وفاقی سرکاری ملازمین سے مذاکرات

وفاقی سرکاری ملازمین نے اپنی افرادی قوت کے بھرپور اظہار کے باعث حکومت کی توجہ حاصل کی۔

وفاقی سرکاری ملازمین نے اپنی افرادی قوت کے بھرپور اظہار کے باعث حکومت کی توجہ حاصل کی۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز

وفاقی سرکاری ملازمین کی طرف سے تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بدھ کو بھرپور احتجاج کیا گیا، ملازمین کی پولیس سے جھڑپ ہوئی، پاک سیکریٹریٹ چوک، کوہسار کمپلیکس چوک سمیت ریڈ زون میدان جنگ بنا رہا، مظاہرین سے مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے دن بھر خبریں گشت کرتی رہیں۔

حکومتی ٹیمیں ملازمین کے نمایندوں سے بریک تھرو کی متواتر کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کرتی رہیں لیکن بنیادی مطالبات کی منظوری تک مظاہرین ڈٹ گئے، ان کا کہنا تھا کہ مطالبات کی منظوری اور نوٹیفکیشن کے جاری ہونے تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

ملکی صورتحال کے پیش نظر اقتصادی مبصرین نے وفاقی سرکاری ملازمین کے احتجاج کو حکومت کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ عوام اور سرکاری ملازمین کے اضطراب اور بے چینی کے بنیادی اسباب کی جانب حکومت کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے کیونکہ معاشی مسائل اور بڑھتے ہوئے اقتصادی گرداب کے باعث مصائب سے نمٹنے کی عوام کی صلاحیت اب جواب دینے لگی ہے، معاشی مسیحاؤں کے لیے ملکی اقتصادی اور معاشی چیلنجز کے حل کے لیے آؤٹ آف باکس اقدامات ناگزیر ہیں، عوام کو ایک منجمد اقتصادی منظرنامہ کا سامنا ہے۔

لہٰذا بیروزگاری، مہنگائی اور کورونا کے مسائل کے حل کو ایک ہنگامی اقتصادی لائحہ عمل اور دیر پا معاشی میکنزم سے مشروط کیے بغیر صورتحال کی بہتری ممکن نہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی سرکاری ملازمین اپنے احتجاج کے انتہائی مرحلے میں بے بس ہو کر سڑکوں پر آئے اگر ارباب اختیار فعال حکمت عملی، ملک کو درپیش اقتصادی اور معاشی صورتحال کے مطابق مذاکرات کو احسن طریقہ سے ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دیتے اور دور اندیشی کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کے ذریعے تصفیہ ہوجاتا تو حالات ابتری کی طرف ہر گز نہ جاتے، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی صورتحال نے معاشی معاملات کو علیحدہ حکمت عملی سے منسلک کرنے میں روایتی تاخیر اور تعطل کی پالیسی کو کافی سمجھا اور لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے سرکاری ملازمین کی بے چینی کا حقیقی ادراک نہیں کیا۔

حالات بگڑ گئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشی، مالیاتی اور اقتصادی مسیحا وفاقی کابینہ، مشیروں اور معاونین کی فوج ظفر موج کو اس gethering storm کا اندازہ نہیں تھا، انھوں نے حکومت کو خدشات اور خطرات سے آگاہ کرنے میں چابکدستی، دانش مندی اور معاشی تدبر کا مظاہرہ کرنے میں کیوں تساہل سے کام لیا، ارباب اختیار کے پاس سوچنے کا اب بھی زیادہ وقت نہیں، ملک کو بے شمار اعصاب شکن مسائل درپیش ہیں۔

عوام کی اپنی صفوں میں ایک خاموش جمود کا عندیہ ملتا ہے، حکومت اس کا دوسرا جواز دیتے ہوئے اس سے لاتعلقی اور اپوزیشن کے حکومت مخالف اضطراب کے اور معنی اور مفاہیم پیش کرتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت بیروزگاری، مہنگائی اور اقتصادی دباؤ کی پیدا شدہ صورتحال پر فکرمند نہیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکمت عملی کے فقدان اور ایک منصفانہ، سبک رفتار اور ٹریکل ڈاؤن اثرات کے حامل اقتصادی ڈاکٹرائن پر فوری عملدرآمد کی عوامی ضرورت کی فکر دامن گیر ہی نہیں۔

غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک مربوط معاشی پالیسی روز اول سے ارباب اختیار کی ترجیح نہیں رہی، حکومت ڈھیر سارے سیاسی معاملات کو احتساب اور کرپشن کے بوسیدہ ٹوکرے میں ڈال کر عوام کو جمہوری مراعات کی فراہمی کی ذمے داری سے بے نیاز ہوگئی ہے۔

بہت سارے عوامی منصوبے دیگر پروگراموں کے باعث پس پست ڈال دیے گئے جس کے باعث حکومت ترتیب وار اقتصادی اور معاشی پالیسیوں پر مفید اور نتیجہ خیز عملدرآمد کے بحران میں مبتلا ہے، اقتصادی ٹیم بظاہر بیشمار معاملات میں محض ٹاک شوز کرنے میں مصروف ہے مگر عوام کو درپیش معاشی مسائل کے حل کا حکومت کے پاس کوئی تیر ب ہدف نسخہ موجود نہیں، مسائل اور چیلنجز ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔

اگر حکومت کے پاس قوم کو ایک منصفانہ، شفاف، فالٹ فری اقتصادی اور سماجی نظام دینے کا کوئی پلان ہے تو وہ وفاقی سرکاری ملازمین کے مطالبات کی منظوری اور سرکاری ملازمین سے موثر مذاکرات کی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر کیوں نہیں ہوا۔ کیا حکومتی اقتصادی ٹیم پیدا شدہ صورتحال کا کوئی منطقی عذر پیش کرسکتی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے معاشرتی فضا، سیاسی محاذ آرائی اور کشیدگی کے دھارے معاشی اضطراب سے بوجوہ گلے ملتے نظر آرہے تھے، ایک ایسی پر جوش حکومت جو تبدیلی کے دلفریب اور خوشنما عزائم کے ساتھ عوام کی تقدیر بدلنے کی خواہاں تھی اسے عوام کی خوشحالی، قلب ماہیت اور پانسہ پلٹ معاشی بریک تھرو کے لیے مزید کتنا وقت چاہیے۔

ملکی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال ایک گمبھیرتا اور پینڈورا باکس کے خدشات سے مامور ہونے کی متحمل نہیں ہوسکتی، ہر گزرنے والا وقت نئے چیلنجز کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اس سلسلہ کو حکومت اپنی عوام دوست اور مفید حکمت عملی کے ذریعے تبدیل کرنے کی تدبیر سے دل خوش کن بنا سکتی ہے، ارباب اختیار اقتصادیات کے پیچیدہ معاملات اور عوام کو درپیش معاشی مسائل کے ادراک کی بہت ہی درد ناک سرحد پر ہے، عوامی اضطراب، بیروزگاری اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث غربت زدہ لوگ بہت ہی مشکل میں ہیں، ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔


عوام کے دکھ بڑھتے ہی جا رہے ہیں، گیس، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے، ایسی سنگدلی اور بیدردی جمہوریت کے لیے مناسب نہیں، عوام ایک بہتر معاشی نظام کے منتظر ہیں، اعلانات اور وعدوں کا وقت نہیں، عوام ثمرات چاہتے ہیں، مہنگائی اور بیروزگاری نے ان کے لیے جینے کی امنگ، تمناؤں کی تڑپ اور آس بھی چھین لی ہے، معاشی مسیحاؤں کو کچھ کر دکھانا چاہیے، بیانات اور الزام تراشی کے بجائے ٹھوس معاشی پروگراموں کی تکمیل ہونی چاہیے، حکومت کے ٹربل شوٹرز کہاں ہیں؟ عوام کے معاشی مسائل کب حل ہوں گے۔

