے کر بیرون ممالک جاتے ہیں اور وہاں دستاویز میں سُقم کے باعث پکڑے جاتے ہیں۔ بعض غریب اپنی زمین ' مکان یا خواتین کے زیور بیچ کر ویزے اور ٹکٹ وغیرہ کی رقم ادا کرتے ہیں اور اگر انھیں اس ملک سے ''ڈی پورٹ'' کر دیا جائے تو وہ واپس وطن پہنچنے کی حالت میں بھی نہیں ہوتے۔ ہماری حکومتوں کے پالیسی سازوں خیال کے میں افرادی قوت کو باہر بھیج کر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے حالانکہ حکومت کا فرض یہ بھی ہے کہ وہ غیر ممالک میں کام کرنے والوں کی بھرپور مدد کرے۔ ہماری حکومت کا فرض ہے کہ اس طرف خصوصی توجہ دے اور سعودی عرب میں مقیم ایسے پاکستانی جن کی دستاویزات میں کوئی نقص ہے ان کی بھرپور مدد کرے۔
اس صورت حال میں سعودی مملکت میں ان غیرملکی سفارتخانوں کے افرادی قوت والے شعبوں کو ان بے یار و مددگار پردیسیوں کے ضروری کاغذات کو مکمل کرانے میں خصوصی کردار ادا کرنا چاہیے۔ نامکمل کاغذات بالعموم جنوبی ایشیائی ممالک سے جانے والی افرادی قوت کے ہوتے ہیں جو بالعموم جعل ساز ایجنٹوں کو بھاری رقوم دے کر بیرون ممالک جاتے ہیں اور وہاں دستاویز میں سُقم کے باعث پکڑے جاتے ہیں۔ بعض غریب اپنی زمین ' مکان یا خواتین کے زیور بیچ کر ویزے اور ٹکٹ وغیرہ کی رقم ادا کرتے ہیں اور اگر انھیں اس ملک سے ''ڈی پورٹ'' کر دیا جائے تو وہ واپس وطن پہنچنے کی حالت میں بھی نہیں ہوتے۔ ہماری حکومتوں کے پالیسی سازوں خیال کے میں افرادی قوت کو باہر بھیج کر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے حالانکہ حکومت کا فرض یہ بھی ہے کہ وہ غیر ممالک میں کام کرنے والوں کی بھرپور مدد کرے۔ ہماری حکومت کا فرض ہے کہ اس طرف خصوصی توجہ دے اور سعودی عرب میں مقیم ایسے پاکستانی جن کی دستاویزات میں کوئی نقص ہے ان کی بھرپور مدد کرے۔