معاشی مسائل کا حل مائیکرو اور میکرو معاشی شرح نمو میں مضمر ہے، اگر معیشت مستحکم ہو رہی ہے تو اس کے نتائج قوم کو نظر آنے چاہئیں، سرکاری ملازمین، نجی اداروں کے ملازمین، کسان، دہاڑی دار، اجرتی مزدور ریلیف کے منتظر ہیں، تعلیم یافتہ نوجوان پریشان حال ہیں، انجینئر، ماہر دستکار اور روزگار کی تلاش میں خواتین معاونت اور ملازمت کے انتظار میں ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وفاقی سرکاری ملازمین نے اپنی افرادی قوت کے بھرپور اظہار کے باعث حکومت کی توجہ حاصل کی، مگر 22 کروڑ آبادی والے اس ملک میں غریب الوطنوں پر بھی رحم کھائیے، فہمیدہ حلقوں نے صائب رائے دی ہے کہ مسئلہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے پیدا ہونے والے معاشی تناؤ کا ہے، یہ سلسلہ دراز ہوا تو معاملات اور بھی پریشان کن ہوسکتے ہیں۔

میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نے تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔ وفاقی وزرا شیخ رشید، پرویز خٹک اور محمد علی خان نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت 40 فیصد الاؤنس دینے کے لیے تیار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمین گزشتہ کئی مہینوں سے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں، بدھ کو احتجاج میں صوبوں سے آنیوالے ملازمین نے شرکت کرنا تھی اور اعلان کیا گیا تھا کہ سرکاری امور ٹھپ کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

دوسری جانب پولیس نے منگل کو رات گئے کریک ڈاؤن کرکے سرکاری ملازمین تنظیموں کے مرکزی عہدیداروں کے گھروں پر چھاپے مار کر انھیں گرفتار کر لیا جس میں سی ڈی اے مزدور یونین کے بعض عہدیدار بھی شامل ہیں جب کہ پاک سیکریٹریٹ میں احتجاج کرنے والے ملازمین کی گرفتاریاں بھی شروع کر دی گئیں۔

ملازمین پاک سیکریٹریٹ کے باہر شاہراہ دستور پر سیکریٹریٹ چوک پر احتجاج اور نعرہ بازی کرتے رہے، انھوں نے پاک سیکریٹریٹ کے تمام بلاکس کے مرکزی دروازے بند کر دیے، ملازمین کے احتجاج میں شدت آنے پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور سیکڑوں ملازمین کو گرفتار کر لیا، پولیس نے بار بار آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے کچھ دیر کے لیے مظاہرین منتشر ہو جاتے مگر پھر دوبارہ سڑکوں پر آ جاتے۔

شیلنگ کے جواب میں مظاہرین پولیس پر پتھراؤ اور آنسو گیس کے شیل اٹھا کر واپس پھینکتے رہے، صبح نو سے شام ساڑھے چار بجے تک شاہراہ دستور، پاک سیکریٹریٹ چوک، کوہسار کمپلیکس چوک میدان جنگ بنا رہا۔

مظاہرین نے کیبنٹ بلاک کا مرکزی دروازہ توڑ دیا، پولیس کی شیلنگ سے کئی ملازمین جب کہ مظاہرین کے پتھراؤ سے بعض پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ٓ احتجاج کے باعث جڑواں شہروں میں بدترین ٹریفک جام رہا، اہم شاہرائیں اور موٹروے بند ہونے سے شہری گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ملازمین نے مین سری نگر ہائی وے دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بلاک کر دی۔ ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی سیکریٹریٹ کے ملازمین نے دارالحکومت کی تاریخ میں پہلی بار پرتشدد مظاہرہ کیا جس کی وجہ بظاہر حکومت کی جانب سے ان کے تنخواہوں کے مسئلے سے غلط طریقے سے نمٹنا تھا۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے آخری تین اجلاسوں کے دوران متعدد وفاقی وزارتوں پر مشتمل پاک سیکریٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پرویز خٹک، شیخ رشید اور علی محمد خان نے امید ظاہر کی کہ رات گئے ہونے والی ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کامیاب ہوگئی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کے مسائل حل کرے۔ حکومت معیشت کو بند گلی میں نہ جانے دے ، اسی میں ملک کا مفاد ہے۔
Load Next Story